سیرتِ نبی ٔ کریم ؐ کی اس خصوصی سیریز میں آج فدک اور وادی ٔ تیماء کے بارے میں پڑھئے اور وہ واقعہ بھی ملاحظہ کیجئے جب تیماء سے مدینہ منورہ واپسی کے سفر میں نماز فجر کے وقت تمام لوگ مشیت ِ الٰہی سے سوتے رہ گئے اور نماز قضا ہوگئی
EPAPER
Updated: March 03, 2023, 11:08 AM IST | Maulana Nadeem Al-Wajdi | Mumbai
سیرتِ نبی ٔ کریم ؐ کی اس خصوصی سیریز میں آج فدک اور وادی ٔ تیماء کے بارے میں پڑھئے اور وہ واقعہ بھی ملاحظہ کیجئے جب تیماء سے مدینہ منورہ واپسی کے سفر میں نماز فجر کے وقت تمام لوگ مشیت ِ الٰہی سے سوتے رہ گئے اور نماز قضا ہوگئی
اہل فدک کا مطالبہ
خیبر کے جنوب مشرق میں مدینے سے دور فدک ایک سرسبز وشاداب علاقہ تھا۔ اس جگہ یہودی آباد تھے۔انہیں جب خیبر کے یہودیوں کا حال معلوم ہوا تو انہوں نے بھی حضرت مَحیصہ بن مسعودؓ کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ کہلا بھیجا کہ ان کی بھی جاں بخشی کی جائے، اور انہیں باہر جانے دیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل فدک کی یہ پیشکش قبول کرلی، اس طرح یہ زمین کسی لڑائی کے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ آگئی، کیوں کہ فدک بغیر کسی جدوجہد کے خود بہ خود فتح ہوگیا، اس کے لئے کسی لشکر کشی کی ضرورت پیش نہیں آئی اس لئے یہ تمام مفتوحہ علاقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تصرف میں رہا۔ مال غنیمت کے طور پر تقسیم نہیں ہوا، یہ بالکل ایسا ہی تھا جیسے بنی نضیر کے چھوڑے ہوئے کچھ باغات آپؐ نے اپنے لئے مخصوص کرلئے تھے، ان باغات کی آمدنی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل وعیال کی ضرورتیں پوری کرتے تھے اور اپنے قرابت داروں کی مدد بھی کیا کرتے تھے، جو کچھ بچتا تھا اسے اللہ کی راہ میں خرچ کردیا کرتے تھے۔ دنیا سے پردہ فرمانے تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی معمول رہا۔ آپؐ کے اس معمول سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بنو نضیر کے نخلستان اور فدک کے باغات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت تھے، البتہ آپؐ کو ان میں تصرف کرنے کا پورا اختیار حاصل تھا۔
وادیٔ قُری
فدک کے معاملات سے فارغ ہوکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادیٔ قُری کا رخ فرمایا۔ یہاں یہودیوں کی کچھ بستیاں آباد تھیں، کچھ عرب بھی یہاں رہ رہے تھے۔ وہاں پہنچ کر سب سے پہلے آپؐ نے وہاں کے باشندوں کو اسلام کی دعوت دی لیکن جواب میں انہوں نے تیر برسانے شروع کردیئے جس سے ظاہر ہوتا ہےکہ وہ جنگ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے تیروں کی زد میں آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک غلام مِدْعَم شہید ہوگئے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ سے فرمایا کہ وہ جنگ کے لئے تیار ہوجائیں اور صفیں بنالیں، ایک جھنڈا حضرت سعد بن عبادہ بن الصامتؓ کو، دوسرا حباب ابن المنذرؓ کو، تیسرا سہل بن حنیفؓ کو اور چوتھا حضرت عباد بن بشرؓ کو دیا گیا۔ صفیں درست کرنے کے بعد بستی کے لوگوں سے کہا گیا کہ وہ اسلام قبول کرلیں، لیکن انہوں نے یہ بات قبول نہیں کی، بلکہ شخصی مقابلے کے لئے ایک شخص کو بھیج دیا، جس کو حضرت زبیر بن العوامؓ نے قتل کردیا، دوسرا آیا اسے بھی حضرت زبیرؓ نے موت کے گھاٹ اتار دیا، تیسرے کو حضرت علیؓ نے نمٹا دیا، اس طرح یکے بعد دیگرے ان کے گیارہ آدمی مارے گئے۔ آپؐ ہر قتل کے بعد ان کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتے۔ اس دوران اگر کسی نماز کا وقت آجاتا تو آپؐ نماز باجماعت بھی ادا فرماتے۔ پورے دن یہی سلسلہ چلتا رہا، اگلے دن ابھی سورج نے اپنے سفر کا تھوڑا ہی حصہ طے کیا تھا کہ مسلمانوں نے فتح حاصل کرلی، دشمنوں نے جو کچھ ان کے پاس تھا وہ چھوڑ دیا جس پر مسلمانوں نے قبضہ کرلیا۔ یہ مال غنیمت وہیں مجاہدین میں تقسیم کردیا گیا۔ یہودیوں کی درخواست پر زمینیں اور باغات نصف پیداوار کی شرط پر ان کے پاس رہنے دی گئیں، یہاں آپؐ نے اپنا ایک عامل مقرر فرمادیا۔ (زاد المعاد: ۳/۲۵۶، ۲۵۷، اصح السیر: ۲۱۰، ۲۱۱)۔
وادیٔ تَیْمَاء
یہاں سے فارغ ہوکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادی تیماء کی طرف بڑھے۔ یہاں کے لوگوں کو وادئ قری، فدک اور خیبر کے یہود کے ساتھ معاملات کا علم ہوچکا تھا اسلئے وہ فوراً ہی مصالحت پر آمادہ ہوگئے۔ ان کے ساتھ کوئی تعرض نہیں کیا گیا، زمینیں اور باغات نصف پیداوار کی شرط کے ساتھ یہودیوں کے پاس رہنے دی گئیں۔
ان چاروں علاقوں میں یہ صورت حال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک برقرار رہی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے بھی یہودیوں کے ساتھ معاملات اسی طرح باقی رکھے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں تھے البتہ حضرت عمر فاروقؓ نے ملکی مصالح کی بنا پر خیبر اور فدک کے یہودیوں کو یہاں سے نکال دیا بلکہ جزیرۃ العرب سے ہی باہر کردیا، البتہ وادیٔ قری اور تیماء کے یہودیوں کو اپنی جگہ برقرار رکھا۔ حضرت عمرؓ کے نزدیک فدک اور خیبر کی زمینیں جزیرۃ العرب میں داخل ہیں، وادیٔ قری اور تیماء کے علاقے ارض شام میں داخل ہیں۔ (زاد المعاد: ۳/۲۵۷، البدایہ والنہایہ: ۲/۴۱۲، ۴۱۳، تاریخ الطبری: ۳/۹۱)
مدینے کی طرف مراجعت
اور فجر کی نماز
وادئ تیماء کے انتظامات سے فارغ ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے کی طرف واپسی کا حکم دیا۔ ایک مقام پر نیند کا غلبہ ہوا، رات کافی ہوچکی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مناسب سمجھا کہ آگے نہ بڑھا جائے اور اسی جگہ شب گزار لی جائے۔ حضرت بلالؓ کو صبح فجر کی نماز کے لئے بیدار کرنے کی ذمہ داری دی گئی، جو انہوں نے خوشی کے ساتھ قبول کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام صحابہ مسلسل سفر سے تھکے ہوئے تھے، لیٹتے ہی نیند کی آغوش میں چلے گئے۔ حضرت بلالؓ کچھ دیر تو نماز پڑھتے رہے، پھر اپنی سواری سے ٹیک لے کر بیٹھ گئے، ان کو بھی نیند آگئی، فجر کے وقت کسی کی بھی آنکھ نہیں کھلی، نہ آپؐ اٹھے، نہ بلال اور نہ دوسرے صحابہؓ، جب سورج تھوڑا اوپر اٹھا اور اس کی تمازت کا اثر محسوس ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر اٹھے، اور بلالؓ کو آواز دی، حضرت بلالؓ نے معذرت کرتے ہوئے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں جو چیز آپؐ پر غالب تھی وہی مجھ پر غالب آگئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا یہاں سے جلد از جلد نکلنے کی کوشش کی جائے، اس وادی میں شیاطین کا بسیرا ہے، تمام لوگ وہاں سے نکلے، دوسری جگہ پہنچ کر رُکے، آپؐ نے فرمایا: یہاں وضو کرکے نماز پڑھ لو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی سنتیں پڑھیں، حضرت بلالؓ نے اقامت کہی، آپؐ نے نماز پڑھائی۔
نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا: اے لوگو! اللہ نے ہماری روحیں قبض کرلی تھیں، وہ چاہتا تو ہماری روحوں کو پہلے بھی واپس کرسکتا تھا، مگر اس نے نہیں چاہا، اگر سونے کی وجہ سے تمہاری نماز چھوٹ جائے یا تم نماز پڑھنی بھول جاؤ تو جب بیدار ہو یا یاد آجائے تو اسے اسی طرح ادا کرو جس طرح مقررہ وقت پر ادا کرتے ہو۔ اس کے بعد آپؐ حضرت ابوبکرؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا: بلالؓ نماز پڑھ رہے تھے کہ شیطان نے آکر انہیں لٹا دیا، وہ انہیں اس طرح تھپکیاں دے دے کر سلا رہا تھا جس طرح کوئی ماں اپنے بچے کو تھپک تھپک کر سلاتی ہے، پھر آپ نے حضرت بلالؓ کو بلاکر یہی بات فرمائی۔(صحیح مسلم: ۳/۴۴۹، رقم الحدیث: ۱۰۹۷، سنن ابی داؤد: ۲/۲۶، رقم الحدیث: ۳۷۱)
بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ فجر کے وقت نیند آجانے اور آنکھ نہ کھلنے کا قصہ حدیبیہ سے واپسی کے موقع پر پیش آیا، بعض کے نزدیک یہ واقعہ غزوۂ تبوک سے واپسی کا ہے، اصل بات یہ ہے کہ اس قصے کے راوی حضرت عمران بن حصینؓ ہیں، انہوں نے قصہ تو بیان کیا ہے، لیکن یہ نہیں بتلایا کہ یہ واقعہ کب پیش آیا تھا، یا کس غزوے میں پیش آیا تھا، حضرت ابوقتادہؓ کی روایت میں بھی مجمل بیان ہے، ایک راوی زید بن اسلم کہتے ہیں کہ یہ واقعہ مکہ مکرمہ سے واپسی پر پیش آیا، مگر یہ حدیث مرسل ہے، البتہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے حدیبیہ کی تحدید کے ساتھ بیان کیا ہے، اس میں بھی حضرت بلالؓ کا ذکر ہے۔ بہرحال روایات مختلف ہیں، اسی لئے محدثین کہتے ہیں کہ ہوسکتا ہے یہ واقعہ دو مرتبہ پیش آیا ہو، اور ایسا ہونا کچھ بعید نہیں ہے۔ (زاد المعاد: ۳/۲۵۸، ۲۵۹)
اس واقعے میں باری تعالیٰ کی متعدد حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی نمازیں غفلت کی وجہ سے قضا نہیں ہوتیں اور نہ غفلت کی وجہ سے انہیں نمازوں میں سہو ہوتا ہے، بلکہ امت کی تعلیم اور اس کی سہولت کے لئے من جانب اللہ ایسا ہوا کہ وہ سوئے رہ گئے، ایسا اس لئے ہوا کہ امت کو قضا نمازوں کے مسائل معلوم ہوجائیں۔ اسی طرح ایک مرتبہ آپؐ نے عصر یا ظہر کی دو یا تین رکعتوں پر سلام پھیر دیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو امت کو سجدۂ سہو کے احکام کیسے معلوم ہوتے۔ اللہ نے ان کے سہو اور نسیان کو بھی تشریع احکام کا ذریعہ بنا دیا، اسی طرح اگر یہ سہو اور نسیان نہ ہوتا تو امت کو استغفار کی سنت کہاں سے معلوم ہوتی۔ اس واقعے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جہاں اس طرح کا ذہول اور غفلت ہوجائے تو اس جگہ کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ منتقل ہوجانا چاہئے۔
(سیرۃ المصطفےٰ: ۲/۴۴۷، ۴۴۸)
انصار کے عطیات کی واپسی
خیبر سے واپس آئے تو مہاجرین اور انصار کے پاس مال غنیمت وافر مقدار میں تھا، اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے فضل وکرم اور عطا وبخشش کے دروازے کھول دئے تھے، خاص طور پر مہاجرین کے لئے یہ دن نہایت خوش کن ثابت ہوا، ابھی چھ سات برس پہلے جب وہ اس دیار میں آئے تھے بالکل خالی ہاتھ تھے، خود قرآن کریم نے انہیں فقراء مہاجرین کہا تھا۔ یاد کیجئے مواخات کا وہ منظر صدیوں کی تاریخ میں جس کی مثال نہیں ملتی اور نہ آنے والی سیکڑوں صدیوں میں اس کی کوئی مثال ملے گی، مدینے کے انصار بھائیوں نے اپنے مہاجر بھائیوں کا دل وجان سے استقبال کیا، اور انہیں اس طرح گلے لگایا کہ حقیقی بھائی بھی شاید اس یگانگت اور اپنائیت سے پیش نہ آئے ہوں، بہت سے انصار کے پاس کھجور کے باغات تھے، انہوں نے اپنے باغات کے آدھے درخت ان مہاجر بھائیوں کو دے یدئے تاکہ وہ ان سے اپنا گزر بسر کرسکیں اور آدھے اپنے پاس رکھ لئے۔(جاری)