جب کتاب کے حرف و لفظ خود بولنے لگتے ہیں

Updated: September 27, 2020, 4:18 AM IST | Sahabzada Khurshid Ahmed Gilani

بیسیوں احباب ذاتی طور پر مل کر اور درجنوں لوگ خطوط لکھ کر مجھ سے پوچھتے رہتے ہیں کہ اچھی تحریر کا فن اور خوب صورت تقریر کا ہنر کیسے ہاتھ آتا ہے؟

Book - Pic : INN
کتابیں ۔ تصویر : آئی این این

یہ وہ لوگ ہیں جنہیں تحریر اور تقریر کے شعبے میں دلچسپی ہوتی ہے، یہ دلچسپی بھی آج کے دور میں غنیمت ہے، ورنہ آج کے نوجوانوں کو کرکٹ اور پاپ میوزک سے فرصت ہی کب ہے؟
ان کا متعین سوال یہ ہوتا ہے کہ تحریر و تقریر میں حسن پیدا کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ میرا اس سلسلے میں ہمیشہ یہی جواب رہا ہے کہ ’’مطالعہ‘‘۔  مطالعہ کے بغیر لکھنے میں نکھار آتا ہے نہ بولنے میں سنوار۔ اگلا سوال یہ ہوتا ہے کہ کتنا، کس طرح کا اور کتنی دیر مطالعہ کرنا چاہئے؟ میرے نزدیک ان تین سوالوں کے تین ہی جوابات ہیں: ’’کتنا مطالعہ‘‘ کے جواب میں عرض کروں گا کہ’’ذوق مطالعہ‘‘ اصل بات ہے، اگر یہ پیدا ہو جائے تو نہ دماغ تھکتا ہے اور نہ دل بھرتا ہے، اچھی کتاب سے لے کر کاغذ کی اس پڑیا تک جس میں آدمی ہلدی مرچ لے کر آتا ہے سبھی ایک نظر دیکھنے کو جی چاہتا ہے، اگر ذوق نہ ہو تو کتاب سامنے بھی دھری ہو تو یا اباسی آنے لگتی ہے یا تھکن طاری ہو جاتی ہے یا سر بوجھل محسوس ہونے لگتا ہے، جس طرح دیوار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس سے بھی مشورہ کر لینا چاہئے، اسی طرح کاغذ کا ہر ٹکڑا ایک نظر کا ضرور مستحق ہوتا ہے، ذوق مطالعہ کی یہ قطعاً دلیل نہیں کہ آراستہ و پیراستہ کمرہ ہو، چمک دار جلد کی کتابیں ہوں، چار رنگی طباعت ہو اور آرام دہ کرسی اور صاف شفاف میز ہو، جنہیں قدرت نے ذوق مطالعہ سے نوازا ہے، وہ گلی میں لگے بلب کی روشنی میں بھی اس کی تسکین کر لیتے ہیں، جنہیں مطالعہ سے وحشت ہو وہ ڈرائنگ روم کے قیمتی فانوس سے بھی کوئی استفادہ نہیں کر پاتے۔
 اگلا سوال ہے کہ’’کس طرح کا مطالعہ کرنا چاہئے؟‘‘ اس کا جواب یہ ہے کہ’’وسعت مطالعہ‘‘ موضوع اور کتاب کے انتخاب کا مرحلہ بہت دیر بعد آتا ہے، پہلے ہرنوع کی کتاب پڑھنی چاہئے، اخباری مضامین سے لے کر ٹھوس تحقیقی مواد تک سبھی کا مطالعہ ناگزیر ہے، ایک مدت کے بعد یہ ذوق پیدا ہوتا ہے کہ کتاب دیکھ کر یا سونگھ کر اس کا پورا متن سمجھ میں آجائے، ابتدائی مراحل میں رطب و یابس کی کوئی قید نہیں رکھنی چاہئے، مطالعہ میں وسعت آئے گی تو انتخاب کی نوبت آ سکے گی، درجنوں کتابوں میں سے ایک آدھ کا مواد ذہن میں اترے گا، ڈائنگ ٹیبل پر بہت سے کھانے سجے ہوں گے تو ایک دو پر دل آئے، اگر کھانا ہی ایک ہو تو انتخاب کیسا؟
تیسرا استفسار ہوتا ہے کہ کتنی دیر اور کب تک مطالعہ جاری رکھنا چاہئے؟ میں کہوں گا عمر بھر! وہ شخص کبھی عالم نہیں ہو سکتا جو زندگی کے کسی مرحلہ میں مطالعہ سے خود کو بے نیاز سمجھ لے، آج جو گرد و پیش میں بہت سے علامہ نظر آتے ہیں وہ ماشاء اللہ زیادہ تر ’علم لدنی‘ پر انحصار کرتے ہیں، اسلئے اُن کے ایک جملے سے اندازہ ہو جاتا ہے۔ تو جنابِ  والا علامہ کتنے ہیں اور’الاہمہ‘ کس قدر؟
ایک سچا عالم بستر مرگ پر بھی کتاب سے مستغنی نہیں ہوتا، آکسیجن سے کہیں زیادہ مطالعہ اس کی زندگی کی ضمانت ہوتا ہے، ہلدی کی گانٹھ ملنے پر کوئی چاہے تو پنسار بننے کا دعویٰ کر سکتا ہے مگر درجن ڈیڑھ کتابیں پڑھ لینے اور سال چھ مہینے مطالعہ کر لینے سے کوئی اچھا ادیب اور اچھا خطیب نہیں بن سکتا۔ امام غزالیؒ اڑتیس برس کی عمر میں جامعہ نظامیہ کے وائس چانسلر کے عہدہ سے الگ ہو کر غور و فکر اور مطالعے کیلئے شہر سے نکل کھڑے ہوئے، دس سال بعد واپس ہوئے، پچپن سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی، درمیان کے سات سال میں ان کے قلم سے’تہافت الفلاسفہ‘ اور’المنقذ من الضلال‘ جیسی کتابیں نکلیں جنہوں نے فلاسفۂ یونان کا بھیجہ ہلا دیا، گویا غزالیؒ جیسا شخص رئیس الجامعہ بننے کے بعد بھی مطالعہ کا محتاج اور تلاشِ حق کا آرزو مند رہا۔ میں اگر یہ دعویٰ کروں تو بہت زیادہ جھوٹا نہیں ہوگا کہ کم از کم اُردو لٹریچر میں خوب صورت لکھنے والے لوگ خواہ وہ نثرنگار ہوں یا شاعر، زیادہ تر وہ لوگ ہیں جنہیں مکتبی تعلیم تو واجبی سی نصیب ہوئی، مگر مطالعہ کے ذوق، وسعت اور تسلسل نے ان کے ذہن کو مالا مال، زبان کو پاکیزہ اور قلم کو شستہ اور رواں دواں بنا دیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد آخر کس دارالعلوم اور یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے؟ مگر ان کا اسلوبِ نگارش بیسیوں اہل قلم کا آستانہ بنا، جہاں وہ جھکتے رہے۔
 خواجہ حسن نظامیؒ بھلا کہاں کے ڈگری ہولڈر تھے کہ علامہ اقبالؒ کو کہنا پڑا ’’مجھے اگر خواجہ حسن نظامی جیسی نثر لکھنے پر قدرت ہوتی تو میں کبھی شاعری کو ذریعۂ اظہار نہ بناتا۔‘‘ یہی حال شورش کاشمیری کا ہے، نہ اسکول گئے، نہ مدرسہ دیکھا، مگر ان کی شاعری ہو یا نثر، کہنا پڑتا ہے: ’’اٹھے تو بجلی پناہ مانگے، گرے تو خانہ خراب کردے‘‘
احسان دانش بھی عمر بھر مزدور ہی رہے، کبھی کانجی ہاؤس کے چوکیدار، کبھی مالی، کبھی ماشکی، مگر ان کی شعری و نثری کاوشوں اور خوب صورتی دیکھ کر بے اختیار منہ سے نکلتا ہے: ’’یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے‘‘۔ مرحوم غالباً پرائمری پاس بھی نہیں تھے، مگر شورش ان کی شاگردی پر عمر بھر نازاں رہے اور اصلاح لیتے رہے۔
ماہرالقادری مرحوم جیسا زبان کی ثقاہت اور لطافت کا نمائندہ شخص بھی کوئی اندرون یا بیرون ملک جامعہ کا طالب علم نہیں رہا لیکن ذوقِ مطالعہ اور ممارستِ فکر نے ان کے قلم کو وہ جولانی بخشی کہ  دقیق سے دقیق موضوع ان کے ہاتھ میں پہنچ کر پانی بن جاتا تھا۔ کس کس کا نام لیا جائے؟ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اسکول، کالج یا دارالعلوم کی تعلیم ضروری نہیں، کہنا یہ ہے کہ اصل چیز ڈگری نہیں، پاکیزہ فکری ہے۔
میرا جو دوست یہ چاہتا ہے کہ اس کے قلب میں ذائقہ اور اس کی زبان میں رونق آ جائے، اسے چاہئے کہ وہ زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرے، دینیات، تاریخ، فلسفہ، ادب، سوانح، عمرانیات، سیاسیات، عصریات جو کچھ میسر ہو، اسے نعمت سمجھے، ایک وقت آئے گا اسے قدرت حق و باطل میں تمیز بھی عطا کر دے گی، جھوٹ سچ میں امتیاز کا ملکہ بھی پیدا ہو جائے گا، وہ ثقاہت اور ظرافت میں فرق بھی کرسکے گا اور معیاری اور بازاری لٹریچر میں حدفاصل بھی قائم کر سکے گا، پھر وہ وقت بھی آئیگا جب کتاب پڑھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، کتاب کے لفظ و حرف خود بولنے لگ جائیں گے کہ ہم یہ ہیں اور ہمارا مفہوم یہ ہے۔ذہن نشین رہنا چاہئے کہ جس طرح عشق بعد میں مچلتا ہے اور مذاق عاشقی پہلے پیدا ہوتا ہے، اسی طرح علم بعد میں آتا ہے، ذوق پہلے ابھرتاہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK