اے ایمان والو! جب تم نماز کیلئے کھڑے ہو تو اپنے منہ اور ہاتھ کہنیوں سمیت دھولو

Updated: April 17, 2021, 12:41 PM IST

سورہ مائدہ میں طہارت کے طریقہ مثلاً وضو، غسل یا تیمم وغیرہ کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ اللہ رب العالمین تمہیں پاک و صاف رکھنا چاہتے ہیں

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

آج تفہیم قرآن کا آغاز چھٹے پارے سے ہوتا ہے۔  پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ کو یہ پسند نہیں کہ کسی کی بری بات زبان سے ظاہر کی جائے، اِلا ّ یہ کہ کوئی شخص مظلوم ہو (یعنی وہ ظالم کی برائی کرسکتا ہے) اللہ سننے والا جاننے والا ہے اگر چہ تم علی الاعلان یا چھپ کر بھلا ئی کرو یا معاف کردو، اللہ بڑے معاف کرنے والے اور قدرت والے ہیں۔ اس کے بعد والی آیات میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ تمام رسولوں کو نہیں مانتے بلکہ کچھ کو مانتے ہیں اور کچھ کو نہیں مانتے وہ کافر ہیں، ایمان والے تو وہی ہیں جو اللہ اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لائیں اور ان میں تفریق نہ کریں۔ آگے یہودیوں کے مطالبے کا ذکر ہے کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ ان پر کوئی کتاب نازل فرمادے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تو یہ لوگ اس سے بھی بڑے بڑے مطالبے کرچکے ہیں اور یہاں تک فرمائش کرچکے ہیں کہ ہمیں اللہ کو کھلم کھلا دکھلائیے۔  اس کے بعد یہود کی سرکشیوں کا حال بیان کیا گیا ہے۔ چند آیات کے بعد بتلایا گیا ہے کہ یہودیوں کا آپ سے کسی آسمانی دستاویز کا مطالبہ کرنا تو اس لئے بھی غلط ہے کہ یہ سلسلۂ نبوت نیا نہیں بلکہ پرانا ہے۔  قدیم انبیاء کو تو یہ یہود کسی شرط کے بغیر تسلیم کرچکے ہیں اور آپ کے معاملے میں شرط رکھ رہے ہیں۔ یہ ان کا بے جا اور غلط مطالبہ ہے جب کہ ہم نے آپ پر اسی طرح وحی نازل کی ہے جس طرح حضرت نوح علیہ السلام پر اور ان کے بعد دوسرے پیغمبروں پر نازل کی تھی، ابراہیم ، اسماعیل، اسحاق، یعقوب علیہم الصلوٰۃ والسلام اور ان کی اولاد اور عیسیٰ، ایوب، یونس، ہارون اور سلیمان علیہم الصلوٰۃ والسلام پر وحی نازل کی تھی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی۔ آگے کئی آیات تک مختلف انبیاء اور رسولوں کا ذکر خیر ہے۔ آخر میں لوگوں سے آخری بات کہہ دی گئی کہ اے لو گو! تمہارے پاس رسولؐ ،  اللہ کی طرف سے حق بات لے کر آچکے ہیں اب تم ایمان لے آؤ، یہی بات تمہارے لئے بہتر ہے اور اگر تم کفر کرو گے تو جان لو کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب اللہ کا ہے اور اللہ جاننے والے اور حکمت والے ہیں۔ 
آئندہ آیات میں اہل کتاب کو کچھ نصیحتیں ہیں، مثال کے طور پر ان کو ایک نصیحت یہ کی گئی کہ وہ اپنے دین میں غلو نہ کریں اور اللہ کی طرف حق بات کے علاوہ کوئی بات منسوب نہ کریں۔ عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام بس اللہ کے رسول اور اس کا حکم تھے جو اللہ نے مریم علیہا السلام کی طرف بھیجا تھا اور وہ اللہ کی طرف سے بھیجی گئی ایک روح تھے۔ لہٰذا تم اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لے آؤ اور یہ نہ کہو کہ تین( خدا) ہیں، اس سے باز آجاؤ اسی میں تمہارے لئے بہتری ہے، اللہ صرف ایک ہے، وہ اس بات سے پاک ہے کہ اس کے کوئی بیٹا ہو۔ کئی آیات تک یہی مضمون بیان کیا گیا ہے۔ سورہ کا اختتام ایک اہم فقہی مسئلے پر ہوا ہے، بنیادی طور پر یہ سورہ احکام پر ہی مشتمل ہے اگرچہ درمیان میں کچھ دیگر موضوعات بھی آئے  ہیں اور وہ فقہی مسئلہ یہ ہے کہ لوگ آپ سے دریافت کرتے ہیں۔ آپ فرمادیجئے کہ اللہ کلالہ (وہ شخص جس کے انتقال کے وقت  نہ تو اس کی اولاد ہو نہ ہی ماں باپ) کے بارے میں تمہیں یہ فتویٰ دیتا ہے کہ اگر کوئی شخص مرجائے اور اس کے کوئی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو تو اس کو ترکے میں سے نصف ملے گا اور بھائی بہن کا وارث ہوگا اگر بہن لاولد مری ہو، اور اگر دو بہنیں وارث ہوں تو مرنے والے کے ترکے میں سے انہیں دو تہائی ملے گا اور اگر کئی بھائی بہنیں ہوں تو مرد کو دو عورتوں کے برابر حصہ ملے گا، اللہ تعالیٰ نے یہ حکم تمہارے لئے کھول کھول کر بیان فرمادیا ہے، تاکہ تم بھٹکنے نہ پاؤ اور اللہ ہر بات سے واقف ہیں۔ 
یہاں سے سورۂ المائدہ کا آغاز ہوتا ہے، اس سورہ کے تین بنیادی مضامین ہیں: (۱) مسلمانوں کو مذہبی، تمدنی اور سیاسی ہدایات (۲) مسلمانوں کو عدل وانصاف کے راستے پر قائم رہنے کی تلقین، اور  (۳) اہل کتاب کو تنبیہ اور فہمائش۔ سورہ کا آغاز اس ہدایت سے ہوتا ہے کہ اے ایمان والو! عہدو پیمان پورے کیا کرو، تمہارے لئے تمام جانور حلال کردیئے گئے ہیں سوائے ان کے جو آگے بتلائے جائیں گے۔ اس کے بعد والی آیات احرام کی حالت میں شکار کی ممانعت اور دوسرے مضامین پرمشتمل ہیں۔ پھر حرام جانوروں کا ذکر ہے کہ تم پر حرام کیا گیا مردار جانور، خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو اور وہ جانور جو گلا گھٹ کر یا چوٹ کھا کر یا اونچائی سے گر کر یا ٹکرا کر مر گیا ہو یا اس کو کسی درندے نے پھاڑ کھایا ہو، اِلاّ یہ کہ تم نے اسے زندہ ذبح کر لیا ہو، وہ جانور بھی حرام ہے جو کسی تھان پر (بتوں کے آگے) ذبح کیا گیا ہو اور تمہارے لئے پانسوں کی تقسیم بھی حرام ہے (اس میں رمل، جفر، نجوم نچھتر، دست شناسی، فال، جوا، لاٹری وغیرہ سب داخل ہیں) اور یہ ساری چیزیں گناہ ہیں۔ آج اہل کفر کو تمہارے دین سے پوری طرح مایوسی ہوچکی ہے، تم ان سے خوف مت کھاؤ بلکہ صرف مجھ سے ڈرو، آج میں نے دین کو تمہارے لئے مکمل کردیا ہے اور تمہارے اوپر اپنی نعمت تمام کردی ہے اور تمہارے لئے دین کی حیثیت سے اسلام کو پسند کرلیا ہے۔ آج تمہارے لئے ساری پاک چیزیں حلال کر دی گئی ہیں اہل کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا کھانا اُن کے لئے اور پاک دامن  عورتیں بھی تمہارے لئے حلال ہیں خواہ وہ اہل ایمان کے گروہ سے ہوں یا اُن قوموں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی، بشر طیکہ تم اُن کے مہر ادا کر کے نکاح میں اُن کے محافظ بنو۔ 
اس کے بعد طہارت وغیرہ کے متعلق کچھ احکام ہیں، فرمایا: اے ایمان والو! جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو اپنے منہ اور ہاتھ کہنیوں سمیت دھولو اور اپنے سر کا مسح کرلو اور پاؤں بھی ٹخنوں سمیت دھولو، اور اگر جنابت کی حالت میں ہو تو نہا کر پاک ہوجاؤ، اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی استنجے سے فارغ ہوکر آیا ہو یا تم بیویوں کے پاس گئے ہو اور پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرلیا کرو اور اس پر ہاتھ مار کر منہ اور ہاتھوں پر پھیر لیا کرو، اللہ تعالیٰ یہ نہیں چاہتے کہ تم پر تنگی ڈالیں مگر وہ تمہیں پاک صاف رکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کی بد عہدیوں کے واقعات بیان کئے گئے ہیں اور ان کے عقائد ذکر کئے گئے ہیں اور آخر میں دو ٹوک لفظوں میں ان سے کہہ دیا گیا ہے کہ اے اہل کتاب تمہارے پاس ہمارے رسول آپہنچے ہیں جو تمہیں صاف صاف بتلاتے ہیں ایسے وقت میں جب کہ رسولوں کا سلسلہ (بہت دنوں سے) موقوف تھا تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمارے پاس نہ کوئی بشارت دینے والا آیا اور نہ کوئی ڈرانے والا آیا، اب بشارت دینے والے اور ڈرانے والے آگئے ہیں، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قوم یہود نے طرح طرح کے مطالبوں اور فرمائشوں سے جس قدر ستایا اس کا ذکر قرآن کریم میں متعدد جگہوں پر ہے، اس سورہ میں بھی ہے اور آیت بیس سے آیت تیس تک ان کے عبرتناک واقعات بیان کئے گئے ہیں۔ اسی ضمن میں یہ آیت بھی ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے میں یا زمین میں فساد پھیلانے کے علاوہ قتل کردیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی انسان کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کی جان بچالی، اللہ اور اس کے رسول سے لڑنے والوں کے لئے یہ حکم ہے کہ ’’جو لوگ اللہ اور اس کے رسولؐ سے لڑتے ہیں اور ملک میں فساد پھیلاتے پھرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کئے جائیں یا سولی پر چڑھا دئیے جائیں یا ان کے ہاتھ پاؤں ایک دوسرے کے مخالف سمت سے کاٹ دیئے جائیں یا انہیں جلا وطن کردیا جائے۔‘‘ کچھ آگے فرمایا: اے ایمان والو!   اللہ سے ڈرو اور اللہ تک رسائی کا کچھ وسیلہ (اعمال صالحہ وغیرہ) تلاش کرو اور اس کی راہ میں جد وجہد کرو شاید تم کامیابی حاصل کرلو۔‘‘ چوروں کی سزا کے سلسلے میں فرمایا کہ چور مرد اور چور عورت کے لئے یہ حکم ہے کہ دونوں کے ہاتھ کاٹ دو یہ ان کے اس کام کا بدلہ ہے جو انہوں نے انجام دیا ہے، اللہ تعالیٰ سب پر غالب ہیں اور حکمت والے ہیں۔  حدود وتعزیرات کے سلسلے میں یہ آیت بھی ہے اور ہم نے ان پر یہ فرض کردیا تھا کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت ہے، اور خاص زخموں کا بدلہ بھی ہے اور جو شخص بدلہ نہ لے اور معاف کردے تو یہ اس کے لئے کفارہ ہے۔ آگے قوم یہود ونصاریٰ کے متعلق ارشاد ہے کہ اے ایمان والو! یہود ونصاریٰ کو اپنا دوست مت بناؤ، یہ آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو شخص ان سے دوستی کرے گا وہ اُن ہی میں شمار ہوگا۔ 
تمہارے رفیق تو حقیقت میں صرف اللہ اور اللہ کے رسول اور وہ اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں ۔
اس پارے کے آخر تک یہود ونصاریٰ کی سازشوں اورمکروفریب کا ہی ذکرہے۔n
کل ملاحظہ کیجئے: ساتواں پارہ :وَاِذَا سَمِعُوْا

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK