مسائل کہاں، توجہ کہاں

Updated: September 15, 2022, 2:20 PM IST | Agency | Mumbai

 مسائل کی جانب ہلکا سا اشارہ بھی اس قابل ہوگا کہ قارئین اس کی تہہ تک پہنچ جائیں گے۔ معاشی خستہ حالی سے لے کر مہنگائی کی سنگینی تک،

Picture .Picture:INN
علامتی تصویر ۔ تصویر:آئی این این

 مسائل کی جانب ہلکا سا اشارہ بھی اس قابل ہوگا کہ قارئین اس کی تہہ تک پہنچ جائیں گے۔ معاشی خستہ حالی سے لے کر مہنگائی کی سنگینی تک، بے روزگاری کے تشویشناک ہونے سے لے کر غربت کے چونکادینے والے نئے اعدادوشمار تک،  ناقص تغذیہ کے مسئلہ سے لے کر کسانوں کی شکایات تک اور تعلیمی انفراسٹرکچر کی زبوں حالی سے لے کر نئی تعلیمی پالیسی کیلئے موافق ماحول کی تیاری تک مسائل کا انبار ہے جس کے پیش نظر ضرورت ہے کہ حکومت ایک ایک مسئلہ کیلئے اراکین پارلیمان کے ٹاسک فورس تشکیل دے، اُن کی جانب سے حل کی تدابیر کیلئے مدت طے کرے اور موصولہ تدابیر کے بروئے کار لانے کی بھی مدت طے کرے تاکہ مسائل کے حل کا آغاز ہو اور اُس انتشار کے خاتمے کی جانب پہل ہو جو ملک بھر میں بالخصوص نوجوانوں اور غریب طبقات میں پھیلا ہوا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ایسا کوئی میکانزم موجود ہو یا حکومت اس پر کام کررہی ہو مگر ہمیں یعنی ملک کے عوام کو اس کی اطلاع نہیں دی گئی ہے۔ جو اطلاع مل رہی ہے اُس کا اِن مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کا تعلق ۲۰۲۴ء کے لوک سبھا انتخاب سے ہے۔ 
 ہماری اطلاع کے مطابق حکمراں جماعت، بی جے پی، نے حکومت کے تجربہ کار اور سینئر وزراء کو لوک سبھا کی اُن ۱۴۴؍ سیٹوں پر توجہ مرکوز کرنے کی ذمہ داری دی ہے جہاں ۲۰۱۹ء کے الیکشن میں پارٹی ناکام ہوئی تھی۔ یہ وہ حلقے ہیں جہاں پارٹی دوسرے یا تیسرے نمبر پر تھی۔متعلقہ وزراء سے کہا گیا ہے کہ وہ پارٹی کو عوام  سے نہ صرف جوڑیں بلکہ بلاک اور پنچایت لیول تک مضبوط کریں۔ اس سے پہلے مئی میں انہی ۱۴۴؍ سیٹوںکیلئے وزراء کو باقاعدہ مامور کیا گیا تھا اور ہر وزیر کو ۳  سے ۴؍ سیٹوں کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ 
 یہ اطلاع بھی مل رہی ہے کہ پارٹی نے اُترپردیش کی اُن ۱۵؍ سیٹوں کیلئے خاص اسٹراٹیجی تیار کی ہے جہاں ۲۰۱۹ء کے پارلیمانی انتخابات میں اسے شکست ہوئی تھی۔ اس کیلئے لیڈران کی تین سطحی ٹیم تیار کی گئی ہے جو متذکرہ حلقوں کے آبادیاتی اُمور کا تفصیلی جائزہ لے گی جسے ہم اپنی سہولت کیلئے ذات پات کی مساوات کو نئے سرے سے سمجھنے کی کوشش کا نام دے سکتے ہیں۔ اس تین سطحی ٹیم کو پارٹی کے عوامی فلاح کے پروگراموں کی بنیاد پر عوام کو پارٹی سے مربوط کرنے کی خاص ذمہ داری دی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ منصوبہ پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری بی ایل سنتوش کا تیار کردہ ہے جس پر اعلیٰ لیڈران (وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ اور پارٹی صدر جے پی نڈا) سے تفصیلی گفتگو کی جاچکی ہے۔ یہ منصوبہ اول الذکر ۱۴۴؍ حلقوں ہی کا ایک جزو ہے مگر اسے علاحدہ اس لئے کیا گیا ہے کہ دیگر حلقوں کو سمجھنے کی کوشش میں یوپی پر توجہ کم نہ ہو جائے۔ 
 ہم یہ نہیں کہتے کہ دو سال باقی ہونے کے باوجود ۲۰۲۴ء کا پارلیمانی انتخاب اس لئے توجہ کا مرکز بن گیا کہ اپوزیشن کی پارٹیاں اپنی موجودگی کا احساس دلانے لگی ہیں یا اپوزیشن لیڈران پہلے سے زیادہ سرگرم نظر آ رہے ہیں۔ ایسا سمجھنا اور کہنا غلط ہوگا کیونکہ ۲۰۱۳ء کے بعد کی بی جے پی نے چھوٹے سے چھوٹے الیکشن کو بھی سرسری نہیں لیا۔ایسی پارٹی پارلیمانی الیکشن کی تیاری کو اپوزیشن کے سرگرم ہونے سے مشروط کیوں کریگی؟ اس سے حکمراں جماعت کی ترجیحات سمجھ میں آ جاتی ہیں۔ معلوم ہوا کہ مسائل ایک طرف ہیں، توجہ دوسری طرف۔مسائل کے حل میں تاخیر پہ تاخیرہورہی ہے، تحفظ ِاقتدار کی کوشش میں عجلت ہی عجلت دیکھنے کو مل رہی ہے !

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK