جو۷۰؍ سال میں کبھی نہیں ہوا

Updated: February 12, 2020, 1:35 PM IST | Parvez Hafiz

ستر سال میں وطن عزیز نے ایسا نظارہ پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا کہ ہر عمر اور ہرطبقے کی خواتین آپس میں مل کر کبھی بلند آواز میں آئین کی تمہید پڑھ رہی ہیں تو کبھی فیض کی نظم۔ یہ اتنی باشعور اور باخبر ہیں کہ اپنے دلائل سے ٹی وی چینلز کے مباحثوں میں گیان دینے والے مودی بھکتوں کا منہ بند کر سکتی ہیں۔ واقعی جو ۷۰؍ سال میں پہلے کبھی نہیں ہوا وہ مودی جی نے کردکھایا

  جو۷۰؍ سال میں کبھی نہیں ہوا
شاہین باغ میں خواتین کا شہریت ترمیمی قانون کیخلاف احتجاج جاری ہے

 پیر کے دن سپریم کورٹ نے شاہین باغ کے احتجاج کو ختم کروانے کا حکم جاری کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہاکہ جو لوگ شہریت قانون کے خلاف مظاہرے کررہے ہیں انہیں اس کا حق ہے لیکن وہ کسی عوامی سڑک کو غیر معینہ مدت تک بلاک نہیں کرسکتے ہیں۔ جب یہ احتجاج شروع ہوا تھا تو کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ کمزور سمجھی جانے والی مسلم عورتوں کے سینوں میں ایسا فولادی حوصلہ ہوگا کہ تمام مصائب جھیل کر بھی اپنے مقصد کی حصولیابی کے لئے وہ دو ماہ تک اپنے موقف پر ڈٹی رہیں گی۔ اگلے ہفتے اگر عدالت عالیہ احتجاج ختم بھی کروادے تو کوئی بات نہیں ہے کیونکہ شاہین باغ کا مقصد پورا ہو گیا  ہے۔ شاہین باغ آج ساری دنیا کے لئے جبر کے خلاف پر امن جمہوری مزاحمت کی علامت بن گیا ہے۔ اس نے ساری دنیا کو یہ ننگی سچائی دکھا دی ہے کہ حکومت سی اے اے، این پی آر اور این آر سی جیسے متعصبانہ قوانین کے ذریعہ لاکھوں حقیقی شہریوں سے ان کی شہریت چھیننے کا منصوبہ بنارہی ہے اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت، فسطائی ریاست میں تبدیل ہوتی جارہی ہے۔
 اگر یہ کہا جائے کہ اس احتجاج کی قیادت شروع سے ہی خواتین کررہی ہیں تو کچھ غلط نہ ہوگا۔جامعہ کے اسٹوڈنٹس پر پولیس کے مظالم کے خلاف پڑوس سے جب چند خواتین سڑکوں پر احتجاج کرنے نکلی تھیں تو انہیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ تاریخ رقم کرنے جارہی ہیں۔’’جامعہ کی لڑکیوں نے راستہ دکھایا ہے‘‘ کے نعرے لگاتی ہوئی احتجاجی عورتوں کی تعداد بڑھتی گئی، لوگ ساتھ آتے گئے اور شاہین باغ کا کارواں بنتا گیا۔  بی جے پی لیڈروں نے ان کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انہیں غدار، پاکستان نواز اور دہشت گرد تک قرار دے دیا گیا۔ بی جے پی نے ووٹروں کو پولارائز کرنے کے لئے شاہین باغ کو دہلی اسمبلی الیکشن کا خاص ایشو بنادیا۔ ایگزٹ پول کی پیش قیاسی اگر درست ثابت ہوتی ہے اور کیجریوال دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ دہلی والوں نے شاہین باغ کے خلاف نہیں نفرت کے خلاف ووٹ ڈالے۔ امیت شاہ نے بی جے پی ورکرز کو یہ ہدایت دی اتنے غصے سے ای وی ایم کا بٹن دبانا کہ بجلی کے جھٹکے شاہین باغ میں محسوس کئے جائیں۔ شاہین باغ کی عورتوں کی یہ کہہ کر بے عزتی کی گئی کہ وہ پانچ سو روپے لے کر مظاہرے میں حصہ لے رہی ہیں۔ان کو ڈرانے، دھمکانے اور بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ میڈیا نے تو شروع سے ہی شاہین باغ کے احتجاج کو منفی رنگ میں پیش کرکے اس کو ناکام بنانے کی ہر کوشش کرلی۔ لیکن یہ دیکھتے دیکھتے اتنا بڑا ہوتا گیا کہ دنیا کے تمام نامی اخبارات اور ٹی وی چینلز مثلاً واشنگٹن پوسٹ، نیویارک ٹائمز، دی گارجین، بی بی سی اور سی این این میں شاہین باغ کا اندولن چھا گیا۔ کبھی وہاں صحافی نما دلالوں کو بھیج کر تو کبھی بھاڑے کے غنڈوں سے فائرنگ کرواکر احتجاج کو سبوتاژ کرنے کی ہر ناپاک کوشش کی گئی لیکن خواتین کے پائے استقلال میںذرا سی بھی لرزش نہیں ہوئی۔ 
  سارے ملک نے دیکھا کہ ان خواتین کے ہاتھوں میں قومی پرچم اور لبوں پر قومی ترانہ ہے اور جو پلے کارڈ انہوں نے اٹھا رکھے ہیں ان پر: ’’ہم سمودھان بچانے نکلے ہیں‘‘ لکھا ہے۔جلسہ گاہ میں گاندھی، نہرو، امبیڈکر، مولانا آزاد، بھگت سنگھ جیسے جنگ آزادی کے جانباز مجاہدوں کی تصویریں ہیں اور دھات کا بنا ہندوستان کا نقشہ فضا میں معلق ہے۔ انقلابی شاعری، صوفیانہ موسیقی، ولولہ انگیز تقریریں، کیا نہیں ہے شاہین باغ میں۔ ایک ہی جگہ ہندو پنڈت ہون کررہے ہیں،سکھ راگی گربانی کا جاپ، عیسائی پادری بائبل کا مطالعہ اور مسلم عالم قرآن کی تلاوت۔ مودی اور شاہ آکر دیکھیں۔شاہین باغ اب اوکھلا میں واقع ایک مسلم محلہ نہیں رہا: شاہین باغ ہندوستان بن گیا ہے۔ ایک چھوٹا سا ہندوستان جہاں مختلف مذاہب کو ماننے والے اور متعدد زبانیں بولنے والے لوگ ایک ساتھ مل کر کثرت میں وحدت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ 
 مودی اور شاہ شاہین باغ سے اس لئے اس قدر ناراض ہیں کیونکہ شاہین باغ نے ان کے ’’سی اے اے کی مخالفت صرف مسلمان کررہے ہیں ‘‘ کے مفروضاتی بت کو پاش پاش کردیا۔ مودی جی نے پچھلے ہفتے دہلی کی انتخابی ریلی میں یہ بھی الزام لگایاکہ شاہین باغ کا احتجاج ملک کے اتحاد کو توڑنے کا ایک تجربہ ہے۔ جس احتجاج نے ہندوؤں، مسلمانوں، سکھوں اورعیسائیوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرکے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اتحاد کی ایک نئی مثال قائم کی ہے اس پر مودی کا یہ الزام بالکل مضحکہ خیز ہے۔ مودی جی کی شاہین باغ سے نفرت کا سبب یہ ہے کہ سماجی ہم آہنگی اور اتحاد کایہ تجربہ اگر کامیاب ہوگیا تو ان کی’’ تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی سیاست کی دکان بند ہوجائے گی۔ 
 شاہین باغ سے اس قدر ناراضگی اس لئے بھی ہے کیونکہ اس سے تحریک پاکر پورے ملک میں درجنوں شاہین باغ بن گئے ہیں۔ لال قلعہ سے یوم آزادی کی تقریر میں وزیر اعظم نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ تین طلاق پر پابندی لگانے کے پیچھے ان کا مقصد یہ تھا کہ مسلم بہنوں اور بیٹیوں کو بھی برابری کا حق ملے، ان کے اندر ایک نیا اعتماد پیدا ہو اور وہ بھی ملک کے وکاس یاترا میں حصے دار بنیں۔ شاہین باغ کو دیکھ کر انہیں تو خوشی کا اظہار کرنا چاہئے تھاکیونکہ یہاں ان کی مسلم بہنیں اور بیٹیاں ایک نئی خود اعتمادی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہندوستان کی شہریت میں برابری کا حق مانگ رہی ہیں۔ شاہین باغ تو مودی جی کے سپنوں کو ساکار کررہا ہے۔
  پچھلے ۶؍برسوں سے ہمارے کان یہ سنتے سنتے پک گئے تھے کہ ستر برسوں میں جو نہیں ہوسکا وہ سب مودی جی نے کر دکھایا۔ یہ دعویٰ عموماً مودی کی اندھ بھکتی کا نتیجہ اور ان میں سچائی نہیں تھی۔ لیکن یہ کالم نگار مسلم عورتوں کو گھر کی چار دیواری سے نکال کر سڑکوں پر لانے کا پورا کریڈٹ مودی کو دینے کو تیار ہے۔اگر انہوں نے سی اے اے جیسا قانون نہیں بنایا ہوتا تو پچھلے دو ماہ سے اپنا گھر گرہستی چھوڑ کر مسلم عورتیں اتنی بڑی تعداد میں باہر نہ نکلی ہوتیں اوردہلی کی یخ بستہ راتوں میں سڑکوں پر نہیں بیٹھی ہوتیں۔ ۷۰؍سال میں وطن عزیز نے ایسا نظارہ پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا کہ ہر عمر اور ہرطبقے کی خواتین آپس میں مل کر کبھی بلند آواز میں آئین کی تمہید پڑھ رہی ہیں تو کبھی فیض احمد فیض کی نظم۔ یہ اتنی باشعور اور باخبر ہیں کہ اپنے دلائل سے ٹی وی چینلز کے مباحثوں میں گیان دینے والے مودی بھکتوں کا منہ بند کر سکتی ہیں۔ واقعی آزادی کے بعد سے اب تک کے  ۷۰؍ سال میں جو پہلے کبھی نہیں ہوا وہ مودی جی نے کردکھایا!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK