تن کے گورے اور من کے کالےیہ یورپ والے

Updated: March 08, 2022, 8:47 AM IST | hasan kamal | Mumbai

۱۲؍لاکھ یوکرینی یورپ کے کئی شہروں میں پناہ گزیں بن چکے ہیں۔ یورپ کے شہروں نے ان کا استقبال بھی کیا ہے۔ کرنا بھی چاہئے۔یہی انسانیت کا تقاضا بھی ہے اور یہی سفید فامیت کا بھی تقاضا ہے۔

As many as 12 lakh Ukrainians have become refugees in several European cities.
؍۱۲لاکھ یوکرینی یورپ کے کئی شہروں میں پناہ گزیں بن چکے ہیں۔

یوکرین کی چند روزہ جنگ میں دنیا نے وہ نظارے تو دیکھے جو اسی صدی میں عراق، شام، فلسطین اور افغانستان میں دیکھے جا چکے تھے۔ وہی عمارتوں کا کھنڈروں میں تبدیل ہونا، وہی خلق خدا کی آہ و بکا، وہی لاکھوں بے سروسامان مردوں، عورتوں اور بچوں کا زندگی اور امن کی تلاش میں اپنے گھر اور وطن چھوڑ کر ہجرت پر مجبور ہونا۔ کوسووایاد کیجئے،بغداد یاد کیجئے ،دمشق یاد کیجئے ،کابل یاد کیجئے۔ہر جگہ یہی مناظر تھے۔ لیکن یوکرین پر روس کی یلغار میں کچھ اور بھی دیکھا گیا ،کچھ ایساجسے دیکھ کر یہ ثابت ہوگیاہے کہ سفید فاموں کے دل کتنے کالے ہیں۔ ہم صرف  چند مثالیں پیش کرتے ہیں۔ جنگ کے تیسرے دن  یوکرینی فوجیوں کی زمین پر پڑی لاشیں دیکھ کر بی بی سی جیسے چینل کی ایک خاتون رپورٹر کی بات سنئے ، فرمارہی تھیں ’’میرے لئے تو اپنے جذبات پر قابو رکھنا دشوار ثابت ہو رہا ہے۔یہ تو ہماری ہی طرح سفید فام ہیں۔ ان کی آنکھوں کا رنگ ہماری آنکھوں کی طرح ہی نیلاہے۔ ان کے بالوں کے رنگ بھی ہمارے بالوں کی طرح سنہرے یا بلاند(سرخ) ہیں۔یہ سب کیا ہو رہاہے‘‘۔ ایک اور میڈیا گروپ این بی سی کے نامہ نگار فرما رہے تھے’’یاد رہے یہ عراقی ، شامی یا افغانوں کی لاشیں نہیںہیں۔ یہ ایک تہذیب یافتہ یورپی ملک کے باشندے ہیں‘‘۔ گویا عراق، شام اور افغانستان کے باشندے غیر تہذیب یافتہ اور شاید پتھر کے زمانے کے انسان تھے۔ حالانکہ ان تینوں ملکوں کی تہذیب یور پ سے کئی صدی پرانی ہے۔ ایک فرانسیسی نامہ نگار نے تو حد ہی کردی، کہا’’یاد رہے یہ مفلوک الحال اور غیر تعلیم یافتہ لوگ نہیں تھے، یہ تو خاصے مالدارلوگ تھے۔یہ تو عیسائی تھے۔ ان میںتو دانشور تھے‘‘۔  دیکھا آپ نے؟ یہ وہ سفید فام یورپی ہیں، جو اپنے آپ کو دنیا میں انسانیت، تہذیب، کشادہ دلی اور وسیع النظری کی علامتیں سمجھتے ہیں۔
     یوکرین پر روس کا حملہ یقیناً   ایک نہایت قابل افسوس واقعہ ہے۔ ہم نے جان بوجھ کر قابل افسوس کہا، قابل مذمت نہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان دو لفظوں کے اندر بھی سفید فام امریکہ اور یورپ کی عیاری اور منافقت پوشیدہ ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روسی حملہ کی مذمت کرنے والی تجویز کو حسب توقع روس نے ویٹو کر دیا تھا۔ اس وقت سلامتی کونسل میں پانچ مستقل ممبر اور دس عارضی ممبر ہیں۔ کل تعداد پندرہ ممبروں پر مشتمل ہے۔ ووٹنگ میں ۱۱؍ممبروں نے روس کی مذمت میں ووٹ دیا۔ ایک نے مخالفت میں ووٹ دیااور ظاہر ہے وہ روس تھا۔ لیکن تین نے ووٹ دینے سے گریز کیا۔ یہ تین چین، ہندوستان اور عرب امارات تھے۔ اس کے بعد اقوام متحدہ کی عام اسمبلی کا ایک ہنگامی اجلاس بلایا گیا۔ اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آنے کے بعد یہ اس کا ۱۱؍واں ہنگامی اجلاس تھا۔خیال رہے کہ کوئی ایک ہنگامی اجلاس بھی امریکہ یا اسرائیل کی کسی جارحیت کے خلاف کبھی نہیں بلایا گیا۔ امریکہ کے عراق اور افغانستان پر حملوں اور اسرائیل کے فلسطینی اسپتالوںپر وحشیانہ بمباری کو کبھی قابل مذمت نہیں سمجھا گیا۔ لیکن چونکہ امریکہ کو خدشہ تھا کہ اگر روسی جارحیت کے لئے  قابل مذمت کا لفظ استعمال کیا گیاتو ووٹنگ سے گریز کرنے والے ممالک کی تعداد بہت زیادہ ہو جائے گی، اس لئے بالکل آخری لمحات میں ’’قابل مذمت‘‘لفظ کو ’’قابل افسوس‘‘ کے لفظ سے بدل دیا گیا۔ اس کے باوجود تجویز کے حق میں ۱۴۱ ؍ مخالفت میں پانچ ووٹ گرے اور باقیوں نے ووٹ دینے سے گریز کیا۔ ووٹنگ سے گریز کرنے والوں میں ایک بار پھر چین، پاکستان اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت یعنی ہندوستان شامل تھے۔یوں بھی ہندوستان نے کبھی کسی بھی روسی جارحیت کی مذمت نہیں کی۔ ۱۹۵۰ءکے عشرے میں جب روس نے چیکو سلواکیہ پر چڑھائی کی تھی، تب بھی ہندوستان نے روس کی مذمت نہیں کی تھی۔ اس وقت ہندوستان کے وزیر اعظم پنڈت نہرو تھے۔ پھر جب روس نے افغانستان میں فوج کشی کی تب بھی ہندوستان نے روس کی مذمت نہیں کی تھی۔ اس وقت ملک کی وزیر اعظم اندرا گاندھی تھیں اور آج بھی ہندوستان نے روس کی مذمت نہیں کی جب ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی ہیں۔ 
      ناٹو ایک فوجی اور عسکری محاذ ہے۔۱۹۴۹ء میں اس کا قیام ہی روس کے خلاف امریکی قیادت میں ایک جنگی اتحاد کے طور پر عمل میں آیاتھا۔یوکرین کے ناٹوکا رکن بننے کا سیدھا سادا مطلب ناٹوفوجوں کو روس کے دروازے پر آنے کی اجازت دینا ہوتا۔ روس اپنے پڑوس میں کوئی ایسی ریاست نہیں چاہتا جہاں امریکہ سی آئی اے کی مدد سے آئے دن سیاسی خلفشار اور انتشار پیدا کرتا رہے،جس طرح وہ جنوبی امریکہ کی میکسکو، کیوبا، چلی اور برازیل جیسی ریاستوں میں کرتا رہتا ہے۔ یوکرین میں بھی زیلنسکی سے پہلے جو حکومت تھی، اس سے روس کا کوئی جھگڑا نہیں تھا، بلکہ وہ روس دوست حکومت تھی۔ لیکن امریکہ نے وہاں انتشار پھیلا کر اس کا تختہ الٹ دیا تھا۔ اس کے بعد کامیڈی اداکار ولادمیر زیلنسکی صدر منتخب ہوئے۔ پوتن نے ان سے بار بار کہاکہ وہ امریکہ اور روس کے مابین چشمک میں غیر جانبدار رہیں،ناٹو کے ممبر نہ بنیں۔زیلنسکی نہ جانے کس غلط فہمی میں مبتلاتھے۔ شروع میں پوتن نے ان سے یہ بھی کہا کہ اگر وہ ناٹو کی رکنیت لینے سے انکار کر دیں تو ان سے بات چیت ہو سکتی تھی۔ زیلنسکی نے اس کا یہ جواب دیا کہ اگر روس نے فوج کشی کی تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔شاید انہیں مکمل یقین تھا کہ کسی بھی روسی حملہ کی صورت میں امریکہ اور ناٹوکی فوجیں ان کی مدد کو آجائیں گی۔ انہوں نے بچشم تر ناٹوممالک سے درخواست کی کہ یوکرین کو روس کیلئے  ’’نو فلائی زون ‘‘بنا دیا جائے۔ ناٹوکے سیکریٹری جنرل نے اس کے جواب میں یہ عذر پیش کیا کہ ایسا کیا گیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یوکرین کے آسمان پر اڑنے والے ہر روسی طیارے کو مار گرایا جائے اور یہ ہوا تو اس کے ناقابل بیان نتائج برآمد ہوں گے۔ زیلنسکی کو اب جاکر احساس ہوا کہ امریکہ اور ناٹو ممالک نے انہیں اور یوکرین کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کر کے پھینک دیا ہے۔ گزشتہ سنیچر کو ان کی طرف سے جو صدارتی بیان دیا گیا اس سے احساس مایوسی و شکست صاف جھلک رہا تھا۔ بیان یہ تھا کہ’ آج کے بعد جو یوکرینی مارا جائے گا،تاریخ کہے گی کہ اسے ناٹونے مارا تھا‘۔ہمیں نہیں لگتا کہ روس یوکرین سے یوکرینی فوج کو غیر مسلح کئے بغیر ہٹے گا۔ بعض مبصرین کا یہ بھی خیال ہے کہ چونکہ روس میں اس فوج کشی کی مخالفت ہو رہی ہے،اس لئے پوتن کو اس فوج کشی کی سیاسی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔ بہر حال سر دست صورت حال یہ ہے کہ ۱۲؍لاکھ یوکرینی یورپ کے کئی شہروں میں پناہ گزیں بن چکے ہیں۔ یورپ کے شہروں نے ان کا استقبال بھی کیا ہے۔ کرنا بھی چاہئے۔یہی انسانیت کا تقاضا بھی ہے اور یہی سفید فامیت کا بھی تقاضا ہے۔ کیونکہ یہ ۱۲؍ لاکھ مہاجر شامی نہیں ہیں، عراقی نہیں ہیںاور افغانی بھی نہیں ہیں۔ یہ یورپی ہیں اور ہاں یہ عیسائی بھی توہیں۔n

ukraine Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK