جس کا میں مولا ہوں علیؓ بھی اس کے مولا ہیں

Updated: February 26, 2021, 11:05 AM IST | Moalana Sayed Mohammed Tanveer Hashmi

امیرالمومنین امام المسلمین حضرت سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن ابی طالب کی ہمہ جہت شخصیت محتاج تعارف نہیں۔ ہر مسلمان حضرت امام علیؓ کو خلافت راشدہ کی ظاہری ترتیب سے چو تھے خلیفۃ المسلمین کے طورپر جانتاہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سیدنا علیؓ کو جو خصوصیات محض اپنے لطف وکرم سے عطا فرمائی ہیں ان میں آپ ص یکتائے روزگار بے مثل وبے مثال ہیں۔ قرآنی آیات کے شانِ نزول میں امام علیؓ کی عظمتوںکا ذکر ہے اور احادیث کی بڑی تعداد ایسی ہے جن میں آپ ص کے فضائل وشمائل وخصوصیات زبان رسالت

Hazrat Ali - Pic : INN
حضرت علی ۔ تصویر : آئی این این

امیرالمومنین امام المسلمین حضرت سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ابن ابی طالب کی ہمہ جہت شخصیت محتاج تعارف نہیں۔ ہر مسلمان حضرت امام علیؓ کو خلافت راشدہ کی ظاہری ترتیب سے چو تھے خلیفۃ المسلمین کے طورپر جانتاہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سیدنا علیؓ  کو جو خصوصیات محض اپنے لطف وکرم سے عطا فرمائی ہیں ان میں آپ ص یکتائے روزگار بے مثل وبے مثال ہیں۔ قرآنی آیات کے شانِ نزول  میں امام علیؓ  کی عظمتوںکا ذکر ہے اور احادیث کی بڑی تعداد ایسی ہے جن میں آپ ص کے فضائل وشمائل وخصوصیات زبان رسالت

 مآب ﷺ سے لعل وگوہرکی مانند بیان ہوئی  ہیں۔ تاریخ کی صداقتیں شاہد عدل ہیں کہ امام علیؓ   نے ولادت سے شہادت تک پوری زندگی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی خوشنودی کے لئے وقف کر رکھی تھی۔
 روئے زمین پر بنی نوع انسانیت میں انبیاء کرام علیہم السلام فضیلت کے جامع ہیں۔ ان میں حضرت ابراہیم خلیل اللہ ں  اوران کی اولاد کو اللہ تعالیٰ نے خاص مقام ومرتبہ عطا فرمایا اور انہی کی اولاد میں حضرت سیدنا ہاشم کا انتخاب ہوا۔ حضرت ہاشم رضی اللہ عنہ کی اولاد میںحضرت سیدنا عبدالمطلب  کے صاحبزادوںمیں حضرت سیدنا عبد اللہ اور حضرت سیدناابوطالب کویہ شرف عظیم حاصل رہا کہ حضرت سیدناعبداللہ کے گھر امام الانبیاء ﷺ اور حضرت ابوطالب کے گھر امام الاولیاء حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت باسعادت ہوئی۔ 
 امام علیؓ کی خصوصیات میںیہ باعث رشک ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ص کو خانۂ کعبہ میں ولادت کی عظیم سعادت سے بہرہ مند فرمایا۔ متعدد کتب حدیث و سیر میں اس تاریخی واقعہ کو بیان کیا گیاہے۔ امام حاکم نے مستدرک میں، امام فاکہی اخبار مکہ میں ، مغازی نے المناقب میں ، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء میں اور الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ میں امام علیؓ کی خانہ کعبہ میں ولادت کے ذکر کو بڑے دل نواز انداز میں بیان کیا ہے۔ المناقب میں مغازی نے ولادت باسعادت در خانہ کعبہ کی مکمل روایت سند کے ساتھ ذکر فرمائی ہے۔ تاریخ رجب کی ۱۳؍ تھی اور تیس عام الفیل یعنی بعثت نبوی سے دس سال قبل امام علیؓ نے اپنے قدوم میمنت لزوم سے اس خاکدان گیتی کوشرف بخشا۔ 
 اسد الغابۃ میں ذکر آتا ہے کہ حضرت فاطمہؓ بنت اسد  فرماتی ہیںکہ میرے بیٹے کی جب ولادت ہوئی تووہ اپنی آنکھیں بند کئے ہوئے تھا، میں حرم کعبہ سے اپنے گھر آئی تب بھی وہ آنکھیں بند کئے ہوئے تھا۔ میں پریشان ہوگئی۔ گمان ہونے لگاشاید یہ بچہ نابینا ہوگا۔ اسی اثنا میں حضوراکرم ﷺ تشریف لائے۔ میں نے  نومولود علیؓ کو حضوراکرم ﷺ کی گود میں دے دیا اور آنکھ نہ کھولنے کی تفصیل بیان کی۔ حضور اکرم ﷺ نے اپنا لعاب دہن ننھے علیؓ کی آنکھوں اور منہ میں ڈالا۔ دفعتاً علیؓ نے آنکھیں کھولیںاور مسکرانے لگے۔ گویا یہ اظہار کرنے لگے کہ اے اللہ کے رسول ﷺگواہ رہنا ، علیؓ نے آنکھیں کھولی ہیں تو کسی دنیادار کو نہیں، تمام نبیوں کے سردارؐ کے چہرۂ انور کا دیدار کیاہے۔ 
 حضرت عبدالمطلب کے وصال کے بعد طویل عرصہ حضور اکرم ﷺ اپنے مشفق چچا حضرت سیدنا ابوطالب کی کفالت میںرہے۔ وقت گزرتا گیا،  حالات بدلتے رہے، حضور اکرم ﷺ تجارت میں کامیابی کے ساتھ آگے بڑھتے رہے۔  ام المؤمنین سیدہ خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا سے نکاح کے بعد معاشی استحکام میسرآیا۔ مکہ مکرمہ میں قحط سالی ہوئی۔ حضرت ابو طالب  پیرانہ سالی کوپہنچ گئے تھے۔ معاشی دشواری سے دوچاراورکثیرالعیال تھے۔ حضور اکرم ﷺ نے اپنے چچا حضرت عباس ص سے مشورہ کیا کہ اس آزمائش کے دور میں مشفق ومہربان چچا حضرت ابوطالب  کا بوجھ ہلکاکیاجائے۔ باہمی مشورہ سے یہ تدبیر نکالی گئی کہ حضرت جعفر ابن ابوطالب کو حضرت عباس ص اپنی کفالت میں لیںگے اور حضرت  علیؓ کو حضور اکرم ﷺ نے اپنے سایہ کرم اور آغوش رحمت میں لے لیا۔  بلاشبہ خانہ کعبہ میںولادت کے بعد مشیت ایزدی نے فیصلہ فرمایا کہ امام علی ؓ کی تربیت امام الانبیاء رحمۃ للعالمین محسن کائنات تاجدار نبوت ورسالت ﷺ کی آغوش اور سایہ لطف و کرم میں ہوگی۔ 
 امام علیؓ  حضور اکرم ﷺ کی کفالت میں ہیں، شب و روز مصطفوی فیضان سے سرفراز کئے جارہے ہیں۔ مصطفیٰ ﷺ کے گھر مرتضی ص تربیت پارہے ہیں۔ نبوت ورسالت کی نورانی کرنیں ولایت کے تاجدار کو منورو مجلی کئے جارہی ہیں۔ ہمہ وقت انسان کامل سیدالانبیاء ﷺ کا نورانی پیکراور بے نظیروبے مثال سیرت حضرت سیدنا امام علیؓ کی آنکھوں کے سامنے اظہر من الشمس تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺکو حکم دیا کہ اپنے نبی و رسول ہونے کا اعلان کریں۔ اس وقت حضور اکرم ﷺکی عمر مبارک چالیس سال کی تھی۔ حکم ربی کے بعد آپ ﷺ نے کوہ صفا پر کھڑے ہوکر اپنے آخری نبی و رسولؐ ہونے کا اعلان فرمایا۔ گھروالوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے ام المؤمنین سیدہ خدیجۃ الکبری اور امام علیؓ ہیں اور اہل مکہ میںسب سے پہلے ایمان  لانے والوں میں خوش نصیب حضرت سیدنا ابو بکر صدیق ص ہیں۔ 
 بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں امام علی ں کا مقام ومرتبہ بڑاارفع و اعلیٰ ہے۔ حضور ﷺ کی قرابت وتربیت وشفقت کی برکتیں تھیں جن کے باعث امام ؓ  کل صحابہ کرام میں انفرادیت رکھتے ہیں ۔ یہاں استفادہ کے لئے چند احادیث بیان کی جاتی ہیں: 
 امام بخاری وامام مسلم روایت کرتے ہیں کہ حضرت سعد ابن ابی وقاص صبیان کرتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے غزوہ تبوک کے موقع پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو مدینہ منورہ میں اپناقائم مقام بنایا۔ حضرت علی ں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں پیچھے چھوڑ کر جارہے ہیں؟ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کیا تم اس بات پرراضی نہیں ہو کہ میرے ساتھ تمہاری وہی نسبت ہو جو حضرت ہارون ں کی حضرت موسیٰ  ں سے تھی البتہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ امام ترمذی اپنی جامع میں یہ حدیث لاتے ہیںکہ حضرت جمیع بن عمیرتمیمی ص روایت کرتے ہیں کہ میں اپنی خالہ کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا پھر میں نے ان سے پوچھا کہ کون حضور اکرم ﷺکو سب سے زیادہ محبوب تھا؟ انہوںنے فرمایا حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا۔ پھرعرض کیاگیااورمردوں میں سے؟ فرمایا ان کے خاوند یعنی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم اگرچہ میں جہاںتک جانتی ہوں وہ بہت زیادہ روزے رکھنے والے اور راتوںکو قیام فرمانے والے تھے۔ 
 امام ترمذی کے علاوہ بے شمار محدثین نے اس حدیث کو مختلف طرق و اسانید سے بیان کیا  ہے۔ حضرت زیدبن ارقم ص روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:  ’’جس کا میں مولاہوں  علیؓ بھی اس کے مولا ہیں۔‘‘ امام احمد بن حنبل ؒ کی مسند میں یہ حدیث ہے کہ حضرت عمران بن حصین ص نے ایک طویل روایت بیان کی کہ حضور اکرم ﷺنے فرمایا :بے شک علیؓ مجھ سے ہیں اور میں علیؓ سے ہوں اور میرے بعد وہ ہرمسلمان کے  ولی ہیں۔
 مذکورہ احادیث سے معلوم ہوا کہ حضرت امام علی ؓ کیسی فضیلت کے جامع ہیں۔۱۳؍ رجب المرجب کی تاریخ عالم اسلام کے لئے بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ اس دن امیرالمؤمنین حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت باسعادت ہوئی ہے۔ مسلمانان عالم کی یہ ایمانی روحانی و اخلاقی ذمہ داری ہونی چاہئے کہ وہ  حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے فضائل ومناقب، سیرت واخلاق واقوال کا اعادہ کریں اور انہیں بیان کریں۔ یاد رکھیں جب تک ذو الفقار حیدری کے تذکرے نہیں ہوںگے اس وقت تک حق وباطل کے درمیان فرق نہیں کیا جاسکتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK