آزادی کے پروانوں نے وطن کیلئے اپنی جانیں کیوں نچھاور کیں؟

Updated: August 16, 2022, 12:38 PM IST | Hanif Syed | Agra

آزادی  کے معنی اور اہمیت جاننے سمجھنے کیلئے آ زادی کے پروانوں کی قربانیوں کوسمجھنا ضروری ہے۔ کیونکہ انہوں نے ’جان سے پیارا ملک ہمارا‘ صرف کہا ہی نہیں بلکہ اپنی اپنی جانیں ملک پر ہنستے ہنستے قربان کر کے ثابت بھی کر دیا۔

Ashfaqulla Khan.Picture:INN
اشفاق اللہ خان ۔ تصویر:آئی این این

آزادی  کے معنی اور اہمیت جاننے سمجھنے کیلئے آ زادی کے پروانوں کی قربانیوں کوسمجھنا ضروری ہے۔ کیونکہ انہوں نے ’جان سے پیارا ملک ہمارا‘ صرف کہا ہی نہیں بلکہ اپنی اپنی جانیں ملک پر ہنستے ہنستے قربان کر کے ثابت بھی کر دیا۔آزادی کے متوالے اشفاق اللہ خاں حسرت ؔوارثی نے پھانسی کی سزا سن کر کہا تھا۔’’مجھے سزائے موت کا افسوس نہیں کیونکہ ہمارااسلام فرماتا ہے ،وہ موت بہتر ہے جو ظالم حکومت کے سامنے حق کا اظہار کرنے سے ہو۔‘‘اشفاق اللہ خاں کی پھانسی کی سزا سن کر جب اُن کے بھتیجے رضی اوراُن کے بھائی للّو سامنے جا کر روئے، توانہوں نے مسکرا کر کہا،’’سامنے کے تین قیدیوںکو دیکھو،ان کو صرف ڈیڑھ سیر راب چرانے کے جرم میںپھانسی پر لٹکایا جائے گا،اور میں تواپنے ملک کی آزادی کے لئے جان دے رہا ہوں۔‘‘ اگر دیکھا جائے تو۸؍اگست۱۹۲۵ء  کی صبح۷؍  بج کر۱۷؍ منٹ پر ۸؍ ڈائون کوکاکوری اورعالم نگر کے بیچ برٹش سرکار کا۴؍ہزار۶۷۹؍  روپے۴؍ آنہ۶؍ پائی کا لوٹنا کوئی اتنی بڑی   سزا  کا مستحق نہیں تھا۔لیکن جج ہیملٹن نے ۱۲۱؍اے اور ۱۲۰؍بی کے تحت۱۷؍ دسمبر کوکلکتہ کی جیل میں امر شہیدراجندر سنگھ لہری اور ۲؍ دن بعد، فرخ آباد کی جیل میں اشفاق اللہ خاںکو،گورکھ پور کی جیل میںرام پرساد بسمل کو،گونڈہ کی جیل میںروشن سنگھ کو پھانسی اورساتھیوں میں سے کسی کو کالا پانی اور کسی کو عمر قید کی سزائیں دی گئیں ۔حیرت کی بات تو یہ تھی کہ سب کے جرم ایک ہونے کے باوجود سزائیں جداجدا تھیں، جس سے یہ ثابت ہے جو اپنے ملک کازیادہ وفا دار تھا اُسی کو پھانسی پر لٹکایا گیا اور سخت سے سخت سزائیں دی گئیں اور ایسا بھی ہوا کہ جو ٹوٹ گیا اُس کو سرکاری گواہ بنا کر معاف کردیاگیا۔اشفاق اللہ خاں کو بھی گرفتاری کے بعد سرکاری گواہی کیلئے  بہت زور دیاگیا لیکن انہوںنے سختی سے انکار کر دیا۔ جب اُن کوپھانسی لگائی گئی تھی تواُس وقت انہوں نے پھانسی کے پھندے کوچوم کر خود اپنے گلے میں ڈال لیا تھا۔ ملک کی آزادی کے لیے ہنستے ہنستے یہ جان دینے کا جذبہ آخر تھا کیوں ؟وہ اس  لئے کہ اُنہوں نے غلامی کا وہ دور دیکھا تھا ،برٹش سرکار کے ظلم وستم دیکھے تھے۔اسی لئے انہوں نے برٹش سامراج سے لوہا لیا۔ بہرحال ، اس آزادی کی تحریک سے پیشتر یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ آخر ہمارا ملک غلام ہوا ہی کیسے تھا ،کیا وجہ تھی ہمارے غلام ہو جانے کی۔اس بات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ کمیاں ہم میں تھیں ،جس کی وجہ سے ہم کو غلام ہونا پڑا تھا ۔ اس میں ایک اہم  وجہ  ہمارے آپسی اختلافات تھے  ۔ آج وہ دور پھر آگیا ہے ، اسلئے   مجاہدین آزادی نے  اپنی جانیں گنوا کر جو آزادی حاصل کی ہے اُس کو برقرار رکھنے کیلئے آپسی رنجشوں کومٹا نا ہوگا تبھی ہم  اپنے ملک کی ترقّی اور خوشحالی کیلئے  سوچ سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK