کاسٹ کی بنیاد پر مردم شماری کیوں ضروری ہے؟

Updated: January 25, 2022, 2:30 PM IST | Hassan Kamal

بی جے پی میں شامل او بی سی کے لیڈر، جنہیں ابھی تک کسی نہ کسی طرح دباکر رکھا گیا تھااور جنہوں نے او بی سی ریزرویشن کی طرف پارٹی کا بدلا ہوا رویہ چپ چاپ برداشت کر لیا تھا، اب وہ بھی کاسٹ کی بنیاد پر مردم شماری کی حمایت کر رہے ہیں۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

ان کالموں میں بتایا جا چکا ہے کہ ہندوستان میں کاسٹ کی بنیاد پر پہلی اور آخری مردم شماری انگریزوں کے دور حکومت میں ۱۹۱۱ ءمیں ہوئی تھی۔ اس مردم شماری کا نتیجہ بہت چونکا دینے والا تھا۔ ہندوستان بلکہ دنیا کو یہ بات پہلی بار معلوم ہوئی کہ ہندوستان میں جن فرقوں کواعلیٰ اوربرتر مانا جاتا ہے اورجنہیں سَورن ہندو کہا جاتا ہے ، ان کی تعداد ان فرقوں سے بہت کم ہے ، جنہیں شودر کہا جاتا ہے۔ آج انہیں دیگر پسماندہ طبقات اور دلت کے ناموں سے جانا جاتا ہے۔ سورنوں کی تعداد جملہ فرقوں کے مقابلہ میں صرف ۱۵ ؍فیصد ہے اور یہ تناسب آج بھی قائم ہے۔ یہ حقیقت بھی بہت کم لوگ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جب آر ایس ایس اور ہندوتوا وادی لیڈر شپ بار بار ڈراتی ہے کہ منصوبہ بندی اور ضبط تولید کو نہ نافذ کیا گیا تو مسلمانوں کی تعداد ہندوئوں سے زیادہ ہو جائے گی تو اس کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ اتفاق سے ملک میں مسلمانوں کی تعداد بھی ۱۵؍فیصد کے آس پاس بتائی جاتی ہے۔ چنانچہ اس ڈر کی وجہ یہ ہے کہ کہیں مسلمانوں کی تعدادسورن ہندوئوں سے آگے نہ نکل جائے۔ باقی ۷۵ ؍فیصد کو تو سورنوں نے کبھی ہندو مانا ہی نہیں ہے۔۱۹۱۱ءکی مردم شماری سے یہ حقیقت بھی سامنے آئی تھی کہ برہمنوں کی تعدا دتمام  ہندوؤںکی تعداد کا صرف ڈھائی فیصد ہے۔ کشتری ۶ ؍سے ۷؍ فیصد اور ویشیہ بھی تقریباً اتنے ہی ہیں۔ اتفاق سے یہ تناسب بھی آج تک قائم ہے۔ اس لئے آج بھی جیسے ہی کوئی کاسٹ کی بنیاد پر مردم شماری کی بات کرتا ہے تو ہنگامہ مچ جاتا ہے۔  کاسٹ سسٹم ہندوستانی معاشرے کی ناقابل تردید حقیقت ہے۔ خیال رہے ہم نے ہندوستانی معاشرہ کہا ہے، ہندو معاشرہ نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان کے مسلم، عیسائی اور سکھ معاشرے بھی کاسٹ کی علتوں سے پاک نہیں ہیں۔ جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ غلط ہے اور یہ کہ اسلام میں کاسٹ سسٹم کا کوئی وجود نہیں ہے، وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اسلام میں نہیں لیکن مسلمانوں میں کاسٹ سسٹم پوری آب و تاب سے جلوہ گر رہا ہے اور اب بھی ہے۔ علامہ اقبال نے بلا وجہ تو نہیں کہہ دیا تھا کہ ’’یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہوافغان بھی ہو،تم سبھی کچھ ہو بتائو کہ مسلمان بھی ہو؟‘‘ اور یہ کہ ’’فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیںہیں،کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟‘‘جہاں تک سناتن دھرم کا تعلق ہے تو اس کی تو بنیاد ہی’’ورن ویوستھا‘‘ پر ہے۔ سچ پو چھئے تو ہندو نام کا کوئی دھرم ہے ہی نہیں۔ دھرم تو چار ہیں۔ برہمن دھرم ، کشتری دھرم، ویشیہ دھرم اور شودر دھرم۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جو برہمن، کشتری یا ویشیہ نہیں وہ صرف اور صرف شودر ہے۔ چنانچہ صرف دلت اور آدی واسی نہیں تمام دیگر پسماندہ طبقات خود کو خواہ وہ کچھ بھی سمجھیں ، لیکن شاستروں اور مقدس کتابوں کی رو سے وہ صرف شودر ہیں۔ آپ نے بہت سے دانشوروں کو یہ کہتے سنا ہوگا کہ کاسٹ ازم یعنی جات پات پرستی نہایت قابل مذمت سماجی قدر ہے، لیکن یہ کہتے بہت کم دانشوروں کو سنا ہو گا کہ کاسٹ سسٹم ہی تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ ذرا غور کیجئے کاسٹ ازم کاسٹ سسٹم ہی کی تو دین ہے۔ نہ کاسٹ سسٹم ہوتانہ کاسٹ ازم جیسی کسی چیز کا کوئی وجود ہوتا۔     کہا جاتا ہے کہ ایک بار اپنے جریدہ’سوراجیہ ‘میں کاسٹ ازم کو ختم کرنے کے لئے ایک مضمون لکھ کر گاندھی جی نے یہ مشورہ دیا تھا کہ تمام ہندوئوں کو اپنے ناموں سے سرنیم ہٹا دینے چاہئیں، یہ سرنیم ہی کسی کی کاسٹ کا پتہ دیتے ہیں۔ ساورکر نے اس کی زبردست مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ اگر ہندوئوں سے ان کا ورن(کاسٹ) بھی چھین لیا گیا تو ان کے پاس رہ ہی کیا جائے گا۔کاسٹ کی بنیاد پر مردم شماری کرانے کی حمایت کرنے والے یہ دلیل دیتے ہیں کہ جب ملک کے جنگلوں میں بسنے والے ہاتھی، گھوڑوں، شیروں اور چیتوں کے اعدادو شمار موجود ہیں تو اس ملک میں بسنے والے انسانوں کے اقسام کے اعدادو شمار کیوں چھپائے جاتے ہیں۔ ان میں یہ بھی دلیل دی جاتی ہے کہ جب ذاتیںموجود ہیں تو انہیں مان لینے سے کیوں پرہیز کیا جاتا ہے۔ اگر یہ معلوم ہو گیا کہ کس کاسٹ کی کیا تعداد ہے تو یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ آزادی کے بعد کن طبقوں کی ترقی ہوئی ہے اور کتنے ہندوستانی اب بھی ترقی کی دوڑ میں پیچھے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ آزادی کے بعد ہونے والی ترقی کا ۸۵ ؍فیصد فیضان صرف ۱۵ ؍فیصد ہندوستانیوں کے حصہ میں آیا ہے اور ۸۵ ؍فیصد کے حصہ میں تو ۱۵؍ فیصد بھی بڑی مشکل سے آیا ہے۔ یعنی کانشی رام کا لگایا ہوا نعرہ ایک بار پھر پوری طاقت سے بلند کیا جانے لگے گاکہ ’جس کی جتنی سنکھیا بھاری،اس کی اتنی حصہ داری۔‘ ظاہر ہے کہ بی جے پی وشو ہندو پریشد اس مطالبہ سے بہت خائف اور پریشان ہے۔ پریشانی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ ستر برسوں سے جب بھی اس قسم کا کوئی مطالبہ بلند کیا گیا تو اسے بڑی آسانی سے ہندومسلم مسئلہ میں تبدیل کیا جاتا رہا اور منڈل کو ہمیشہ کمنڈل کی مدد سے روکا جاتا رہا۔ اس باربھی کم از کم یو پی میں بی جے پی کے امیت شاہ اور آدتیہ ناتھ نے اس مطالبہ کو ۸۰؍ فیصدبمقابلہ ۲۰؍فیصد کی لڑائی میں بدلنے کی بھر پور کوشش کی ، لیکن تا حال اس کوشش میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ ایک عرصے سے او بی سی طبقے کو رام کرنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔ حد یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندردامودر داس مودی نے جو ورن سے ویشیہ ہیں، گجرات کا چیف منسٹر بنتے ہی ایک سرکاری حکم نامہ کے ذریعہ گجرات کے مودیوں کو او بی سی قرار دیدیا تھا۔ چند ماہ قبل جب انہوں نے مرکزی کابینہ میں توسیع کی، تب بھی انہوں نے کئی او بی سی نیتائوں کو کابینہ میں شامل کیا تھا۔لیکن ایسا لگتا ہے کہ کھیل لوگوں کی سمجھ میں آ چکا ہے۔ اس لئے مطالبہ کی شدت کم ہونے کے بجائے بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ ایک اور نکتہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے لئے باعث پریشانی ہے۔ وہ نکتہ یہ ہے کہ بی جے پی میں شامل او بی سی کے لیڈر، جنہیں ابھی تک کسی نہ کسی طرح دباکر رکھا گیا تھااور جنہوں نے او بی سی ریزرویشن کی طرف پارٹی کا بدلا ہوا رویہ چپ چاپ برداشت کر لیا تھا، اب وہ بھی کاسٹ کی بنیاد پر مردم شماری کی حمایت کر رہے ہیں۔ اسی طرح این ڈی اے میں شامل بی جے پی کی اتحادی او بی سی سیاسی جماعتیں بھی اس مطالبہ کی حمایت کر رہی ہیں۔ نتیش کمار کی جنتا دل یو کو بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے۔ یہ مطالبہ یو پی اور بہار میں یکساں شدت اختیار کر چکا ہے اور ان دونوں صوبوں کی آبادی ملک کی جملہ آبادی کی ایک چوتھائی ہے۔ علاوہ ازیں چونکہ یوپی میں یہ مطالبہ الیکشن ایشو میں بدل چکا ہے اور بہار ویو پی کی آواز میں آواز ملا رہا ہے، اس لئے اب اسے ٹالنا ممکن نہیں نظر آتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK