سینے میں جلن آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہے؟

Updated: December 08, 2021, 1:45 PM IST | Pravez Hafeez

دہلی میں فضائی آلودگی یقیناً تشویش کی بات ہے لیکن اس پر قابو پانے کے لئے ریاستی حکومتیں، مودی سرکار اورماحولیاتی ماہرین کوشش کررہے ہیں۔ سب سے بڑھ کر صوبائی حکومتوں کے سروں پر عدالت عالیہ مسلسل چابک لہرا رہی ہے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

سپریم کورٹ کی سخت سر زنش کے بعد فضائی آلودگی کے سبب  دہلی کے تمام اسکولوں کو ایک بار پھر غیر معینہ مدت تک بند کردیا گیا ہے۔  دیوالی کے بعد دہلی اور این سی آر کے اطراف میں ائیر کوالٹی بے حد بگڑ گئی تو نومبر کے وسط میں اسکول اور کالج بند کر دیئے گئے تھے۔صورتحال اتنی دگرگوں تھی کہ دفاتر میں پچاس فی صد عملے کو ہی کام کرنے کی اجازت تھی، دہلی کے تین سو کلو میٹرکے اندر واقع بجلی کے گیارہ میں سے چھ پلانٹس کو تیس نومبر تک  بند کردیا گیا تھا، تمام تعمیراتی کام کاج پر وقتی طور پر پابندی عائد کردی گئی تھی اور ضروری اشیا ڈھونے والے ٹرکوں کے علاوہ راجدھانی میں باقی تمام لاریوں کا داخلہ بھی ممنوع تھا۔ہندوستان کے دارالحکومت میں ایسے سخت ہنگامی اقدامات کی ضرورت اسلئے پڑی کیونکہ نومبر کی آمد کے ساتھ دہلی اور این سی آر کے علاقوں میں فضائی آلودگی تشویشناک حد تک بڑھ گئی۔ 
 ’اے آئی آئی ایم ایس ‘کے ڈائریکٹر رندیپ گلیریاکا تو دعویٰ ہے کہ آلودگی کے سبب دہلی کے باشندوں کی زندگی کے چند سال کم ہوگئے ہیں۔ سپریم کورٹ کا یہ تبصرہ کہ حالات’’ہیلتھ ایمرجنسی‘‘ سے زیادہ بدتر ہیں اور لوگوں کو مرنے کے لئے چھوڑدیا گیا ہے،صوبائی سرکاروں اور مرکزی حکومت دونوں کے لئے ایک تازیانہ ہے۔ جسٹس ارون مشرا اور جسٹس دیپک گپتا نے تو دہلی، پنجاب، ہریانہ اور اتر پردیش کی سرکاروں کو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر شہریوں کی پرواہ نہیں کرتے ہیں تو انہیں اقتدار میں رہنے کا کوئی حق بھی نہیں ہے۔
 پچھلے ماہ دہلی  میں ۲۰۱۵ء کے بعد سے بد ترین فضائی آلودگی درج کی گئی۔ہندوستان میں فضائی کثافت سے ہر سال لاکھوں لوگ ہلاک ہوجاتے ہیں۔ ’گرین پیس‘کی رپورٹ کے مطابق کووڈ کے سبب نافذ طویل لاک ڈاؤن کے باوجود پچھلے سال دہلی میں پولوشن سے ہونے والی اموات کی تعداد ستاون ہزار تھی۔ ورلڈ ائیر کوالٹی رپورٹ کے مطابق دنیا کے تیس سب سے زیادہ آلودہ شہروں میں سے بائیس ہندوستان میں ہیں اور دہلی دنیا کا آلودہ ترین دارالخلافہ ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کا دھواں، کل کارخانوں کی چمنیوں سے نکلنے والا دھواں، فصل کی کٹائی کے بعد کھیتوں میں بچی ہوئی باقیات(stubble) کا دھواں اور دیوالی میں جلائی گئی آتش بازیوں کا دھواں۔دہلی کی فضامیں موجود  دھوئیں  نومبر میں سردی کی آمد کے ساتھ چھانے والا دھند جب تحلیل ہوجاتا ہے تو یہ ایک مہلک مرکب کو جنم دیتا ہے جسے smog کہتے ہیں۔ اس اسموگ میں ضرر رساں ذرات کی موجودگی فضا کو زہر آلودہ بنادیتی ہے۔ دس مائیکرو میٹر سے بھی چھوٹے نفیس ذرات سانس کے ساتھ انسان کے نظام تنفس میں جمع ہوجاتے ہیں اور ان سے بھی زیادہ مہلک ۵ء۲؍ مائیکرو میٹر سے بھی چھوٹے سانس کے ذریعہ پھیپھڑے تک پہنچ جاتے ہیں۔
 دہلی میں فضائی آلودگی یقیناً تشویش کی بات ہے لیکن اس پر قابو پانے کے لئے ریاستی حکومتیں، مودی سرکار اورماحولیاتی ماہرین کوشش کررہے ہیں۔ سب سے بڑھ کر صوبائی حکومتوں کے سروں پر عدالت عالیہ مسلسل چابک  لہرا رہی ہے۔ اس لئے جلد یا بدیر دہلی کی فضائی آلودگی کم کرنے کی تدبیر ڈھونڈلی جائے گی۔ 
 مگرنفرت، تعصب، فرقہ پرستی اور انتہا پسندی کا جو زہر صرف دہلی ہی نہیں بلکہ سارے ملک میں پھیل گیا ہے وہ کیسے کم ہوگا؟ مختلف اقدام کے ذریعہ فضائی آلودگی کی صفائی کا امکان ہے لیکن دلوں میں جو میل جم گیا ہے اس کی صفائی تو ممکن نظر نہیں آرہی ہے۔ پولوشن اور گلوبل وارمنگ کا مقابلہ کرنےکیلئے تو عالمی طاقتوں کی دیکھا  دیکھی  ہندوستانی سرکار نے بھی ایک وزیر کو ماحول اور موسمیاتی تبدیلی کا قلمدان سونپ دیا اور صوبائی حکومتوں میں بھی وزیر ماحولیات کا عہدہ بنا دیا گیا لیکن مذہبی منافرت کے تیزی سے پھیلتے پولوشن پر قابو پانے کے لئے سرکار نے کوئی وزار ت نہیں بنائی۔ بلکہ الٹے یہ گمان ہوتا ہے چند وزیروں کو یہ ذمہ داری دے دی گئی ہے کہ وہ ہر روز ایک نیا فتنہ کھڑا کریں اور ایک نئی آگ بھڑکائیں۔ اسی لئے تو کبھی ایک وزیر عوام کو’’گولی ماردینے‘‘کے لئے اکساتا ہے تو کبھی ایک وزیر اعلیٰ عوامی جلسے میں ہندوؤں کو ورغلاتا ہے کہ پچھلی حکومت میں سارا راشن مسلمان کھاجاتے تھے۔
 پچھلے سات برسوں میں نفرت کے جرائم میں اتنا اضافہ ہوا کہ اب ہجومی تشدد میں ہوئی ہلاکتوں کی خبریں کسی کو مضطرب بھی نہیں کرتی ہیں۔ذہنوں میں اس قدر کدورت بھر گئی ہے کہ صرف انسان ہی نہیں الفاظ کو بھی ہندو اور مسلمان میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ایک بی جے پی رکن پارلیمنٹ ایک اشتہار میں لفظ’’جشن‘‘ دیکھ کر اتنا برہم ہوجاتا ہے کہ وہ اس کمپنی پر دیوالی کو ابراہیمی تہوار بنانے کی سازش کا الزام لگاکر اشتہار ہٹا نے پر مجبور کردیتاہے۔ ایک پولیس سپرنٹینڈ نٹ کے منہ سے’’ دستیاب ‘‘ جیسا لفظ سن کر ایک وزیر اعلیٰ (شیو راج سنگھ چوہان) کے منہ کا مزا ایسا خراب ہوتا ہے کہ وہ پولیس کے شعبے میں اردو الفاظ کے استعمال پرپابندی لگادیتا ہے۔ قانون، جرم، سزا، قتل، ملزم، وکیل، مدعی، پنچ نامہ، گمشدہ اور ایسی سیکڑوں اصطلاحیں پورے ملک کی پولیس صدیوں سے استعمال کرتی آرہی ہے۔ لیکن نیو انڈیا میں ان الفاظ سے دشمن جیسا سلوک کیا جارہا ہے۔ اردو ہندوستان میں جنمی اور پروان چڑھی اور ملک کی بائیس سرکاری زبانوں میں سے ایک ہے۔پہلے بھی اردو کے ساتھ حکومت کا رویہ سوتیلی ماں جیسا تھا لیکن اب تو اسے’’عاق ‘‘کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ نفرت کا ایسا سیلاب آیا ہے کہ دہلی کے جنتر منتر پر پولیس کی موجودگی میں انتہا پسند ایک فرقے کے قتل عام کا نعرہ لگاتے ہیں اور حکومت اور عدالتیں خاموش تماشائی بنی رہتی ہیں۔
 یہ کہنا غلط ہوگا کہ نفرت کا شکار صرف اقلیتیں ہیں۔ جو فرد، گروہ یا تنظیم بھی اپنے حق کیلئے آواز اٹھاتی ہے یا ہندوتوا کے نظریے سے اختلاف کرتی ہے اسے نشانہ بنایا جاتا ہے خواہ وہ جواہر لال یونیورسٹی کے طلبہ ہوں یا کسان آندولن میں شامل کسان۔ میڈیا کو کھلی چھوٹ ہے کہ وہ دن رات مذہبی جنون کا افیون کھلا کر عوام کا برین واش کرتا رہے تاکہ وہ روز مرہ کی زندگی میں درپیش مسائل کو بھول جائیں اور حکومت سے کوئی شکایت یا سوال نہ کریں۔ سپریم کورٹ تک نے یہ تلخ حقیقت تسلیم کرلی کہ ہندوستانی میڈیا پر ہونے والے مباحثے زیادہ پولوشن پھیلارہے ہیں۔ خوشی کی بات ہے کہ پچھلے چند برسوں میں ہندوستانیوں کے دلوں میں ماحولیات کو بچانے کا جذبہ بڑی شدت سے بیدار ہوا ہے۔ لوگ اب دیوالی پر پٹاخے جلانے اور ہر روز اپنی کار سڑک پر چلانے سے گریز کررہے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم   دلوں میں گھر کرہی فرقہ پرستی کی آلودگی، ذہنوں میں پروان چڑھ رہی مذہبی تعصب کی کثافت اور آنکھوں میں اتر رہے انتہا پسندی کے زہر سے نجات پانے کی بھی تدبیر کریں۔ ماحولیات کو بچانا ضروری ہے لیکن معاشرے اور ملک کو بچانا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK