ہندوتو اکی کڑھائی میں اچانک اُبال کیوں آرہا ہے؟

Updated: May 10, 2022, 11:15 AM IST | Hassan Kamal | Mumbai

ہندوتوا کے اس اچانک ابال کی وجہ سے اس ملک وقوم کو جو نقصان ہو رہا ہے، اس کا اندازہ نہ بی جے پی لیڈرشپ کو ہے، نہ اس کے کارکنوں کو۔ لیکن اس کا اندازہ تعلیم یافتہ ہندو متوسط طبقہ کو ضرور ہو رہا ہے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

یہ دیکھ کر یقیناً بہت سے لوگوںکوحیرت ہوتی ہوگی کہ اتر پردیش، اتراکھنڈ، گوا اور منی پور میں الیکشن جیت لینے اور حکومتیں بنا لینے کے بعد بھی بی جے پی کی ہندوتوا کی کڑھائی میں اچانک اتنا ابال کیوںآنے لگا ہے۔ کیا اس لئےکہ اگلے سال کئی اور اسمبلیوں کے الیکشن ہونے والے ہیں؟لیکن وہ تو ابھی دور ہیں۔ اصل  بات کچھ اور ہے۔ اگر مذکورہ ریاستوں میں جیت نے بی جے پی کی،لیڈر شپ کی خوشیوں میں اضافہ کیا ہے تو اسی کے ساتھ اس کی تشویش میں بھی اضافہ کیاہے۔ چاروں ریاستوں میں ہندوتواکا کارڈ اس طرح نہیں چل پایا جس کی بی جے پی نے امید کی تھی۔یو پی اور اتراکھنڈ میں خاص طورپر بی جے پی کو خاصی مایوسی ہاتھ آئی ہے۔ دونوں ریاستوں میں بی جے پی کے جیتنے والے امیدواروں میں بھی کمی آئی ہے۔  بی جے پی کی لیڈر شپ اسے نیک شگون نہیں سمجھتی۔ اس لئے لیڈر شپ نے کارکنوں کو تاکید کی ہے کہ زور زور سے بول کر اور شوروغل مچاکر خود کو بھی اور عوام کو بھی یہ باور کرایا جائے کہ ہندوتوا کا زور کم نہیں ہواہے۔ بات سمجھ میں بھی آتی ہے۔ بی جے پی لیڈرشپ کو یقین ہو گیا ہے کہ ہندوتوا کے سوا اس کے ہاتھ میں کوئی اور کارڈ ہی نہیںہے۔ وکاس کا تو اب نریندر مودی کو بھی نام لینےسے ڈر لگنے لگا ہے۔ اچھے دن تو اب سپنوں میں بھی نہیں دکھائی دیتے۔ میک ان انڈیا، اسٹینڈ اپ انڈیا، سٹ ڈائون انڈیا،لائی ڈائون انڈیااور اسمارٹ سٹی کی اصطلاحیں تو اب لطیفوں کے طور پر بولی جانے لگی ہیں۔ معاشی اعتبار سے حالات اتنے دگرگوں ہیں کہ اس وقت ماہرین معاشیات کے مطابق ہماری جی ڈی پی اور ہمارےبیرونی قرضوںکے مابین بہت معمولی فرق رہ گیا ہے۔ ان حالات میں بی جے پی کی لیڈر شپ جو کچھ کر رہی ہے، اس کے سوا کچھ اور کر بھی نہیں سکتی۔ بی جے پی لیڈر شپ پورا زور لگارہی ہے کہ کسی طرح ہندوتوا کا یہ شور ان چند ریاستوں میں بھی مچنے لگے جہاںغیر بی جے پی سرکاریںہیں۔ اپوزیشن اس صورت حال کا یہ کہہ کر مذاق اڑا رہا ہے کہ اپنی گلی میں تو کتا بھی شیر ہوتا ہے۔ بی جے پی لیڈر شپ پوری طاقت لگا رہی ہے کہ کسی طرح غیر بی جے پی والی ریاستوں میں بھی یہ روگ پھیل جائے، راجستھان اور مہاراشٹر میں ہندو مسلم ٹکراؤ کرانے کے لئے پوری طاقت جھونکی جا رہی ہے۔ لیکن دونوں جگہ بی جے پی کو یہ مشکل پیش آرہی ہے کہ جہاں بی جے پی کارکنوں کو مقامی پولیس کی طرف سے تحفظ نہیں مل پاتا، وہاں ان کی ہمتیں پست ہو جاتی ہیں۔ راجستھان اور مہاراشٹرمیں یہ دیکھا جا رہاہے۔علاوہ ازیں اس عمل میں اس کے کئی پول بھی کھلے جا رہے ہیں۔  مہاراشٹر بی جے پی کے لئے ایک بہت اہم ریاست ہے۔ مہاراشٹر کا ہاتھ سے نکل جانا بی جے پی کے لئے ایک سانحہ سے کم نہ تھا۔ وہ شیو سینا جو کبھی بی جے پی کی ہندوتوا بریگیڈ کا ہراول دستہ مانی جاتی تھی ،آج بی جے پی کی سب سے بڑی حریف نظر آرہی ہے۔بی جے پی لیڈر شپ چاہتی ہے کہ یا تو شیو سینا ایک بار پھر بی جے پی کی اطاعت قبول کر لے یا پھر مہاراشٹر پر سے اس کا قبضہ اٹھ جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ہی اس نے مہاراشٹر میں لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعہ اذانین رکوانے کا ایجنڈہ بنایا۔ بی جے پی لیڈر شپ نے یوپی اور ہریانہ کے طرز پر مسجدوں کے سامنے ہنومان چالیسہ پڑھنے کی تحریک شروع کی۔ لیکن اس سلسلہ میں بی جے پی سے چند غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔ ایک تو مہاراشٹر میں گنپتی کو سب سے اہم  مانا جاتاہے۔ یہاں دوسرے دیوی دیوتائوں کا احترام تو کیا جاتا ہے لیکن ان کا وہ مان دان نہیں ہوتاجو گنپتی کا ہوتا ہے۔
         دوسرے ہنومان چالیسہ کی بھاشا گوسوامی تلسی داس کی رام چرتر مانس کی بھاشا یعنی اودھی یا پوربی ہے، جو مراٹھی بھاشی مہاراشٹر میں بولی سمجھی نہیں جاتی۔ اس لئے اس کی طرف مہاراشٹر کے ہندوئوں کا راغب ہونا دشوار تھا۔ مہاراشٹر کے گھروں اور مندروں میں بھی ہنومان چالیسہ پڑھنے کی کوئی روایت نہیں ہے۔ 
                    بی کے پی لیڈر شپ کی دوسری بڑی غلطی یہ تھی کہ ہنومان چالیسہ تحریک کی کمان مہاراشٹر نو نرمان سینا(ایم این ایس) کے ہاتھوں میں سونپ دی گئی ۔ یہ تو ایک طرح سے یہ اعتراف کرنا تھا کہ بی جے پی کے اندر کوئی ایسا لیڈر موجود نہیں ہے، جو لوگوں کو سڑکوں پر نکال سکے۔ یہ تو گویا اپنی کمزوری کا پول کھولنا تھا۔ بی جے پی یہ بھی  سمجھتی تھی کہ عوام کی یاد اشت بہت کمزور ہوتی ہے، لیکن یہ بھول گئی کہ یہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، آج عوام کو بھولی بسری باتیں یاد دلانا بہت آسان ہو گیا ہے۔ چنانچہ انہیں  یہ یاد دلاتے ذرا بھی دیر نہیں لگی کہ بی جے پی آج اس راج ٹھاکرے کو اپنا لیڈر مان رہی ہے ،جو صرف دو سال پہلے پارلیمانی الیکشن کے وقت مہاراشٹر میں بڑے بڑے  جلسے کر کے بی جے پی کے جھوٹ اور نریندر مودی کی وعدہ خلافیاں گنارہے تھے۔ پھر شاید بی جے پی کو یہ بھی یاد نہیں رہا کہ آج مہاراشٹر میں راج ٹھاکرے کی سیاسی حیثیت کیا ہے۔ اسمبلی میں ان کا کوئی ممبر نہیں ہے صرف ناسک کارپورشن میں  اس کے کچھ ممبر ہیں۔ ان میں سے بھی کئی پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ راج ٹھاکرے اپنے اس بڑے بھائی ادھو ٹھاکرے سے ٹکرا رہے ہیں ، جس سے وہ کئی بار مات کھا چکے ہیں اور جس کی مقبولیت آج ان کی مقبولیت کو پوری طرح نگل چکی ہے۔ مہاراشٹر پولیس نے ادھو ٹھاکرے  کے حکم پر ایسی سخت گیری دکھائی ہے کہ بی جے پی کی ہمت پست ہو گئی ہے۔ اس عمل کے دوران یہ پول بھی کھل چکا ہے کہ مہاراشٹر کے سابق بی جے پی چیف منسٹر دیویندر فرنویس منظر عام سے بالکل ندارد پائے گئے ہیں۔  ہندوتوا کے اس اچانک ابال کی وجہ سے اس ملک وقوم کو جو نقصان ہو رہا ہے، اس کا اندازہ نہ بی جے پی لیڈرشپ کو ہے، نہ اس کے کارکنوں کو۔ لیکن اس کا اندازہ تعلیم یافتہ ہندو متوسط طبقہ کو ضرور ہو رہا ہے۔ یہی  وجہ ہے کہ کئی اعلیٰ ترین سطح کے سبکدوش سرکاری افسروں نے نریندر مودی کو خط لکھ کرآگاہ کیا ہے کہ اس سنگین صورت حال کے سبب ہندوستان کی معیشت کا ناقابل تلافی نقصان پہنچ  رہا ہے اور یہ ڈر ہے کہ غیر ملکی  سرمایہ کاری بالکل بند ہوجائے گی۔ ظاہر ہے ان کی باتیں حاضر سروس افسر شاہی کے کانوں تک بھی پہنچ رہی ہیں۔ دھرم سنسد کی فتنہ انگیزیوں کی خبر اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری تک پہنچ چکی ہیں اور انہوں نے حکومت ہند کو اس بابت وارننگ بھی دی ہے۔ عید کے دن وہائٹ ہائوس میں عیدملن کی تقریب میں جو بائیڈن نے چند ملکوں میں مسلمانوں سے امتیازی سلوک پر شدیدتشویش کا اظہار کیا۔ ظاہر  ہے ان کا اثر ہندوستان کی طرف تھا۔ اس  لئے یہ ثابت ہورہا ہے کہ بی جے پی کا فائدہ ملک وقوم کا خسارہ ہے ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK