سیلاب کی ہولناکی کیوں بڑھتی جارہی ہے؟

Updated: July 27, 2020, 10:26 AM IST | Bharat Jhunjhunwala

اس کی دیگر وجوہات بھی ہیں مگر ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ڈیم بنانے میں زیادہ دلچسپی دکھائی۔ ڈیموں کی وجہ سے ندیوں کے قدرتی بہاؤ میں فرق آیا اور زمین،اس کی سطح اور ندیوں کی سطح کی ہیئت تبدیل ہوگئی۔

Flood - Pic : INN
سیلاب ۔ تصویر : آئی این این

پوری  دُنیا میں سب سے زیادہ ڈیم بنانے والا چین اِس وقت گزشتہ سو سال کے سب سے بڑے سیلاب کا سامنا کررہا ہے۔ ہم بھی بہار میں سیلاب سے متاثر ہیں جبکہ ہم نے بھی ٹہری ڈیم بناکر سیلابی پانی کو روکنے کی کوشش کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ندیوں کو پانی پہنچانے والا ذریعہ سمجھتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ ندیوں کے پانی کے ساتھ ساتھ تلچھٹ بھی بہہ کر آتی ہے۔ ہمیں یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ ہری دوار سے کولکاتا تک جو زمینی حصہ بن گیا ہے وہ گنگا سے بہہ کر آنے والی تلچھٹ کی وجہ سے بنا ہے۔ گنگا کا پانی سیکڑوں سال سے بہہ رہا ہے اور اس پانی کے ساتھ آنے والی تلچھٹ طویل قطعہ ہائے اراضی پر جمی ہے جو یوپی، بہار اور مغربی بنگال کی زمینات کا حصہ ہے۔ مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ سیلاب اپنے ساتھ تباہی بھی لاتا ہے جس سے ہزاروں لاکھوں انسانوں کو ناقابل بیان مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس سے کیسے نمٹا جائے؟ اس سے اپنا تحفظ کیسے کیا جائے؟
 دُنیا کی جتنی بھی ندیاں ہیں اُن میں گنگا کی تلچھٹ سب سے زیادہ ہے۔ یہ ندی ہر سال اپنے آس پاس کی زمینوں اور کھاڑیوں میں تلچھٹ جمع کرتی ہے جو بعد میں اس وقت سمندر کی جانب گویا دھکیل دی جاتی ہے جب پانچ دس سال میں کوئی بڑا سیلاب آتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ تلچھٹ کی وجہ سے زمین کی دبازت اور اونچائی بڑھ جاتی ہے اور گنگا کا پانی اپنی پوری قوت کے ساتھ بہنے لگتا ہے۔ لیکن ہم نے سیلابی پانی کو روکنے کا انتظام کرنے کیلئے ٹہری ڈیم بنا دیا اور ہری دوار اور نرورہ کے ڈیموں کا پانی آبپاشی کیلئے استعمال ہونے لگا۔ اس کی وجہ سے ہو یہ رہا ہے کہ گنگا کی تلچھٹ جو آس پاس کی زمین اور کھاڑی میں جمع ہوتی تھی اور بعد میں سمندر میں دھکیلی جاتی تھی وہ نہیں ہورہی ہے۔ اس کی وجہ سے تلچھٹ جہاں کی وہاں ہے نتیجتاً زمین کی سطح اُبھرتی جارہی ہے اور سیلابی پانی کو بہا لے جانے کی گنگا کی صلاحیت کم ہوتی جارہی ہے۔ اب سیلاب، بلاخیز نہ ہو تب بھی خطرناک ہوجاتا ہے جیسا کہ اس وقت بہار میں ہورہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ٹہری ڈیم بناکر سیلاب کی سنگینی میں اضافہ کیا ہے۔ 
 بہار کے انجینئر بھی کچھ پیچھے نہیں ہیں۔ انہوں نے ندیوں کی دونوں جانب رکاوٹیں (اِمبارکمنٹ) کئی جگہوں پر کھڑی کی ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ پانی کے بہاؤ کو روکیں تاکہ سیلاب آئے تو اس کی وجہ سے آبادیوں کو خطرہ نہ ہو اور تباہی نہ پھیلے۔ اس مقصد میں تو کامیابی ملی اور اب عوام کو کسی حد تک راحت ہوگئی ہے مگر کب تک؟ ندیوں کے ذریعہ بہہ کر آنے والی تلچھٹ اب انجینئروں کی کھڑی کی ہوئی رکاوٹوں کے درمیان جمع ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے ندیوں کی زمینی سطح بڑھ رہی ہے۔ اب یہ زمین آس پا س کی خشکی کی زمین سے زیادہ اونچی ہوگئی ہے۔ اب ندی کا پانی زمین کی اونچائی سے اوپر بہتا ہے میٹرو ریل کی طرح (جو زمین سے اونچی سطح پر چلتی ہے) مگر جب رکاوٹیں ٹوٹتی ہیں تو پانی دائیں اور بائیں جانب بہنے لگتا ہے اور دو ندیوں کے درمیان کی پوری زمین درمیان میں آجاتی ہے۔ اب سیلابی پانی بہہ کر سمندر کی طرف نہیں جاسکتا کیونکہ اس کا راستہ تو اونچا ہوگیا ہے۔ 
 اب عالم یہ ہے کہ ہمارے پاس کوئی دوسرا چارہ ٔ کار نہیں اور ہمیں سیلابوں کے ساتھ نباہ کرنے کی عادت ڈال لینی چاہئے۔ مجھے ۱۹۹۰ء کی دہائی میں گورکھپور میں سیلاب کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا تھا۔ مقامی لوگوں کو سیلاب سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔ گاؤں نسبتاً اونچائی پر بسائے جاتے تھے چنانچہ سیلاب آتا بھی تو پانی تباہی نہیں پھیلاتا تھا۔ لوگ اپنے گھروں میں محفوظ رہتے تھے۔ سیلابی پانی مزے سے بہتا تھا۔ جو تلچھٹ بہہ کر آتی تھی وہ اُن کی زمینوں کو کھاد فراہم کرتی تھی۔ وہ مختلف اقسام کا دھان اُگاتے تھے۔ سیلابی پانی اُتر جاتا تو ربیع کی فصل کیلئے بھی زمین تیار ہوجاتی تھی جیسے اس میں کھاد ڈالی گئی ہو۔ 
 اسی لئے مَیں نے کہا کہ ہمیں سیلابوں کےساتھ نباہ کرنے کی عادت ڈال لینی چاہئے۔ ہمیں ڈیموں کو ہٹا دینا چاہئے، ندیوں کے آس پاس جو رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں اُنہیں بھی ختم کردینا چاہئے۔ ا یسا ہوا تب بھی ہمیں دہلی میں پینے کیلئے اور کھیتوں میں فصلوں کیلئے اُترپردیش سےپانی مل سکتا ہے جو زیر زمین ذخائر سے حاصل ہوگا۔ یوپی کے آب اندوختوں (پانی جمع کرنے کا انتظام) میں ۷۶؍ ارب کیوبک میٹر پانی ذخیرہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ٹہری ڈیم کا ۲ء۶؍ ارب کیوبک میٹر پانی مقدار میں کچھ بھی نہیں یعنی بہرحال کم ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ انجینئر حضرات کو بڑے اور چھوٹے ڈیموں سے یا رکاوٹیں کھڑی کرنے سے بڑی محبت ہے۔ اس جوش جنوں میں وہ بھول جاتے ہیں کہ اُن کے ایجاد کردہ ان مصنوعی طریقوں سے ہم پہلے کے مقابلے میں زیادہ سنگین سیلاب سے دوچار ہورہے ہیں او رانسانی مصائب میں اضافہ ہورہا ہے۔
 مضمون کی ابتداء میں مَیں نے چین کی بابت بتایا۔ اس سلسلے میں عرض ہے کہ چین سب سے زیادہ بند باندھنے والا ملک ہے۔ اس کے ہاں جتنے بند یا ڈیم ہیں اُتنے کسی اور ملک میں نہیں ہیں۔ چین میں مجموعی طور پر ۸۷؍ ہزار ڈیم ہیں جن میں ۲۲؍ہزار بڑے ڈیم ہیں۔ یہاں کا گورجیزڈیم دُنیا کا سب سے بڑا ڈیم مانا جاتا ہے جو ۲ء۳؍کلومیٹر کے احاطے میں پھیلا ہوا ہے او راس کی اونچائی ڈیڑھ ہزار کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ 
 ہندوستان نے اتنے بڑے پیمانے پر تو ڈیم نہیں بنائے مگر ہمیں بھی ڈیموں سے محبت ہے۔ ہم بھی اپنے انجینئروں کو ڈیموں کا کھلونا دیتے رہتے ہیں مگر اب اس فیصلے کا وقت آگیا ہے کہ ہمیں ڈیم چاہئے یا اپنے عوام اور اپنے ملک کی زمین کا تحفظ؟ ہمیں بہت سنجیدگی سے انہی دو متبادلات میں سے کسی کا انتخاب کرنا ہوگا

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK