Updated: February 15, 2026, 11:58 AM IST
| Mumbai
گزشتہ دنوں مہاراشٹر کے کئی شہروں میں بلدیاتی انتخابات ہوئے۔اس کے بعد کچھ شہروں میں میئر کاانتخاب ہوگیا اور کچھ شہروں میں ابھی ہونا باقی ہے۔ اس دوران عوام نے سیاسی جماعتوں کے درمیان اپنے’منتخب نمائندوں‘کی بدترین سودے بازیوں کا مشاہدہ کیا جس کی وجہ سے عوام کے ایک بڑے طبقے کا اپنی جمہوریت ہی پر سے اعتماد متزلزل ہونے لگا ہے۔ اسی حوالے سے ہم نے اپنے قارئین سے اس کے اثرات جاننے کی کوشش کی اور یہ بھی کہ ان حالات میں کیا ہونا چاہئے؟
ووٹرس کو ایسا لگ رہا ہے جیسے کہ وہ ٹھگ لئے گئے ہیں۔ تصویر: آئی این این
یہ عوامی مینڈیٹ کی توہین اور جمہوری حقوق کی پامالی ہے

مہاراشٹر کے حالیہ بلدیاتی انتخابات اور اس کے بعد میئر کے انتخاب کیلئے ہونے والی سیاسی ریشہ دوانیاں جمہوری اقدار کیلئے ایک لمحہ فکریہ بن چکی ہیں۔ بلدیاتی ادارے، جو عوامی مسائل کے حل کیلئے بنیادی ستون اور جمہوریت کی پہلی نرسری تسلیم کیے جاتے ہیں، اب سیاسی تجارت اور مفاد پرستی کے اڈوں میں تبدیل ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ جب عوامی نمائندے خدمتِ خلق کا حلف بالائے طاق رکھ کر ذاتی جاہ و منصب، مالی منفعت اور خفیہ معاہدوں کی بنیاد پر وفاداریاں تبدیل کرتے ہیں، تو دراصل وہ اس عوامی مینڈیٹ کی توہین کرتے ہیں جس پر جمہوریت کی پوری عمارت کھڑی ہے۔جمہوریت کا حسن نظریاتی وابستگی اور عوامی اعتماد میں پنہاں ہے، مگر جب ووٹر یہ مشاہدہ کرتا ہے کہ اس کا قیمتی ووٹ محض اقتدار کے شطرنج کا ایک مہرہ بن کر رہ گیا ہے، تو نظامِ انتخاب سے اس کا ایقان متزلزل ہونے لگتا ہے۔ اس سیاسی بے راہ روی کا سب سے پہلا اور مہلک اثر’عوامی بیزاری‘ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ جب شہری یہ محسوس کرنے لگیں کہ ان کا فیصلہ کسی بڑے ایوان یا بند کمرے کی سودے بازی سے تبدیل کر دیا جائے گا، تو وہ انتخابی عمل سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے صالح، باصلاحیت اور نظریاتی افراد سیاست کو’شجرِ ممنوعہ‘ سمجھ کر اس سے دور ہو جاتے ہیں، اور میدان ان عناصر کیلئے صاف ہو جاتا ہے جن کا واحد مقصد اقربا پروری اور غیر شفاف طرزِ حکمرانی ہے۔
اس رجحان کے سماجی اثرات بھی نہایت تشویش ناک ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی یہ اخلاقی گراوٹ معاشرے میں بداعتمادی کے زہر کو گھول رہی ہے۔ جب سیاسی مباحث تعمیری ہونے کے بجائے تلخ اور مفاد پرستی پر مبنی ہوں، تو سماج مختلف گروہوں اور فرقوں میں تقسیم ہونے لگتا ہے۔ خاص طور پر ہماری نوجوان نسل، جو ملک کی سیاسی و فکری قیادت کی ضامن ہے، اگر سیاست کو صرف’مفاد پرستی کا کھیل‘ تسلیم کر لے گی تو مستقبل میں مثبت اور باکردار قیادت کا قحط ناگزیر ہو جائے گا۔
وقت کا تقاضا ہے کہ سیاسی جماعتیں اقتدار کی ہوس سے اوپر اٹھ کر نظریاتی دیانت اور عوامی جواب دہی کو اپنا شعار بنائیں۔ انتخابی قوانین کی سختی، پارٹی بدلنے کے خلاف ٹھوس قانونی چارہ جوئی اور عوامی سطح پر شعور کی بیداری ہی اس سیاسی عفریت کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ اگر آج ان ’سیاسی منڈیوں‘ کا راستہ نہ روکا گیا، تو یہ سودے بازیاں جمہوریت کی جڑوں کو اس حد تک کھوکھلا کر دیں گی کہ ایوانوں میں عوامی نمائندگی کے بجائے صرف’سرمایہ کاری‘ کی آواز سنائی دے گی۔
طارق اعجاز اعظمی(ریسر چ اسکالر اورڈائریکٹر اعجاز اعظمی ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ)
یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ:بین المذاہب ہم آہنگی، برادران وطن سے مکالمہ اور مزید بہتری کے امکانات
عوام میں جمہوریت کے تئیں مایوسی بڑھتی جا رہی ہے
پچھلے تین مہینوں سے مہاراشٹر میں جاری کارپوریشن کے الیکشن میں جو نظارے دیکھنے کو ملے، اس کے بعد لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے کہ اب اس ملک سے جمہوریت کا جنازہ نکلنے کو ہے۔ حالیہ الیکشن میں سیاسی مفاد کے ساتھ ساتھ ذاتی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے سیاستدانوں نے جس طرح سے عوام کو بیوقوف بنانے کی کوششیں کی ہے وہ اظہر من الشمس ہے۔ بے لوث سماجی خدمتگاروں کی حیثیت صفرہو کر رہ گئی ہے اور وہ تمام سماجی خدمت گار کنارے لگ گئے ہیں۔ سیاسی جماعتوں نے بھی انہیں ٹکٹ دیئے جو کسی نا کسی سطح پر اثر و رسوخ والے تھے یا جنہوں نے ٹکٹ پانے کیلئے خطیر رقم خرچ کی تھی۔ سماجی سطح پر یہ پیغام بھی عام ہوا کہ سیاست ایک کاروبار ہے جہاں نفع نقصان کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔ کیونکہ اب سیاست فیملی بزنس کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ مہاراشٹر کی۲۹؍ کارپوریشنوں میں شاید ہی کوئی امیدوار ایسا رہا ہو جسے اخلاقی اعتبار سے اصولوں کا پابند کہا جا سکے۔ الیکشن کے دوران چند ایک امیدوار کو چھوڑ بیشتر ان امیدواروں کو ووٹ دیا گیا جو اس کے بدلے ’’....‘‘ بانٹنے کی صلاحیت اور طاقت رکھتے تھے۔ خصوصاً بھیونڈی کارپوریشن کے الیکشن میں جس طرح کا تماشہ دکھائی دیا اسے دیکھ کر عوام کو بے ساختہ کہنا پڑا کہ ’’گلہ کرے وہ جنہیں تجھ سے بڑی امیدیں تھیں: ہمیں تو خیر تیرا اعتبار تھا ہی نہیں۔‘‘ بھیونڈی کارپوریشن میں الیکشن سے پہلے اور الیکشن کے دوران جو سیاستداں نہایت طمطراق سے یہ کہتا ہوا پایا گیا کہ ہر طرف میں ہی میں ہوں دوسرا کوئی نہیں، جس کے ذاتی مفاد کو ٹھیس پہنچی تھی وہ نہ صرف عوام کو بلکہ سیاسی پارٹیوں کو اپنی انگلیوں پر نچاتا نظر آیا۔ بھیونڈی کارپوریشن کے مئیر الیکشن میں سیکولر امیدوار کو منتخب کرنے کی کوششوں کے دوران عوامی رائے اور دباؤ بنانے کی سیاست کو دیکھتے ہوئے بے ساختہ عوام یہ کہنے کو مجبور ہیں’’ہمارے سامنے اُڑنے کی مت کرو کوشش ، ہمیں پتہ ہے کہ پانی میں کون کتنا ہے؟‘‘ ستم ظریفی دیکھئے کہ قوم و ملت کے نام پر ووٹ مانگ کر الیکشن جیتنے والے کچھ لوگ اب بی جے پی کے حمایت یافتہ امیدوار کو اپنا ضمیر بیچنے کیلئے پر تولتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔
حالیہ الیکشن میں مہاراشٹر کے عوام نے محسوس کیا کہ سیاست میں اخلاقیات باقی رہ گئے ہیں، نہ اصول۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جہاں جہاں کارپوریشن کے مئیر بننے کیلئے تعداد میں کمی نظر آئی وہاں وہاں سودے بازی کو دوام ملا۔ سیاسی کاروبار کے تحت جنہوں نے ٹکٹ حاصل کرنے سے لے کر ووٹ پانے تک جو کچھ خرچ کیا تھا، اب وہ اس کی وصولیابی کیلئے کوشاں ہیں۔ آج کی تاریخ میں بی جے پی اور شیوسینا (شندے)سے زیادہ خرچ کرنے کی صلاحیت اور طاقت کون رکھتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ مئیر بننے کیلئے خبروں کے مطابق ایک ایک کارپوریٹر کو کئی کئی کروڑ روپے دئیے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔ ان باتوں سے عوام میں جمہوریت کے تئیں اعتماد متزلزل ہوا ہے اور سماج میں سیاست کو کاروبار کی نظر سے دیکھنے کے رحجان کو تقویت ملی ہے۔
ایڈوکیٹ سلیم یوسف شیخ (اسسٹنٹ پروفیسر ،ویوا لاء کالج ، ویرار)
یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ:آج ہمارے ملک میں جمہوریت کی کیا اہمیت ہے،ہم اس کے تحفظ کیلئے کیا کریں؟
اپنے منتخب نمائندوں کیلئےرائے دہندگان کو ’ری کال‘ کا حق ملنا چاہئے

مہاراشٹر کی سیاست کے افق پر ابھرتا ہوا موجودہ منظرنامہ محض سیاسی جوڑ توڑ کی داستان نہیں، بلکہ اس ’سیاسی اخلاقیات کے دیوالیہ پن‘ کا اشتہار اور جمہوریت کا نوحہ بھی ہے جو ہماری جمہوری اقدار کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ میونسپل کارپوریشنوں کے ایوانوں سے اٹھنے والی سودے بازی کی بو اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ آج اقتدار کی ہوس نے عوامی مینڈیٹ کو ایک ایسی جنس بازار بنا دیا ہے، جس کی بولی ہوٹلوں کے بند کمروں میں لگتی ہے۔
انتخابات کی آمد پر جب یہ سیاسی قائدین اورامیدوار گلیوں کی خاک چھانتے ہیں، تو ان کی زبان پر’سیکولرزم،مساوات اور `عوامی فلاح‘ جیسے پرفریب لفظوں کا جادو ہوتا ہے۔ ووٹر، جو اپنے مستقبل کی امیدوں کو ان کے ہاتھ میں تھماتا ہے، اس وہم میں مبتلا ہوتا ہے کہ وہ کسی نظریے کو ووٹ دے رہا ہے مگر جوں ہی نتائج کا غبار چھٹتا ہے اور میئر کی کرسی کی چمک آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے، وہی’سیکولر‘ علمبردار (پارٹی اعلیٰ اہلکار و امیدوار)اپنی وفاداریوں کو مصلحت کی بھٹی میں جھونک دیتے ہیں۔ یہ’پچھلے دروازے کی سیاست‘ ان لاکھوں انگلیوں کی توہین ہے جن پر لگی انتخابی سیاہی ابھی مٹی بھی نہیں ہوتی۔
جسے ہم ’ہارس ٹریڈنگ‘ کہتے ہیں، وہ دراصل انسانی ضمیر کی وہ نیلامی ہے جہاں نوٹوں کی گنتی عوامی امنگوں کے وزن سے بڑھ جاتی ہے۔ جب ایک منتخب نمائندہ اعلیٰ اہلکار اپنے ووٹر کے نظریات کو مخالف کی دہلیز پر فروخت کرتا ہے، تو وہ صرف اپنی پارٹی نہیں بدلتا بلکہ اس غریب شہری کے اس اعتبار کا سودا کرتا ہے جس نے اسے ایک’محافظ‘ سمجھ کر منتخب کیا تھا۔ یہ’منہ بھرائی کی سیاست‘ جمہوریت کے ماتھے پر وہ کلنک ہے جو نظامِ عدل اور نظامِ سیاست سے عام آدمی کا بھروسہ ختم کر رہی ہے۔
اس المیے کا سب سے لرزہ خیز پہلو یہ ہے کہ جب کرسی خریدی جاتی ہے، تو پھر شہر کی تعمیر نہیںبلکہ ’سرمائے کی واپسی‘ ترجیح بن جاتی ہے۔ ٹوٹی سڑکیں ،گندہ پانی، بجبجاتی نالیاں ،معذور اسپتال اور جہالت سے لبریز اسکول دراصل اسی سیاسی بدعنوانی کا خراج ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ عوام محض تماشائی بننے کے بجائے ’محاسب‘ بنیں اور ایسے نمائندوں کا اگلے الیکشن میں بائیکاٹ کریں۔ایسے میں عوام کو امیدوار کے ’ری کال‘ کرنے کا بھی حق ہونا چاہئے اور ـ ان کے الیکشن لڑنے پر تاحیات پابندی لگنی چاہئے۔ یاد رکھیے، جب تک مصلحت اصولوں پر غالب رہے گی، میئر تو بنتے رہیں گے مگر جمہوریت ہارتی رہے گی۔
عبدالحسیب جامعی (بھیونڈی،بنیادی رکن دی پین فاونڈیشن دہلی)
یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ: نیشنل یوتھ ڈے، نوجوانوں کی تربیت، بڑے کیا کریں کہ وہ مؤثر ثابت ہو؟
مئیر انتخابات میں رائے دہندگان صرف تماشائی بن کر رہ گئے

مہاراشٹر میں بلدیاتی انتخابات کا عمل مکمل ہوا۔میئر کا عہدہ بلدیہ کا سب سے اعلیٰ عہدہ ہوتا ہے۔اس کا ہر بڑے فیصلے یا تبدیلی میں براہ راست حکم بھی چلتا ہے۔میئر اکثریتی جماعت ہی کا منتخب ممبر ہوتا ہےلیکن یہ میئر بنانے میں بھی دوسری منتخب سیاسی جماعتوں کا تعاون درکار ہوتا ہے کیونکہ موجودہ حالات میں کوئی ایک سیاسی پارٹی طے شدہ سیٹیں نہیں جیت پاتی جس سے وہ اکثریت ثابت کر سکے اور اپنے منتخب نمائندے کو بطور میئر پیش کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی پارٹیوں کو ایک دوسرے کی مدد لینی پڑتی ہے، خواہ وہ ان کے ایجنڈے اور نظریات سے تضاد ہی کیوں نہ رکھتی ہو،بس اقتدار کی خواہش انہیں ایک دوسرے سے جوڑ دیتی ہے۔
مہاراشٹر کی سیاست میں جس طرح کی سیاسی قلا بازیاں ہورہی ہیں، اس سے نہ صرف ریاست کے لوگ بلکہ پورے ملک کے لوگ ششدر ہیں۔عوام کی اس میں کوئی حیثیت رہ گئی ہے، نہ ان کے دیئے گئے ووٹ کی کوئی اہمیت رہی۔ اقتدار میں حصہ داری کیلئے کوئی کسی بھی پارٹی میں چلا جارہا ہے یا در پردہ اس کی مدد کررہا ہے۔عوام اپنی پسندیدہ سیاسی پارٹی کو اس کے نظریات اور سیاسی عوامل کی بنیاد پر ووٹ دیتی ہیں، کچھ سیاسی جماعتوں کے امیدوار تو لوگوں کے ہیرو اور چہیتے ہوتے ہیں۔ عوام صرف اپنے حالات زندگی کیلئے سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کو ووٹ دیتے ہیں۔عوام کی ایک بڑی تعداد ایسی ہوتی ہے جو امیدوار کو نجی طور پر جانتی بھی نہیں لیکن ان کے وعدوں پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں ہر ممکن طور پر کامیاب بناتی ہے۔ امیدواروں کے ساتھ کام کرنے والے کارکنان بھی دل و جان سے کام کرتےہیں۔لوگ خوش ہوتے ہیں کہ ان کا منتخب امیدوار الیکشن جیت اور پھرعوام ان سے کئے گئے وعدوں کو بھول جاتے ہیں اور امیدوار کو بھی۔کیونکہ سیاست دانوں کی بے وفائی کے اب عوام بھی عادی ہوگئے ہیں۔اس کے علاوہ ان کے اپنے مسائل ہیں جن میں وہ الجھے رہتے ہیں، جیسے گھریلو اخراجات اور بچوں کی تعلیم و تربیت وغیرہ۔ شہری عوام کی ضرورت صاف پانی، ٹریفک سے نجات،بہتر سڑکیں، اچھا نکاسی کا نظام،صاف صفائی، بارش میں سیلاب سے محفوظ علاقے اور مناسب رہائشی انتظام وغیرہ ہوتا ہے جس کا میونسپل میں بجٹ بھی ہوتا ہے اور یہ بجٹ بھی عوام سے وصول کئے ہوئے ٹیکس کی شکل میں ہوتا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ سیاسی جماعتوں کی حرکتوں سے رفتہ رفتہ عوام میں جمہوریت کے تئیں اعتماد ختم ہوتا جارہا ہے۔
عادل آصف(کاروباری،کرلا)
یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ: ’’بی ایم سی اوربلدیاتی انتخابات میں عوامی بیزاری: اسباب اور حل‘‘
کیا سیاسی جماعتوں کےنظریات وقتی مفادات کے تابع ہوچکے ہیں؟

مہاراشٹر میں میئر کے انتخاب کیلئے جاری سودے بازیاں جمہوری اقدار کیلئے نہایت تشویشناک ہیں۔ عوام اپنے ووٹ کے ذریعے نمائندوں کو اس امید کے ساتھ منتخب کرتے ہیں کہ وہ اصولوں اور عوامی مفادات کی پاسداری کریں گے، لیکن جب اقتدار کے حصول کیلئے وفاداریاں تبدیل ہوتی اور نظریاتی حد بندیاں ٹوٹتی نظر آتی ہیں تو جمہوریت کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ حالیہ دنوں سامنے آنےو الے حالات میں یہ تاثر بھی ابھرا ہے کہ بعض مقامات پر سماجوادی پارٹی ،بی جے پی سے تعاون یا اتحاد کی طرف بڑھ رہی ہے، جو بظاہر نظریاتی طور پر مختلف سمتوں کی جماعتیں سمجھی جاتی ہیں۔ اگر واقعی ایسا سیاسی اشتراک محض اقتدار کیلئے ہو تو یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ کیا نظریات وقتی مفادات کے تابع ہوچکے ہیں؟
خاص طور پر بھیونڈی میں میئر کی کرسی کے حوالے سے جاری کشمکش نے غیر یقینی کیفیت پیدا کردی ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ بحث زوروں پر ہے کہ کون سی جماعت کس کے ساتھ کھڑی ہوگی اور اقتدار کا ہندسہ کیسے پورا کیا جائے گا۔ اس ساری سیاسی سرگرمی میں شہری مسائل پسِ منظر میں چلے گئے ہیں، حالانکہ بھیونڈی کو اس وقت مضبوط قیادت، بہتر شہری انتظام اور ترقیاتی توجہ کی اشد ضرورت ہے۔
ایسی سودے بازیوں کا معاشرے پر بُرا اثر پڑتا ہے۔ لوگوں کا اعتماد کم ہو جاتا ہے، سیاست داں، سیاست کو صرف ذاتی فائدے کا ذریعہ سمجھنے لگتے ہیں، اور جمہوریت کمزور ہو جاتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی پارٹیاں صرف کرسی یا فائدے کیلئے سیاست نہ کریں بلکہ اصولوں کے ساتھ کام کریں۔ جمہوریت میں اختلاف ہونا کوئی بری بات نہیں، لیکن اپنے نظریات چھوڑ دینا درست نہیں۔ اگر کسی وجہ سے دو جماعتوں کو ساتھ آنا پڑے تو انہیں صاف اور کھلے انداز میں عوام کو بتانا چاہئے کہ وہ کیوں ساتھ آ رہی ہیں اور ان کا مقصد کیا ہے۔
لیڈروں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ عہدہ ہمیشہ نہیں رہتا، لیکن عوام کا اعتماد بہت قیمتی ہوتا ہے۔ اگر سیاست خدمت کیلئے ہوگی تو جمہوریت مضبوط ہوگی اور معاشرہ ترقی کرے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ وقتی فائدے کے بجائے ایمانداری، شفافیت اور عوامی بھلائی کو اہمیت دی جائے۔ یہی ایک مضبوط اور صحت مند جمہوریت کی اصل بنیاد ہے۔
مومن ناظمہ محمد حسن(لیکچرر، ستیش پردھان گیان سادھنا کالج، تھانے)