• Sun, 15 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہر دوسرے سال ورلڈ کپ کرکٹ! کیا اب واقعی اتنا دلچسپ رہا ہے؟

Updated: February 15, 2026, 11:24 AM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai

ٹی ٹوینٹی کرکٹ نے کھیل کی رفتار اتنی زیادہ بڑھادی ہے کہ اب ہر سال دو سال میں ایک عالمی ایونٹ ہو رہا ہے ، اس سےورلڈ کپ کی ندرت معمول میں تبدیل ہو گئی ہے۔

ICC should reconsider its schedule, fewer but quality events will not only increase the value of the game but also give players an opportunity to prepare better. Photo: INN
آئی سی سی کو اپنے شیڈول پر ازسرنو غور کرنا چاہئے، کم مگر معیاری ایونٹس نہ صرف کھیل کی وقعت بڑھائیں گے بلکہ کھلاڑیوں کو بھی بہتر تیاری کا موقع دیں گے۔ تصویر: آئی این این

عالمی کرکٹ میں حالیہ برسوں کے دوران ایک نمایاں تبدیلی یہ دیکھنے میں آئی ہے کہ آئی سی سی کے بڑے ایونٹس کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ کبھی ورلڈ کپ چار سال میں ایک بار ہوتا تھا اور اس کے درمیان کا وقفہ اتنا ہوتا تھا کہ شائقین میں اگلے ایونٹ کے لئے بے چینی اور انتظار کی کیفیت پیدا ہو جاتی تھی۔ اب صورت حال یہ ہے کہ تقریباً ہر سال یا زیادہ سے زیادہ ہر دوسرے سال کوئی نہ کوئی عالمی ٹورنامنٹ منعقد ہو رہا ہے۔ اس رجحان پر سابق ہندوستانی کرکٹر سنجے منجریکر اور سابق کرکٹر رابن اتھپا سمیت کئی ماہرین کرکٹ نے اعتراض کیا ہے اور اسے عالمی مقابلوں کی وقعت کے لئے نقصان دہ قرار دیا ہے۔اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کرکٹ زیادہ کھیلی جا رہی ہے بلکہ یہ ہے کہ ’’عالمی‘‘ ایونٹ کا تصور ہی معمول بن گیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اجیت پوار کا ہوائی جہاز حادثہ: شہری ہوابازی کی ناقص کارکردگی اور حکومت کی بے حسی

۲۰۱۹ء میں ۵۰؍ اوورس کا ورلڈ کپ ہوا تھا پھر ۲۰۲۱ء اور ۲۰۲۲ءمیں لگاتار دو ٹی ۲۰؍ورلڈ کپ منعقد ہوگئے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ۲۰۲۱ء کا ورلڈ کپ ۲۰۲۰ء میں منعقد ہونے والا تھا لیکن کووڈ کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہوا لیکن تب بھی دو بڑے ایونٹ محض چند ماہ کی دوری پر منعقد کرلئے گئے۔ اس کے بعد ۲۰۲۳ء میں پھر ون ڈے ورلڈ کپ ہوا اور چند ماہ بعد ۲۰۲۴ء میں ایک اور ٹی ۲۰؍ورلڈ کپ کھیلا گیا۔ اس کے خمار سے ابھی شائقین نکلے ہی نہیں تھے کہ ۲۰۲۵ء میں چمپئن ٹرافی کروالی گئی۔ اس کے علاوہ آئی سی سی کی ورلڈ ٹیسٹ چمپئن شپ کا  کا فائنل ہر دو سال بعد منعقد کیا جاتا ہے۔ یوں عالمی سطح کے ٹورنامنٹس کا تسلسل اتنا بڑھ گیا ہے کہ ان میں فرق کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

چار سالہ وقفے کا فلسفہ دراصل کھیلوں کی تاریخ سے جڑا ہوا ہے۔ فٹ بال کا ورلڈ کپ ہو یا اولمپکس، ان کا انعقاد چار سال میں ایک بار ہوتا ہے۔ اس طویل وقفے کی وجہ سے نہ صرف ٹیمیں بہتر تیاری کرتی ہیں بلکہ شائقین میں بھی ایک فطری جوش اور تجسس برقرار رہتا ہے۔ کرکٹ میں بھی طویل عرصے تک یہی روایت تھی۔ ۵۰؍ اوورس کے ورلڈ کپ کی اہمیت اسی لئے غیرمعمولی سمجھی جاتی تھی کہ وہ ایک نایاب موقع ہوتا تھا۔ اب جب ہر سال کوئی عالمی مقابلہ سامنے آ جائے تو ذہنی طور پر اس کی  حیثیت کم ہو جاتی ہے۔ اُن مقابلوں میں ہندوستان اور پاکستان کا مقابلہ سونے پہ سہاگہ کا کام کرتا تھا۔ اس وقت انڈیا اور پاکستان میں مقابلے برابری کے ہوتے تھے۔اس لئے ٹکر کانٹے کی ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان میچوں کو پوری دنیا کے کروڑوں کا شائقین ایک ساتھ دیکھتے تھے۔ آج بھی وہی ہوتا ہے لیکن اب مقابلہ برابری کا نہیں رہ گیا ہے۔ ٹیم انڈیابہت زیادہ طاقتور ہو گئی ہے توپاکستان اپنےکرشمائی کھلاڑیوں سے محروم ہو گیا ہے۔ دونوں کا مقابلہ اب بھی کروایا جاتا ہے لیکن اس میں وہ کشش نہیں رہی جو ۱۹۹۶ء، ۱۹۹۹ء یا پھر ۲۰۰۳ء کے ورلڈ کپ میں تھی۔ موجودہ ورلڈ کپ بھی اسی ہندوستان اور پاکستان کے مقابلے پر ٹکا ہوا ہے۔ اگر یہ مقابلہ نہ ہو تو آئی سی سی کا ریوینیو ختم ہو جائے اور پورے ورلڈ کپ میں چند ہی میچ دیکھنے لائق رہ جائیں۔ یہی بات ہم کسی بھی میچ کی ’ری کال ‘ ویلیو کے بارے میں بھی کہہ سکتے ہیں۔ جس طرح سے ہمیں ۱۹۹۹ء ورلڈ کپ یا ۲۰۰۷ء کے ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ کے ایک ایک میچ کی تفصیل بڑی حد تک یاد ہے کیا ۲۰۱۹ء کے بعد کے کسی بھی ورلڈ کے یادگار میچ کی کوئی تفصیل یاد ہے؟

یہ بھی پڑھئے: کیا دھرندھر کی کامیابی کی وجہ سے اب نفرت پر مبنی فلموں کا سیلاب آجائے گا؟

سنجے منجریکر کا استدلال یہ ہے کہ اگر ہر سال آئی سی سی کا ایونٹ ہوگا تو کھلاڑیوں اور شائقین دونوں کے لیے وہی کیفیت برقرار رکھنا ممکن نہیں رہے گا جو ماضی میں ہوا کرتی تھی۔ رابن اتھپا نے بھی اسی خیال کی تائید کی کہ عالمی مقابلوں کی وقعت ان کی کمیابی سے جڑی ہوتی ہے۔ یہ نقطہ نظر محض جذباتی نہیں بلکہ عملی بنیاد رکھتا ہے۔ جب ایک ٹیم ہر سال عالمی مقابلہ کھیل رہی ہو تو ناکامی یا کامیابی کا اثر اور اس کا جوش بھی نسبتاً کم ہو جاتا ہے۔

آئی سی سی کی طرف سے اس کثرت کی بنیادی وجہ مالی پہلو بتایا جاتا ہے۔ عالمی ایونٹس نشریاتی حقوق اور اسپانسرشپ کے اعتبار سے سب سے زیادہ منافع بخش ہوتے ہیں۔ بڑے ممالک کے درمیان میچز زیادہ ناظرین کھینچتے ہیں اور اس سے بورڈز کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مالی مفاد کھیل کی طویل مدتی ساکھ سے زیادہ اہم ہونا چاہئے؟ اگر ہر سال ایک عالمی کپ جیسا ماحول بنا دیا جائے تو چند برس بعد اس میں نئی بات کیا رہ جائے گی؟دوسری جانب آئی سی سی کے پاس اپنے دلائل ہیں کہ عالمی ایونٹس نشریاتی حقوق اور اسپانسرشپ کے اعتبار سےمنافع بخش ہوتے ہیں۔ کرکٹ بورڈس کی آمدنی کا بڑا حصہ انہی مقابلوں سے وابستہ ہے۔ بڑے ممالک کے درمیان میچز زیادہ ناظرین کو متوجہ کرتے ہیں، جس سے اشتہارات اور براڈکاسٹنگ کی قیمت بڑھتی ہے۔ مالی اعتبار سے یہ ماڈل کامیاب دکھائی دیتا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا قلیل مدتی مالی فائدہ طویل مدتی وقعت اور کھیل کی صحت پر غالب آنا چاہئے؟

یہ بھی پڑھئے: ’سنچار ساتھی‘ کےتئیں مودی حکومت کی اتنی دلچسپی کیوں ہے؟

مزید یہ کہ کرکٹ کیلنڈر پہلے ہی بے حد مصروف ہے۔ دو طرفہ سیریز، علاقائی ٹورنامنٹس اور دنیا بھر میں ہونے والی ٹی ۲۰؍ لیگز کے درمیان عالمی ایونٹس کا اضافہ کھلاڑیوں پر اضافی دباؤ ڈالتا ہے۔ جسمانی تھکن کے ساتھ ذہنی دباؤ بھی بڑھتا ہے۔ بڑے مقابلوں کے لئے مخصوص تیاری کا وقت کم ہو جاتا ہے۔ جب ایونٹس کی تعداد زیادہ ہو تو ٹیمیں بھی اکثر تجرباتی کمبی نیشن آزماتی رہتی ہیں، جس سے کھیل کے معیار پر اثر پڑ تا ہے۔

ایک اور پہلو فارمیٹس کی کثرت بھی ہے۔ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ۲۰؍ ہر فارمیٹ کے لئے الگ عالمی مقابلہ رکھا گیا ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ کے فروغ کے لیے ورلڈ ٹیسٹ چمپئن شپ ایک مثبت قدم تھا لیکن جب ہر فارمیٹ کا بڑا مقابلہ قریب قریب منعقد ہو تو توجہ بٹ جاتی ہے۔ شائقین کیلئے یہ طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون سا ایونٹ زیادہ اہم ہے۔ اگر ٹی۲۰؍ورلڈ کپ ہر دو سال بعد اور ون ڈے ورلڈ کپ بھی مختصر وقفے میں ہو تو دونوں کی اہمیت میں فرق ماند پڑنے لگتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ کرکٹ دیگر عالمی کھیلوں کی طرح عالمی سطح پر یکساں مقبول نہیں ہے۔ چند بڑے ممالک ہی مالی اور ناظرین کے اعتبار سے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایسے میں بار بار عالمی ایونٹ کرانے سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ مقابلے مخصوص مارکیٹس کے گرد ہی گھوم رہے ہیں۔ اس سے کھیل کی عالمی وسعت کے دعوے پر بھی سوال اٹھتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کیا واقعی اب ہمارے ملک میں سیاسی اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا ہے؟

تنقیدی نقطہ نظر یہ ہے کہ آئی سی سی کو اپنے شیڈول پر ازسرنو غور کرنا چاہئے۔ کم مگر معیاری ایونٹس نہ صرف کھیل کی وقعت بڑھائیں گے بلکہ کھلاڑیوں کو بھی بہتر تیاری کا موقع دیں گے۔ چار سالہ وقفہ کم از کم ورلڈ کپ کے لئے برقرار رکھا جائے۔ ٹی ۲۰؍اور ٹیسٹ فارمیٹس کے عالمی مقابلوں کو اس انداز میں ترتیب دیا جائے کہ وہ ایک دوسرے کی اہمیت کو متاثر نہ کریں۔یہ کہنا درست ہوگا کہ مسئلہ ایونٹس کے انعقاد سے نہیں بلکہ ان کی تعداد سے ہے۔ عالمی مقابلہ اس وقت خاص بنتا ہے جب وہ نایاب ہو۔ اگر ہر سال کوئی نہ کوئی عالمی کپ سامنے آجائے تو وہ غیر معمولی نہیں رہتا۔ سنجے منجریکر اور رابن اتھپا کی تنقید دراصل اسی خدشے کی عکاسی کرتی ہے کہ کہیں کرکٹ بھی ایسی راہ پر نہ چل پڑے جہاں زیادہ کی خواہش کم پر منتج ہو۔

کرکٹ کی تاریخ، اس کی روایات اور اس کے بڑے لمحات اسی لیے یادگار ہیں کہ وہ بار بار نہیں آتے۔ اگر عالمی ایونٹس کی کثرت سے ان کی انفرادیت ختم ہو گئی تو یہ نقصان صرف موجودہ نسل تک محدود نہیں رہے گا بلکہ آنے والے برسوں میں بھی محسوس کیا جائے گا۔ کھیل کی ساکھ اور وقعت برقرار رکھنے کے لئے اعتدال ضروری ہے اور یہی وہ نکتہ ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK