• Sun, 15 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بیٹے والے

Updated: February 15, 2026, 11:12 AM IST | Mubarak Kapdi | Mumbai

دین حق میں بیٹا اور بیٹی میں کوئی فرق نہیں ہے لیکن آج ہمارے گھروں سے بار بار’ہم بیٹے والے ہیں‘ یہ آواز سنائی کیوں دیتی ہے؟ بیٹے والوں کا زعم کچھ اس درجہ عروج پر ہے کہ اوّل تو تعلیم و تربیت کے محاذپر اُن کے پچھڑے پن سے معاشرے کا توازن بگڑ چکا ہے اور رشتے کے محاذ پر تو ہماری حالت ناگفتہ بہ ہے، ملاحظہ کریں:

Parents should not allow any difference between their children, whether they are sons or daughters. Photo: INN
والدین کو اپنے بچوں میں خواہ و ہ بیٹا ہو یا بیٹی فرق نہیں ہونے دینا چاہئے۔ تصویر: آئی این این

۱)بیٹے کے لیے رشتہ مطلوب ہے۔’ ہمیں جہیز ہرگز نہیں چاہیے‘ کے ہم جہیز کے سخت مخالف ہیں مگر ابھی ہم ایک کرائے کے مکان میں رہتے ہیں لہٰذا دو یا تین بیڈ روم کے فلیٹ کا انتظام لڑکی کے ماں باپ کو کرنا ہے تا کہ ان کی بیٹی آرام سے اُس گھر میں رہ سکے۔ ہمیں جہیز بالکل نہیں چاہیے البتہ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ اپنی بیٹی کو کہاں رکھیں گے؟ راستے پر تو وہ رہنے سے رہی لہٰذا اپنی بیٹی کو عزت و آبرو سے رکھنے کے لئے دو تین بیڈ م روم کے گھرکا انتظام تو لڑکی کے ماں باپ کو کرنا ہوگا۔ ہم پھر سے واضح کر رہے ہیں کہ ہم جہیز کے سخت خلاف ہیں البتہ گھر اگر سٹیشن سے قریب نہ ملے تو لڑکے کو نوکری پر آنے جانے کے لئے اسکوٹر یا موٹر سائیکل کا انتظام ہوجائے تو اچھا ہے۔ ہمیں کچھ نہیں چاہیے، آپ کے داماد کو آسانی ہو جائے گی۔

یہ بھی پڑھئے: گنگا جمنی تہذیب کیا ہے؟اسے کس نے فروغ دیا؟

۲)رشتہ مطلوب ہے۔ ہمارالڑ کا پڑھا لکھا تو نہیں ہے البتہ ہمیں ایڈیڈ اسکول کی ٹیچر سے رشتہ مطلوب ہے۔ لڑکی کم از کم پانچ سال کی نوکری کر چکی ہو اور ساتویںپے کمیشن کی تنخواہ پانے والی ہو۔ ہمیں کچھ نہیں چاہیے، البتہ آپ کی بیٹی کے رشتہ کا دیرینہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ ہم آپ کو ڈرا نہیں رہے البتہ اگر آپ کی لڑکی کی عمر بڑھتی گئی تب کو الیفکیشن ساتویں پے کمیشن کی ملازمت، خوبصورتی یہ سب کام نہیں آئے گا۔ ۳۲/۳۵سال کی عمر کے بعد تو نہ جانے کیسے کیسے سمجھوتے کرنے پڑ سکتے ہیں، پھر آپ کہنے پر مجبور ہو سکتے ہیں کہ طلاق شدہ بھی چلے گا، اس کے دو چار بچّے سنبھالنے پڑیں تب بھی حرج نہیں وغیرہ وغیرہ۔ ہمیں ایسی لڑکی چاہئے جو وفاشعار وفرماں بردار ہو جو ہر ایک تاریخ کو اپنی پوری تنخواہ اپنے شوہر کے ہاتھ میں لا کر دے دے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ اپنے میکے کوبھول جائے، ہر گز نہیں۔ وہ ٹیوشن کے پیسوں سے ہر سال عید پر اپنے ماں باپ کو ایک ایک جوڑا یقیناً سلوالے ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔تنخواہ کی سلپ کے ساتھ عرضی کریں۔

۳)ہمارے اکلوتے بیٹے کے لئے کانوینٹ سے پڑھی ہوئی لڑکی سے رشتہ مطلوب ہے۔ کسی دوسرے میڈیم سے پڑھی ہوئی لڑکیاں براہ کرم زحمت نہ کریں، لڑکی روانی کے ساتھ انگریزی بولنے والی ہو۔ آج مجبوراً ہم اردو اخبار میں یہ اشتہار چھپوا رہے ہیں۔ ورنہ برسوں پہلے ہی ہم نے اُردو اخبار پڑھنا بندکردیا ہے۔ ہم گھر میں بھی صرف انگریزی ہی میں بات کرتے ہیں حتّیٰ کہ اپنے کتّے سے بھی ہم انگریزی میں بات کرتے ہیںلہٰذا امریکن لہجہ میں انگریزی بات کرنے والی لڑکی ہی سے رشتہ مطلوب ہے۔عرضی اچھی انگریزی میں لکھیں۔ اُردو میں کوئی عرضی نہ کریںکیوں کہ ہمارے گھر میں اُردو جاننے والے واحد شخص یعنی دادا جان تو تھے جو اَب اس دُنیا سے گزر چکے ہیں اور گھر میں اُردوجاننے والا کوئی نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: حفظ مراتب کا فقدان سماجی اقدار کو مسخ کر رہا ہے

۴)ہمارے دو بیٹوں کے لئے رشتہ درکار ہے۔ بیٹے اعلیٰ خاندان کے ہیں۔ دونوں بیٹے ایم ڈی ڈاکٹر ہیں۔ دونوں کے لئے ہم نے ایم بی بی ایس کی سیٹ کے لئے ساٹھ لاکھ روپے اور ایم ڈی کے لئے دو کروڑ روپے خرچ کئے ہیں کیونکہ ہمارا گھرانہ ڈاکٹر گھرانہ ہے۔ لہٰذا ہمارے بیٹوں کا بھی ڈاکٹر بننا ہمارے شایان شان ہی تھا۔علاوہ ازیں دونوں کو دوا خانہ بھی کھولنا ہے۔ اچھے علاقے میں دواخانہ یا کنسلٹنگ روم کھولنے کے لئے ایک ایک کروڑ کا خرچ تو ہے ہی۔ ہمیں کچھ نہیں چاہئے البتہ ہمارے بیٹوں پر اب تک جو خرچ کرچکے ہیں وہ بیان کر رہے ہیں۔ ہمار ے ایک بیٹے نے ایم ڈی ریڈیالوجی اور دوسرے نے کارڈیالوجی میں کیا ہے اور یہ دونوں برانچ یوں سمجھئے ٹکسال ہیں۔ 

۵)ہمارے بیٹے کے لئے شہر کے پاش علاقے میں رہنے والی لڑکی سے رشتہ مطلوب ہے۔ مذہب کی کوئی قید نہیں۔ ہم خود بھی گر چہ مسلم گھرانے میں پیدا ہوئے مگر ہم آزاد اور روشن خیال لوگ ہیں اس لئے مذہب وغیرہ میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ شادی کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں کرنے کی حیثیت رکھتے ہوں ، شادی کے لئے بجٹ ایک کروڑ کا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: گاؤں میں آج بھی ایسے کئی گھر ہیں جہاں ’اُپلوں‘ کی مدد سے کھانے پکتے ہیں

۶)ہمارے اکلوتے بیٹے کے لیے رشتہ درکار ہے۔ اس کے پاس خلیجی ملک کا ڈرائیونگ لائسنس بھی ہے۔ ابھی اس کی وہاں کوئی مستقل نوکری نہیں ہے۔ ہم یہ اشتہار تیسری بار شائع کر رہے ہیں۔ ہم نے پہلے اشتہار میں لکھا تھا کہ لڑکااِنڈیاآکر بھی ڈرائیونگ کرنے کوتیار ہے اس لیے لڑکی والے اولا یا اوبر گاڑی کا انتظام کریں۔ دوسرے اشتہارمیں کہا تھا کہ کالی پیلی ٹیکسی بھی چلے گی۔ اب ہم اس بات پر راضی ہیں کہ لڑکی والے رکشا خرید کر دے دیں۔ اب لڑکی والے یہ نہ سمجھیں کہ اگلی مرتبہ اشتہار دے کر ہم بیل گاڑی پر راضی ہو جائیں گے کیونکہ پہلے ہی اشتہار سے رکشا دینے والے کئی آفر ہمیں آچکے ہیں۔

۷)ہمارا ایک میریج بیورو ہے۔ ہم ہر سال دولہے کا ریٹ کارڈ شائع کرتے رہتے ہیں۔ اب اس سال کا تجدید شدہ ریٹ کارڈ یہ ہے :( ۱) آئی اے ایس/ آئی پی ایس افسر : ایک تا دیڑھ کروڑ روپے۔( ۲) آئی آئی ٹی سے ایم ٹیک یا آئی آئی ایم سے ایم بی اے: ایک کروڑ روپے۔( ۳) سپراسپیشیلسٹ ڈاکٹر :دو کروڑ روپے۔ (۴) ایم ڈی/ایم ایس ڈاکٹر :ایک کروڑ روپے۔ (۵) ایم بی بی ایس ڈاکٹر : ۶۰؍ لاکھ روپے۔ (۶) انجینئر : ۴۰؍لاکھ روپے۔ (۷) لیکچرر/ پروفیسر :۲۵؍لاکھ روپے۔(۸) بینک/ دفتر میں افسر: ۱۵؍ لاکھ روپے۔ (۹) بینک/دفتر : میں پیون: ۵؍ لاکھ روپے + ولیمہ کا خرچ۔ (نوٹ: کالے یا سانولے رنگ کی لڑکیوں کے والدین ان میں ۲۵؍ فیصد زائد جوڑ لیں۔ جی ایس ٹی معاف ہے)

یہ بھی پڑھئے: اُردو قومی تہذیب کا خوبصورت اظہار ہے: پروفیسر ناگاارجن واڈیکر

۸)ہمارے تین بیٹوں کے لئے رشتہ درکار ہے۔ تینوں میں سے ہر ایک کی ایک دو بار طلاق ہو چکی ہے۔ اب آپ یہ نہ سمجھیں کہ یہ’ طلاق گھرانہ‘ ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ ہر بار ہم پر جھوٹے الزام لگائے گئے کہ ہم نے جہیز کے لئے بہوؤں کو تنگ کیا،ستایا بلکہ ہم پر تو بہوؤں کو زندہ جلانے کا بھی الزام لگایا گیا، ایک بہو نے خودکشی کی اُس کا الزام بھی ہم پر عائد کردیا گیا۔ پولیس کیس بھی بنا۔ ہم یہ پہلے ہی سے اس لئے بتا رہے ہیں تا کہ آپ جب رشتہ طے کرنے ہمارے گھر آئیں گے تب ہمارے سارے پڑوسی آپ کو ورغلائیں گے، آپ اُن کی باتوں میں نہ آئیں۔ لوگ کسی کا بھلا نہیں دیکھ سکتے اسلئے حسد و جلن کے مارے ایسا بولتے ہیں۔ آپ ان افواہوں پر دھیان نہ دیں۔

۹)میری چار بیٹیاں ہیں۔ چاروں ہی بیٹیاں نہایت متّقی، پرہیز گاراور دیندار ہیں۔ مکمل حجاب کی پابند ہیں۔ دنیاوی ساری خرافات سے دُور ہیں۔ میرے پاس جہیز دینے کیلئے کچھ بھی نہیں ہے۔ کیا کوئی ہے جو میری بیٹیوں کیلئے رشتے کا پیغام بھیجے؟کیا بغیر جہیز کے شادی کیلئے راضی ہونے والا کوئی بیٹا اور اس کے والدین اب بھی ہمارے مسلم معاشرے میں موجود ہیں؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK