• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

مسلم دُنیا اتنی خاموش کیوں ہے؟

Updated: November 08, 2023, 9:11 AM IST | Parvez Hafeez | Mumbai

پچھلے ایک ماہ میں دنیا میں جہاں یہ خوش آئند تبدیلی نظر آئی کہ اپنے حکمرانوں اور اشرافیہ کی اندھی اسرائیل نوازی کے برخلاف مغرب کی نوجوان نسل حق اور باطل کی اس جنگ میں فلسطینیوں کے ساتھ کھڑی ہے، افسوس کہ دوسری جانب ۵۷؍مسلم ممالک میں سے دو تین کو چھوڑ کر کسی کی آواز سنائی نہیں دے رہی ہے۔

Condemning Israeli brutality against Palestinians in Gaza, Bolivia has cut diplomatic ties with Israel and two neighboring countries, Chile and Colombia, have recalled their ambassadors from Israel in protest.. Photo: INN
غزہ میں فلسطینیوں پر ہورہی اسرائیلی بربریت کی مذمت کرتے ہوئے بولیویا نے اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی رشتے منقطع کرلئے ہیں اور دو پڑوسی ممالک چلی اور کولمبیا نے احتجاجاً اسرائیل سے اپنے سفیر واپس بلالئے ہیں۔۔ تصویر:آئی این این

غزہ میں فلسطینیوں پر ہورہی اسرائیلی بربریت کی مذمت کرتے ہوئے بولیویانے اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی رشتے منقطع کرلئے ہیں اور دو پڑوسی ممالک چلی اور کولمبیا نے احتجاجاً اسرائیل سے اپنے سفیر واپس بلالئے ہیں۔برازیل کے صدر لو لو نے غزہ کا نام و نشان مٹادینے پر مصر نیتن یاہو کو پاگل قرار دے دیا۔ لاطینی امریکہ کے ان ممالک کی نہ سرحدیں غزہ سے ملتی ہیں اور نہ ہی ان کا غزہ کے باسیوں سے کوئی مذہبی، نسلی، لسانی اور تہذیبی رشتہ ہے لیکن اس کے باوجود وہ بے گناہوں کے قتل عام پر خاموش نہ رہ سکے۔اب ذراان درجنوں مسلم اور خصوصاً عرب ممالک کے سرد رویے پر غورفرمائیے جن کا فلسطینیوں کے ساتھ مذہبی، نسلی، لسانی اور تہذیبی ناطہ ہے۔ بچپن سے سنتا آیا ہوں کہ کہ امت مسلمہ کا دل فلسطین کے لئے دھڑکتا ہے۔ پھر اس وقت اس دل کی دھڑکنیں سنائی کیوں نہیں دے رہی ہیں؟
گزشتہ ایک ماہ سے غزہ کی چھوٹی سے پٹی میں قید ۲۳؍لاکھ فلسطینی شہریوں پر صہیونی فوج ظلم و استبداد کے پہاڑ توڑرہی ہے۔ دس ہزار نہتے اور بے قصور فلسطینی شہری لقمہ اجل بن چکے ہیں جن میں چار ہزار معصوم بچے شامل ہیں۔ صرف گلوبل ساؤتھ کے ترقی پزیر ممالک ہی نہیں یورپ اور امریکہ کے عام شہری بھی لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر اترکر اسرائیلی درندگی کی مذمت اور فوری جنگ بندی کی اپیل کررہے ہیں۔۷؍ اکتوبر کے بعد امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی اسرائیل کی غیر مشروط حمایت میں کھڑے ہوگئے، بائیڈن، سونک اورمیکرون تل ابیب جاپہنچے اوربنجامن نیتن یاہو کی پیٹھ تھپتھپا کر انہیں غزہ کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی کھلی چھوٹ دے دی۔ مغرب کے سرمایہ دار، اشرافیہ اور میڈیا غزہ پر صہیونی جارحیت کو جائز ٹھہرانے اور فلسطینیوں کو ہی مجرم ٹھہرانے کی کوشش میں مصروف ہوگئے۔ لیکن پچھلے ایک ماہ میں دنیا میں یہ خوش آئند تبدیلی بھی نظر آئی کہ اپنے حکمرانوں اور اشرافیہ کی اندھی اسرائیل نوازی کے برخلاف مغرب کی نوجوان نسل حق اور باطل کی اس جنگ میں فلسطینیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔مغربی راجدھانیوں میں فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے مظاہروں کی تعداد ہر روز بڑھتی جارہی ہے۔ جس وہائٹ ہاؤس میں بیٹھ کربائیڈن نیتن یاہوکے انسانیت سوز جنگی جرائم کا دفاع کررہے ہیں اسی وہائٹ ہاؤس کے سامنے سنیچر کو ہزاروں امریکی شہری فلسطینیوں پر ہورہے صہیونی مظالم کی بائیڈن انتظامیہ کی سرپرستی کی مذمت کررہے تھے۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق’’فلسطینیوں کے ساتھ امریکی یکجہتی کا یہ اب تک کا سب سے بڑا مظاہرہ‘‘تھا۔افسوس کہ ایک طرف اس امریکہ میں جہاں یہودیوں کا سکہ چلتا ہے اسرائیلی جارحیت کی کھل کر مذمت کی جارہی ہے اور دوسری جانب ۵۷؍مسلم ممالک میں سے دو تین کو چھوڑ کر کسی کی آواز سنائی نہیں دے رہی ہے۔ ۷؍ اکتوبر کے بعدپہلے ردعمل میں متحدہ عرب امارات اوربحرین نے حماس کے حملوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان سے خطے میں کشیدگی میں خطرناک اضافہ ہوگا۔ عرب لیگ نے اپنے پہلے اجلاس میں شہریوں کو نشانہ بنانے کیلئے حماس اور اسرائیل دونوں کی مذمت کی۔ مطلب یہ کہ اسرائیل کی کھل کر مذمت کرنے کا بھی حوصلہ نہیں ہے۔ ترکی کے صدر طیب اردگان نے اسرائیلی بمباری کے تیرہ دنوں بعد زبان کھولی۔ عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کو اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مظالم پر ایک مشترکہ مذمتی بیان دینے میں بیس دن لگ گئے۔ پچھلے ایک ماہ میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جنگ بندی کی ایک قرارداد پاس کرانے کے سوا ، دو ارب مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والے ان ممالک نے کیا کارنامہ انجام دیا ہے؟ایران تو عربوں سے بڑھ کر فلسطینیوں اور خصوصاً حماس کا سرپرست اور مددگاررہا ہے۔ ایران کے صدر ابراہیم رئیسی ہوں یاروحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ائی دونوں کے بیانات بے دلی سے دیئے ہوئے کیوں لگتے ہیں؟ ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی رشتے دوبارہ بحال ہوچکے ہیں اورسعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے غزہ میں فوری جنگ بندی کی حکمت عملی پر ایرانی صدر ابراہیم رئیسی سے فون پر تبادلہ خیال بھی کیا تھا لیکن ایک ماہ بعد بھی اس کا کوئی معنی خیز نتیجہ کیوں نہیں برآمد ہوا؟
اسرائیل اسپتالوں، اسکولوں، پناہ گزیں کیمپوں یہاں تک کہ ایمبولینس کے قافلوں کو بھی نشانہ بنارہا ہے۔ صہیونی دعویٰ تو حماس کو ختم کرنے کا کررہے ہیں لیکن غزہ کو فلسطینی شہریوں سے خالی کرایا جارہا ہے۔ غزہ دو ٹکڑوں میں کاٹ دیا گیا ہے اور شمالی غزہ سے گیارہ لاکھ فلسطینیوں کو جنوبی غزہ میں دھکیلنے کی تیاری مکمل ہوچکی ہے۔ فضاؤں سے آگ برسانے کے بعد، اسرائیلی ٹینک غزہ کے اندر داخل ہوچکے ہیں۔ بڑے پیمانے پر قتل عام کبھی بھی شروع ہوسکتا ہے۔ ایک اسرائیلی وزیر نے فوج کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غزہ کو نیوکلئیر بم سے اڑا دے تاکہ قصہ ہی ختم ہوجائے۔ اسرائیل کو اتنا حوصلہ اسلئے ہوتا ہے کہ اسے علم ہے کہ عرب ریاستوں میں نہ اتحاد ہے اور نہ ہی طاقت۔ اسرائیل یہ بھی سمجھ گیا ہے کہ عرب حکمراں فلسطینیوں کے مصائب اور مسائل سے اب بے نیاز بھی ہوچکے ہیں اور بے پروا بھی۔
میں یہ نہیں کہ رہا ہوں کہ عرب ممالک بھی اس جنگ میں کودپڑیں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ ہر ملک کی اپنی اپنی مصلحتیں اور اپنے اپنے مفاد ہیں۔ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ چند کی اپنی اپنی مجبوریاں بھی ہیں۔ ان عرب ممالک سے جن کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر آچکے ہیں میں صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا انہیں یہ احساس جرم نہیں ستاتا ہے کہ انہوں نے اس نیتن یاہو سے ہاتھ ملایا ہے جس کے ہاتھوں پر فلسطینیوں کا لہو ہے۔ کیا اس وقت متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان، مراقش، مصر اور اردن کو نیتن یاہو کو یہ وارننگ نہیں دینی چاہئے کہ غزہ پر بمباری بند کرو ورنہ ہم اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات پر دوبارہ غور کریں گے؟ کیا سعودی ولی عہد نیتن یاہو کو یہ پیغام نہیں دے سکتے ہیں کہ فلسطینیوں کا قتل عام اگر جاری رہا تو ہمارے تعلقات معمول پر نہیں آسکتے ہیں؟
پس نوشت: چھ یا سات سال قبل ۴۱؍مسلم ممالک کا ایک فوجی اتحاد کا قیام عمل میں آیا تھا جسے "Muslim Nato" کا نام دیا گیا تھا۔ ایک اسلامی آرمی بھی تشکیل دی گئی تھی اور پاکستان کے ریٹائرڈ فوجی سربراہ راحیل شریف کو اس کا کمانڈر ان چیف مقرر کیا گیا تھا۔ اس اسلامی ملٹری کا ہیڈ کوارٹرسعودی عرب کی راجدھانی ریاض میں ہے۔ مجھے صرف یہ جاننا تھا کہ اس وقت جب دس ہزار بے گناہ فلسطینی شہری اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہوچکے ہیں، ان ۴۱؍ میں سے کسی ایک رکن ملک کو بھی اس اسلامی ملٹری کا خیال نہیں آیا؟

palestine Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK