ہماری نمازیں بے اثر کیوں ؟

Updated: November 12, 2021, 2:19 PM IST | Maulana Syed Abu Ali Maududi

اس سوال کا مختصر جواب تو یہ ہو سکتا ہے کہ اول تو اکثر لوگ نماز پڑھتے ہی نہیں اور پڑھتے بھی ہیں تو اس طریقہ سے نہیں پڑھتے جو خدا اور رسولؐ نے بتایا ہے۔ اس لئے ان فائدوں کی توقع آپ نہیں کر سکتے جو مومن کو معراج کمال تک پہنچانے والی نماز سے پہنچنے چاہئیں۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ صرف اتنا سا جواب آپ کو مطمئن نہیں کر سکتا، اس لئے ذرا تفصیل کے ساتھ آپ کو یہ بات سمجھاؤں گا۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

ایک مثال… گھڑی
یہ گھنٹہ (گھڑی جو دیوار پر آویزاں ہوتی ہے) جو آپ کے سامنے لٹک رہا ہے، آپ دیکھتے ہیں کہ اس میں بہت سے پرزے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ جب اس کو کوک (چابی) دی جاتی ہے تو سب پرزے اپنا کام شروع کر دیتے ہیں اور ان کے حرکت کرنے کے ساتھ ہی باہر کے سفید تختے پر ان کی حرکت کا نتیجہ ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یعنی گھنٹے کی دونوں سوئیاں چل کر ایک ایک سیکنڈ اور ایک ایک منٹ بتانے لگتی ہیں۔ اب آپ ذرا غور کی نگاہ سے دیکھئے، گھنٹے کے بنانے کا مقصد یہ ہے کہ وہ صحیح وقت بتائے۔ اسی مقصد کے لئے گھنٹے کی مشین میں وہ سب پرزے جمع کئے گئے جو صحیح وقت بتانے کے لئے ضروری تھے۔ پھر ان سب کو اس طرح جوڑا گیا کہ سب مل کر باقاعدہ حرکت کریں اور ہر پرزہ وہی کام اور اتنا ہی کام کرتا چلا جائے جتنا صحیح وقت بتانے کے لئے اس کو کرنا چاہئے۔ پھر کوک دینے کا قاعدہ مقرر کیا گیا تاکہ ان پرزوں کو ٹھہرنے نہ دیا جائے اور تھوڑی تھوڑی مدت کے بعد ان کو حرکت دی جاتی رہے۔ اس طرح جب ان تمام پرزوں کو ٹھیک ٹھیک جوڑا گیا اور ان کو کوک دی گئی تب کہیں یہ گھنٹہ اس قابل ہوا کہ وہ مقصد پورا کرے، جس کے لئے یہ بنایا گیا ہے۔ اگر آپ اسے کوک نہ دیں تو یہ وقت نہیں بتائے گا۔ اگر آپ کوک دیں، لیکن اس قاعدے کے مطابق نہ دیں جو کوک دینے کے لئے مقرر کیا گیا ہے، تو یہ بند ہو جائے گا، یہ چلے گا بھی تو صحیح وقت نہ بتائے گا۔ اگر آپ اس کے بعض پرزے نکال ڈالیں اور پھر کوک دیں تو اس کوک سے کچھ حاصل نہ ہو گا۔ اگر آپ اس کے بعض پرزوں کو نکال کر اس کی جگہ سنگر مشین کے پرزے لگا دیں اور پھر کوک دیں تو یہ نہ وقت بتائے گا اور نہ کپڑا ہی سیئے گا۔ اگر آپ اس کے سارے پرزے اس کے اندر ہی رہنے دیں لیکن ان کو کھول کر ایک دوسرے سے الگ کر دیں تو کوک دینے سے کوئی پرزہ بھی حرکت نہ کرے گا۔ کہنے کو سارے پرزے اس کے اندر موجود ہوں گے مگر محض پرزوں کے موجود رہنے سے وہ مقصد حاصل نہ ہو گا جس کے لئے گھنٹہ بنایا گیا ہے۔ کیونکہ ان کی ترتیب اور ان کا آپس کا تعلق آپ نے توڑ دیا ہے جس کی وجہ سے وہ مل کر حرکت نہیں کر سکتے۔ یہ سب صورتیں میں نے آپ سے بیان کی ہیں، ان میں اگرچہ گھنٹے کی ہستی اور اس کو کوک دینے کا فعل دونوں بیکار ہو جاتے ہیں لیکن دور سے دیکھنے والا یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ گھنٹہ نہیں ہے یا آپ کوک نہیں دے رہے ہیں۔ وہ تو یہی کہے گا کہ صورت بالکل گھنٹے جیسی ہے اور یہی امید کرے گا کہ گھنٹہ کا جو فائدہ ہے وہ اس سے حاصل ہونا چاہئے۔ اسی طرح دور سے جب وہ آپ کو کوک دیتے ہوئے دیکھے گا تو یہی خیال کرے گا کہ آپ واقعی گھنٹے کو کوک دے رہے ہیں، وہ یہی توقع کرے گا کہ گھنٹے کے کوک دینے پر جو نتیجہ ہے وہ ظاہر ہونا چاہئے۔ لیکن یہ توقع پوری کیسے ہو سکتی ہے جبکہ یہ گھنٹہ بس دور سے دیکھنے ہی کا گھنٹہ ہے اور حقیقت میں اس کے اندر ’’گھنٹہ پن‘‘ باقی نہیں رہا ہے؟
امت مسلمہ کا مقصد
یہ مثالیں جو میں نے آپ کے سامنے بیان کی ہیں، اس سے آپ سارا معاملہ سمجھ سکتے ہیں۔ اسلام کو اسی گھنٹے پر قیاس کرلیجئے ۔ جس طرح گھنٹے کا مقصد صحیح وقت بتانا ہے ، اسی طرح اسلام کا مقصد یہ ہے کہ زمین میں آپ خدا کے خلیفہ، خلق پر خدا کے گواہ اور دنیا میں دعوت ِ حق کے علمبردار بن کر رہیں، خود خدا کے حکم پر چلیں، سب سے خدا کے حکم کی تعمیل کی توقع کریں اور سب کو خدا کے قانون کا تابع بنانے کیلئے کوشاں رہیں۔ اس مقصد کو صاف طور پر قرآن میں بیان کردیا گیا ہے :
 (۱) ’’اب دنیا میں وہ بہترین امت تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لئے میدان میں لایا گیا ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘ (آل عمران:۱۱۰)(۲) ’’اور اِسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک ’امت وسط‘ بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو۔‘‘  (البقرہ:۱۴۳)
(۳) ’’اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے اُن لوگوں کے ساتھ، جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں، کہ وہ ان کو اُسی طرح زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح اُن سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بنا چکا ہے۔‘‘ (النور:۵۵)
اسلامی احکام باہم مربوط ہیں جیسے گھڑی کے پرزے: اس مقصد کو پوا کرنے کے لئے گھنٹے کے پرزوں کی طرح اسلام میں بھی وہ پرزے جمع کئے گئے ہیں جو اس غرض کے لئے ضروری اور مناسب تھے۔ دین کے عقائد و اخلاق کے اصول، معاملات کے قاعدے، خدا کے حقوق، بندوں کے حقوق، خود اپنے نفس کے حقوق، دنیا کی ہر چیز کے حقوق جس سے آپ کو واسطہ پیش آتا ہے، کمانے کے قاعدے اور خرچ کرنے کے طریقے، جنگ کے قانون اور صلح کے قاعدے،یہ سب اسلام کے پرزے ہیں اور ان کو گھڑی کے پرزوں کی طرح ایک ایسی ترتیب سے ایک دوسرے کے ساتھ کسا گیا ہے کہ جونہی اس میں کوک دی جائے، وہ پرزہ دوسرے پرزوں کے ساتھ مل کر حرکت کرنے لگے ۔ گھڑی میں پرزوں کو ایک دوسرے کے ساتھ باندھے رکھنے کے لئے چند کیلیں اور پتریاں لگائی گئی ہیں، اسی طرح اسلام کے تمام پرزوں کو ایک د وسرے کے ساتھ جڑا رکھنے اور ان کی صحیح ترتیب قائم رکھنے کے لئے وہ چیز رکھی گئی ہے جس کو نظامِ جماعت کہا جاتا ہے، یعنی مسلمانوں کا ایک ایسا سردار جو دین کا صحیح علم اور تقویٰ کی صفت رکھتا ہو، جماعت کے دماغ مل کر اس کی مدد کریں، جماعت کے ہاتھ پاؤں اس کی اطاعت کریں، ان سب کی طاقت سے وہ اسلام کے قوانین نافذ کرے اور لوگوں کو اُن قوانین کی خلاف ورزی سے روکے۔ اس طریقے سے جب سارے پرزے ایک دوسرے سے جڑ جائیں اور ان کی ترتیب ٹھیک ٹھیک قائم ہوجائے تو ان کو حرکت دینے اور دیتے رہنے کیلئے کوک کی  ضرورت ہوتی ہے، اور وہی کوک یہ نماز ہے جو روز  پانچ وقت پڑھی جاتی ہے۔ پھر اس گھڑی کو صاف کرتے رہنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور وہ صفائی یہ روزے ہیں جو سال بھر میں تیس دن رکھے جاتے ہیں، اور اس گھڑی کو تیل دیتے رہنےکی ضرورت ہے، سو زکوٰۃ وہ تیل ہے جو سال بھر میں ایک مرتبہ اس کے پرزوں کو دیا جاتا ہے، یہ تیل کہیں باہر سے نہیں آتا بلکہ اسی گھڑی کے بعض پرزے تیل بناتے ہیں اور بعض سوکھے ہوئے پرزوں کو روغن دار کرکے آسانی کے ساتھ چلنے کے قابل بنادیتے ہیں۔ پھر اسے کبھی کبھی اوورہال کرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے، سو وہ اوورہالنگ حج ہے جو عمرمیں (صاحب ِ نصاب پر) ایک مرتبہ کرنا ضروری ہے، اور اس سے زیادہ جتنا کیا جاسکے اتنا ہی بہتر ہے۔
متفرق پرزوں کا جوڑ کار آمد نہیں:  اب آپ غور کیجئے کہ یہ کوک دینا اور صفائی کرنا اور تیل دینا اور اوورہال کرنا اسی وقت تو مفید ہو سکتا ہے جب اس فریم میں اسی گھڑی کے سارے پرزے موجود ہوں، ایک دوسرے کے ساتھ اسی ترتیب سے جڑے ہوئے ہوں جس ترتیب سے گھڑی ساز نے انہیں جوڑا تھا، اور ایسے تیار رہیں کہ کوک دیتے ہی اپنی مقررہ حرکت کرنے لگیںاور حرکت کرتے ہی نتیجہ دکھانے لگیں۔ لیکن یہاں معاملہ ہی کچھ دوسرا ہوگیا ہے۔ اول تو وہ نظام جماعت ہی باقی نہیں رہا جس سے اس گھڑی کے پرزوں کو باندھا گیا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سارے پیچ ڈھیلے ہوگئے اور پرزہ پرزہ الگ ہو کر بکھر گیا۔ اب جو جس کے جی میں آتا ہے کرتا ہے۔ کوئی پوچھنے والا ہی نہیں، ہر شخص مختار ہے۔ ا س کا دل چاہے تو اسلام کے قانون کی پیروی کرے اور نہ چاہے تو نہ کرے۔ اس پر بھی آپ لوگوں کا دل ٹھنڈا نہ ہوا تو آپ نے اس گھڑی کے بہت سے پرزے نکال ڈالے اور ان کی جگہ ہر شخص نے اپنی اپنی پسند کے مطابق جس دوسری مشین کا پرزہ چاہا لاکر اس میں فٹ کردیا۔ کوئی صاحب سنگر مشین کا پرزہ پسند کرکے لے آئے، کسی صاحب کو آٹا پیسنے کی چکی کا کوئی پرزہ پسند آگیا تو وہ اسے اٹھا لائے، اور کسی صاحب نے موٹر لاری کی کوئی چیز پسند کی تو اسے لاکر اس گھڑی میں لگادیا۔ اب آپ مسلمان بھی ہیں اور بینک سے سودی کاروبار بھی چل رہا ہے، انشورنس کمپنی میں بیمہ بھی کرا رکھا ہے، بچوں کو مادہ پرستانہ تعلیم بھی دی جارہی ہے …غرض کوئی غیر اسلامی چیز ایسی نہیں رہی جسے ہمارے بھائی مسلمانوں نے لا لا کر اسلام کی اس گھڑی کے فریم میں ٹھونس نہ دیا ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK