کیا امریکہ۔ایران جوہری معاہدہ بحال ہوگا؟

Updated: December 01, 2021, 3:14 PM IST | Pravez Hafeez

نیفتالی بینیٹ معاہدہ کی بحالی روکنے کیلئے نیتن یاہو کا پرانا راگ الاپ رہے ہیں کہ ایران ایٹمی طاقت بننے کی راہ پر گامزن ہے۔ بینیٹ یہ دھمکی بھی دے رہے ہیں کہ اسرائیل ایران کیخلاف فوجی کارروائی کرکے اس کی ایٹمی تنصیبات کوتباہ کردے گا۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

پیر کے دن ویانا میں ایران اور بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے کوبحال کرنے کے لئے اہم مذاکرات کا آغاز ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ ایران کےعلاوہ برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس، چین اور یورپی یونین کے مندوبین ان مذاکرات میں شریک ہیں۔ ایران نے امریکہ کے ساتھ اس وجہ سے براہ راست مذاکرات سے انکارکردیا کہ وہ معاہدے سے تین سال قبل علاحدہ ہوچکا ہے۔ اس لئے عالمی طاقتیںامریکی وفد اور ایرانی وفد کے درمیان ترسیل کے پل کا کام کررہی ہیں۔بارک اوبامہ کی کوششوں اور عالمی طاقتوں کے بھرپور اعانت سے جولائی ۲۰۱۵ء  میں JCPOA نام کا یہ معاہدہ ہوا تھا جس پر امریکہ اور ایران کے علاوہ روس، چین،برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے بھی دستخط کئے۔ جوہری پروگرام کو محدود رکھنےپرایران کی آمادگی کے عوض میں امریکہ نے اس پر عائد پابندیاں ہٹالیں۔تہران مکمل طور پر جوہری معاہدے کی پاسداری کررہا تھا۔  اقوام متحدہ کے معائنہ کار ایرنی جوہری تنصیبات کے چپے چپے کی تلاشی لیتے رہے اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) بار بار ایران کو کلین چٹ دیتی رہی۔ ان سب کے باوجود ڈونالڈ ٹرمپ نے مئی ۲۰۱۸ء   میں جوہری معاہدہ کو پھاڑ کر پھینک دیا کیونکہ انہوں صدر منتخب ہونےکے قبل طاقتور یہودی لابی سے یہ وعدہ کیا تھا۔امریکی علاحدگی کے باوجود ایران یکطرفہ طور پرمعاہدے پر قائم رہا۔ لیکن ٹرمپ نے جب متعدد نئی پابندیاں بھی لگادیں تو تہران کے صبر کا پیمانہ بھی لبریزہوگیا اور اس نے معاہدے کی شرائط ماننے سے انکار کردیا۔ویانا میں ہونے والےمذاکرات جو بائیڈن کی ایران معاہدے کی دوبارہ بحالی کے ان کے انتخابی وعدے کی تکمیل کی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ رواں برس میں وہائٹ ہاؤس میں ایک نئے صدر کی آمد کے ساتھ ساتھ تل ابیب اور تہران میں بھی نئے حکمراں مسند اقتدار پر جلوہ افروز ہوچکے ہیں۔نیفتالی بینیٹ نیتن یاہو سے زیادہ شدت پسندصہیونی سیاستداں ہیںاورابراہیم رئیسی بھی حسن روحانی سے زیادہ سخت گیر ہیں۔ بینیٹ معاہدہ کی بحالی روکنے کے لئے نیتن یاہو کا پرانا راگ الاپ رہے ہیں کہ ایران ایٹمی طاقت بننے کی راہ پر گامزن ہے۔ بینیٹ یہ دھمکی بھی دے رہے ہیں کہ اسرائیل ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرکے اس کی ایٹمی تنصیبات کوتباہ کردے گا۔ حکومت نے ایران کی جوہر ی تنصیبات کو تباہ کرنےکے لئے اسرائیلی فوج کو خصوصی تیاری کے لئے ڈیڑھ ارب ڈالر کا خطیرفنڈ بھی فراہم کیا ہے۔تہران شروع سے یہ دعویٰ کرتا رہا ہے اور ابھی بھی اپنے اس موقف پر مصر ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن اور شہری مقاصد کیلئے ہے اور یہ کہ اس کا ایٹمی ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ لیکن اسرائیلی عسکری ماہرین کا دعویٰ ہےکہ ایران ایک ماہ کے اندر ایک نیوکلیئرہتھیار بنا سکتا ہے۔ بینیٹ نے واشنگٹن کو یہ وارننگ بھی دی ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں دوبارہ شامل بھی ہوجاتا ہے پھر بھی اسرائیل اپنی’’کارروائی کی آزادی‘‘ کو قائم رکھے گا۔ اسرائیل کو اس کی پرواہ نہیں ہے کہ’’ہمارے قریبی ترین دوست ‘‘ کو یہ بات بری لگے گی۔ اس وارننگ کو بینیٹ کی گیدڑ بھبھکی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ چالیس سال قبل ۱۹۸۱ء  میں ساری دنیا کو حیرت میں ڈال کر اسرائیلی فائٹر جیٹ نے عراق کے ایٹمی ریاکٹر کوتباہ کردیا تھا۔ اسرائیل نے اسی طرح ۲۰۰۷ء  میں سیریا کے زیر تعمیر ایٹمی  ریاکٹر کو بھی بم سے اڑا دیا تھا حالانکہ کم لوگ اس بات سے واقف ہیں۔ اسرائیل ڈیفنس فورسز اور موساد کا اس طرح کی تخریب کاریوں کاپرانا ریکارڈ رہا ہے۔  پچھلے دو برسوں میں ایران کے مختلف نیوکلیئرٹھکانوں پر چار چار دھماکے ہوچکےہیں اور اس سرکردہ سائنسداں (محسن فخری زادے) کا قتل بھی کیا جا چکاہے جنہیں  ایران کے جوہری پروگرام کا معمار کہا جاتا ہے۔ ایران کو شک نہیں یقین ہے کہ ان جرائم کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہے۔اسرائیل کا یہ پروپیگنڈہ بالکل بوگس ہے کہ ایران اس کی بقا کیلئے خطرہ ہے۔سچائی یہ ہے کہ اسرائیل کو یہ خدشہ ہے کہ جوہری طاقت والا ایران مشرق وسطیٰ میں اس کی دیرینہ دادا گیری کیلئے خطرہ ہے۔
  پیر کے دن ویانا میں جوہری مذاکرات کے آغاز سے چند گھنٹے قبل اسرائیلی وزیراعظم نے جارحانہ تیور برقرار رکھتے ہوئے عالمی طاقتوں کو یہ وارننگ دی کی کہ وہ ایران کے’’نیوکلیئر بلیک میلنگ‘‘ کے سامنے نہ جھکیں۔ بینیٹ امریکہ اور مغربی اتحادیوں پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ ایران پر سے پابندیاں نہ ہٹائیں اور اسے کوئی رعایت نہ دیں۔کیا یہ بات عجیب نہیں لگتی ہے کہ ایران کو ہر قیمت پر ایٹمی طاقت بننے سے روکنے پر وہ ممالک مصرہیں جو خود نہ صرف ایٹمی طاقتیں ہیں بلکہ ایٹمی ہتھیاروںسے لیس بھی ہیں۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ اسرائیل نے آج سے نصف صدی قبل ہی جوہری ہتھیار بنا لیا تھا۔ ابھی چند سال قبل سابق امریکی وزیر خارجہ کولن پاول کی ای میل لیک ہوئی تھی جس میں انہوں نے مانا تھا کہ اسرائیل کے پاس دو سے زیادہ ایٹم بم ہیں۔یاد رہے کہ اسرائیل نے آج تک جوہری عدم توسیع معاہدے (NPT) پر دستخط نہیں کیا ہے۔ ویانا مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت نائب وزیر خارجہ علی باقری کنی کررہے ہیں۔ دو دن قبل برطانیہ کے معتبر روزنامہ’’ فائناشیل ٹائمس‘‘ میں ان کا ایک مضمون شائع ہوا جس میں انہوں نے شکایت کی کہ مغرب کا رویہ منافقانہ اور غیر منصفانہ ہے، وہ ہمیشہ گول پوسٹ بدلتا رہتا ہے اور معاہدہ ہوجانے کے بعدایران پر نئے مطالبات کا بوجھ ڈالتا رہتا ہے۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ جوہری معاہدے پر عمل درآمد کرواتے کیونکہ وہ اس میں شامل تھے لیکن انہوں نے اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی اور ٹرمپ کو یکطرفہ طور پر معاہدہ سے دستبردار ہونے دیا۔ اس کے بعد بھی ایران سے ہی مطالبہ ہوتا رہا کہ وہ معاہدے کی شرائط پوری کرتا رہے، یورینیم کی افزودگی ہرگز نہ کرے اور IAEA کو جوہری تنصیبات کی جانچ کی کھلی چھوٹ دے۔باقری کا مطالبہ ہے کہ ان کے ملک پر عائد تمام پابندیوں کو فوری طور پر ہٹا لیا جائے اور اس بات کی ضمانت دی جائے کہ مستقبل میں نئی پابندیاں نہیں لگائی جائیں گی۔ ایران اس بات کی بھی گارنٹی چاہتا ہے کہ امریکہ مستقبل میں معاہدہ نہیں توڑ ے گا۔ 
 اتوار تک ابراہیم رئیسی حکومت مصر تھی کہ ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کی موقوفی ہی مذاکرات کا واحد جائز موضوع ہے۔ اس سخت موقف کی وجہ سے عالمی طاقتوں کو ان مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کی زیادہ امید نہیں تھی۔ اسلئے پیر کو ویانا میں باقری کی ۲۰۱۵ء کے جوہری معاہدے کی شرائط کی پاسداری پر بات چیت کیلئے رضامند ی نے مغربی سفارتکاروں کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کر دیا۔ تاہم ویانا مذاکرات کے کامیاب ہونے کی راہ میں کئی دشواریاں ہیں شایداسی لئے روسی مذاکرات کارمیخائیل اولیانوونے کہا وہ’’محتاط طور پر پر امید ہیں۔‘‘n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK