کیا ہندو راشٹر کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوگا؟

Updated: January 06, 2022, 1:59 PM IST | Khalid Shaikh

آر ایس ایس اور بی جے پی جس ہندوراشٹر کو قائم کرنا چاہتے ہیں اس کی بنیاد ہندو مذہب پر نہیں ہندوتوا پر ہوگی اوراس کا آئین منوسمرتی ہوگا۔ خود ہی غور کیجئے کہ ان دونوں کے جوڑ سے جو راشٹر بنے گا، کیسا ہوگا۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

مسلمانوں کے خلاف ملک میں بیہودہ گوئی کا سلسلہ تھمتا نظر نہیں آتا  بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں شدت آرہی ہے حکومت اور پولیس کی اَن دیکھی  سے شرپسندوں کے حوصلے بڑھتے جارہے ہیں اوریہ سب مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد ہو رہا ہے۔ بعید نہیں کہ یہ سلسلہ  ۲۰۲۴ء کے پارلیمانی الیکشن  تک چلے ۔  اگر بی جے پی اس میں کامیاب ہوجاتی ہے تو ملک کو ہندو راشٹر بنانے کی مہم تیز ہوجائے گی۔ گزشتہ ساڑھے سات برسوں  میں مودی اسی ایک  نکاتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں جس کا مقصد اقلیتوں کے شہری حقوق کو سلب کرنا اور اکثریتی طبقے کا  محکوم بنانا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا بیل منڈھے چڑھے گی؟ ٹکنالوجی کے اس ترقی یافتہ دور میں جہاں کسی  سے کچھ  ڈھکا چھپا نہیں رہتا، کیا مہذب دنیا اس کی اجازت دے گی؟ کیا ہندو راشٹر بننے کے بعد ملک میں سب کشل منگل ہوجائے گا اورملک ’وشوگرو‘بننے کے راستے پر چل پڑے گا؟ غالباً نہیں۔ اس کی درج ذیل وجوہات ہیں۔ (۱) ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی ۲۰ ؍ کروڑ سے  زائد ہے، جسے دریا بُرد کیاجاسکتا ہے نہ ملک بدر، نہ ہی مسلمان دوسرے درجے کا شہری بن کر رہنا پسند کرے گا کیونکہ ہندوستان کو آزاد کرانے میں اس کے پُرکھوں کی قربانیاں اور خون بھی شامل ہے۔ (۲) برادران وطن کی اکثریت آج بھی سیکولر اورامن پسند ہے اور ’کثرت میں وحدت ‘اور ’ جیو اورجینے دو‘ کی قائل ہے۔ ہری دوار اوررائے پور کی دھرم سنسد میں مسلم دشمن اور گاندھی دشمن تقاریر کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی اکثریت برادران وطن پر مشتمل تھی جن میں وکلاء سمیت سابق فوجی سربراہان ، فوجی افسران ، نوکر شاہ اورملک کی بااثر اور معروف شخصیتیں شامل تھیں ان لوگوں نے صدر جمہوریہ، وزیراعظم ، چیف جسٹس آف انڈیا اور سیاسی پارٹیوں کے قائدین کو خط لکھ کراپیل کی کہ ڈھونگی سادھو سنتوں کی شرانگیزی کا نوٹس لیا جائے اور سخت کارروائی کی جائے۔ یہ انہی لوگوں کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ تاخیر سے سہی اتراکھنڈ  حکومت اورپولیس حرکت میں آئی، ایف آئی آر درج کی اورکالی چرن کو گرفتار کیاجس کی  ضمانت کی   درخواست عدالت نے ردکردی۔ دراصل یہ کام سپریم کورٹ کے فعال چیف جسٹس رمنا کے کرنے کا تھا اگرانہوںنے ہری دوار میں مسلمانوں کے قتلِ عام کے اعلان اور رائے پورمیں گاندھی جی کو دی گئی گالیوں اور گوڈسے کی جے جے کار کا از خود  نوٹس لیا ہوتا تو بات کچھ اور ہوتی اور ملزمین کے خلاف کارروائی میں تیزی آتی۔ اب یہ فرض مسلمانوں پر عائد ہوتا ہے کہ وہ برادران وطن کے سا تھ مل کر ایف آئی آر کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کی کوشش کریں ورنہ ریاستی حکومت اور پولیس ملزمین کو حتی الامکان بچانے کی کوشش کریں گی۔ اس کی تصدیق ۳۰؍ دسمبر کے انقلاب میں شائع اس تصویر سے ہوتی ہے جس میں اتر اکھنڈ کا پولیس افسر،  ملزمین کے درمیان کھڑا دھرم سنسد کے آرگنائزر نرسنگھا نند کی اس بات پر مسکراتا نظرآیا کہ پولیس ہمارے ساتھ ہے، ہمارا کچھ نہیں بگڑے گا۔(۳) مذہب کے نام پر وجود میں آنے والے ملک اور حکومتیں عوام کے لئے کتنی سودمند ہوتی ہیں اس کا نتیجہ ہم نے پاکستان میں دیکھ لیا۔ اس طرح طالبان کے افغانستان میں جو ہوا اور ہورہا ہے وہ جگ ظاہر ہے۔آر ایس ایس اور بی جے پی جس   ہندوراشٹر کو قائم کرنا چاہتے ہیں اس کی بنیاد ہندو مذہب پر نہیں ہندوتوا پر ہوگی اوراس کا آئین منوسمرتی ہوگا۔ خود  ہی غور کیجئے کہ ان دونوں کے جوڑ سے جو راشٹر بنے گا، کیسا ہوگا۔ بہرحال مسلم دشمن اور گاندھی دشمن تقاریر کی گونج جب بین الاقوامی سطح پرگونجی  تو وہاں کے میڈیا نے جس ردعمل کا اظہار کیا  اس سے نہ صرف ملک بدنام ہوا  بلکہ  مودی نے  ۱۱۳؍ غیرملکی دوروں کے ذریعے اپنی شبیہ چمکانے کے لئے جس بے دردی سے عوامی سرمائے کا استعمال کیا ۔ اسے بھی دھچکا لگا۔ مودی کے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں۔ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو گالیاں کھاکر بے مزہ نہیں ہوتے۔ ایک بار لندن کے دورے پر ہندوستانیوں کے مجمع میں کسی نے ان سے ان کی صحت کا راز پوچھا تو جواب ملا میں روزانہ ۱۵۰۰؍گالیاں کھاتا ہوں۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ۲۰۰۲ء میں گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام پر امریکہ سمیت کئی مغربی  ممالک نے ان کے  داخلے پر دس سال تک کے لئے پابندی لگا دی تھی۔ وزیراعظم بننے کے بعد ملک میں جس طرح اقلیتوں اور دلتوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے گئے۔ اس سے عدم رواداری اور مذہبی تشدد کو بڑھاوا ملا۔ قومی وبین الاقوامی سطح  پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ سابق امریکی صدر بارک اوبامہ پہلے  غیر ملکی مہمان تھے جنہوںنے ۲۰۱۵ء میں یوم جمہوریہ کے موقع پر  مودی کی توجہ اس طرف دلائی اور روا داری کا درس دیا۔ جو بائیڈن کے امریکی صدر منتخب ہونے کے بعد جب مودی نے امریکہ کے دورے پر کملاہیرس سے ملاقا ت کی تو انہوںنے جمہو ریت  اور اس کے حقوق  کا پاٹھ  پڑھایا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کورونا کے لئے جب  ہندوتوا وادیوں نے تبلیغی جماعت اورمسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرایا تو عرب ممالک میں سنگھی ذہنیت کے حامل کچھ برسرروزگار افراد نے بھی مسلم مخالف مہم شروع کی جس پر وہاں کے شہریوں،  دانشوروں اور شاہی  خاندان سے تعلق رکھنے والوں نے شرپسندوں کو متنبہ کیا کہ ان کی حرکات کو نظرانداز نہیں کیاجائے گا۔ اسی طرح اوآئی سی نے مودی حکومت سے مسلم مخالف مہم پر روک لگانے اور مسلمانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ مودی پر ان باتوں کا اثر پہلے ہوا تھا  نہ اب ہوگا۔ ہمیں حیرت اس پر  ہےکہ گاندھی کا دم بھرنے والےمود ی ’ راشٹر پتا ‘کو دی  گئی گالیوں پر بھی خاموش رہے۔ ایں چہ بوالعجبی است؟ اگرانہوںنے اپنے منہ پھٹ بھکتوں کی لگام نہیں کَسی تو  بعید  نہیں کہ  امریکہ اور یورپ سمیت دیگر ممالک بھی انہیں ناپسندیدہ شخصیت قراردے کر اپنے دروازے بند کر  دیں۔مودی بھکت اب چھچھورے پن پر اترآئے ہیں۔ اس بار انہوںنے حق وانصاف کے لئے سوشل میڈیا پر سرگرم بیباک مسلم خواتین پر نشانہ سادھا ہے۔ سلی ڈیلز اور  بُلی  بائی ایپ  پر ان کی بولی لگائی ، نازیبا تبصرے کئے ۔ ہمیں ان سے   صرف یہ پوچھنا ہے کہ  کل اگر کوئی ان کی ماں ، بہن ، بیٹی کے ساتھ یہ حرکت کرے توان پر کیا بیتے گی؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK