کیا حالات بدلیں گے، اچھے دن آئیں گے؟

Updated: September 17, 2020, 8:04 AM IST | Khalid Shaikh

گودی میڈیا کو سول سروس امتحان میں مسلمانوں کی کامیابی میں بھی سازش نظر آتی ہے۔ ۲۷؍ اگست کو سدرشن چینل نے ایک پروگرام کا پرومودکھایا جس میں یوپی ایس سی امتحان میں مسلمانوں کی بڑھتی کامیابی کو ’ نوکر شاہی جہاد، سے تعبیر کیا۔

Exam
امتحان

نریندرمودی کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اپنے عزائم کے آڑے آنے والوں کو کنارے لگانے میں تاخیر نہیں کرتے خواہ وہ کوئی ہو۔ علاقائی سیاست سے قومی سیاست میں قدم رکھنے میں انہیں سب سے بڑا خطرہ سینئر لیڈروں اور بالخصوص سابق نائب وزیراعظم اڈوانی سے تھا جنہوںنے مسجد ۔مندر قضیہ اٹھاکر بی جے پی کو اقتدار کی دہلیز تک پہنچایا۔ ۲۰۰۹ء کے پارلیمانی الیکشن میں وہ پارٹی کے وزارت عظمیٰ کے سب سے مضبوط امیدوار تھے۔ پارٹی کی شکست نے انہیں مایوس کیا تو ۲۰۱۴ء کے الیکشن میں مودی نے جو انہیں اپنا سیاسی گرو مانتے تھے خودکو اس منصب کے لئے پیش کرکے اڈوانی کے وزیراعظم بننے کے خواب کو ہمیشہ کے لئے چکنا چور کردیا ۔ الیکشن جیتنے ، اور خود کو لوگوں میں مقبول بنانے   اور کٹر ہندو توا وادی شبیہ بدلنے کے لئے مودی نے ’ہندوہردے سمراٹ‘ کا چولا اتار کر ’وکاس پُتر‘ کا لبادہ زیب تن کیا اور ہمہ جہت ڈیولپمنٹ اور سب کا ساتھ سب کا وہاس کا نعرہ لگاکر پارٹی کے لئے بازی مارلی اور وزیراعظم بن گئے۔
 گجرات کے سی ۔ ایم سے لے کر ملک کا پی ایم بننے تک ان کا نظم حکمرانی آمرانہ رہا ہے ۔ ان کی ہیبت کا یہ عالم ہے کہ وزراء سمیت پارٹی کا کوئی لیڈر ان کے خلاف زبان کھولنے کی جرأت نہیں کرتا۔ یہ لوگ سر گوشیاں کرتے ہوئے بھی اس لئے ڈرتے ہیں کہ دیواروں کے کان ہوتے ہیں۔ سنگھ پریوار اور بی جے پی لیڈروں کو تاریخی اور مذہبی بنیادوں پر مسلمانوں سے خدا واسطے کا پیر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کی پروپیگنڈہ مشینری ، مودی بھکتوں کا سوشل میڈیا اور گودی میڈیا ہر معاملے میں ’ مسلم اینگل ‘ کی کھوج کرتا ہے۔ ہندوراشٹر کا خواب پورا ہویا نہ ہو، برادران وطن میں مسلمانوں کے خلاف بدگمانی اور نفرت کا زہر کھولنے میں مود ی نے بڑی حد تک کامیابی حاصل کی ہے۔ گودی میڈیا کی خباثت اس حد تک بڑھ گئی کہ سول سروس امتحان میں مسلمانوں کی کامیابی میں بھی اسے سازش نظر آتی ہے۔ ۲۷؍ اگست کو سدرشن چینل نے دوسرے دن نشر ہونے والے پروگرام کا پرومودکھایا جس میں یوپی ایس سی امتحان میں مسلمانوں کی بڑھتی کامیابی کو ’ نوکر شاہی جہاد، سے تعبیر کیا اوراسے ملک کی سلامتی کیلئے خطرناک قراردیا۔ پروگرام میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کا نام آنے پر اس کے طلبہ نے دہلی ہائی کورٹ میں نشریے پر پابندی لگانے کی پٹیشن داخل کی اوراس کا مقصد جامعہ اور مسلم سماج کو بدنام کرنا اور برادران وطن میں ان کے خلاف نفرت پیدا کرنا بتایا۔ اُس روز ایک مسلم وکیل نے اسی مقصد سے سپریم کورٹ میں اپیل داخل کی ۔ حیرت اس پر ہوئی کہ ۲۸؍ اگست کو دونوں عدالتوں کے فیصلے ایک دوسرے کی ضد ثابت ہوئے۔ ہائی کورٹ نے ۹؍ ستمبر تک نشریئے پر روک لگادی۔ سپریم کورٹ پابندی لگانے سے یہ کہہ کر انکارکردیا کہ نشریے سے پہلے کسی پروگرام پرپابندی لگانے میں احتیاط لازم ہے۔ ۹؍ ستمبر کو حکومت نے سدرشن چینل کو براڈ کاسٹ کی اجازت دیدی جس پر ہائی کورٹ نے بھی صاد کیا۔ ۱۴؍ ستمبر کو اس سے بھی عجیب بات ہوئی جب ایک پٹیشن پر سپریم کورٹ کی سہ نفری بنچ نے اگست کی دونفری بنچ کے فیصلے کو بدلتے ہوئے نشریئے پرتا حکم ثانی پابندی لگادی اورکہا کہ بادی النظر میں پروگرام کا منشاء و مقصد ایک  مخصوص سماج کو غلط بتانی کے ذریعے بدنام کرنا لگتا ہے۔ عدالت نے سوال کیا کہ یوپی ایس سی امتحان میں مسلمانوں کی شرکت اورکامیابی دراندازی اور سازش کیسے ہوسکتی ہےجب وہ بھی ملک کی دیگر قوموں کی طرح امتحان اور انٹرویو کے یکساں مراحل سے گزرتے ہیں۔ عدالت نے مزید کہ اس طرح کے الزامات سے تو خود یوپی ایس امتحانات شکر کے گھیرے میں آجاتے ہیں۔ ایک ایسے سماج میں جہاں ہرنسل ، رنگ اور مذہب کے لوگ بستے ہیں اس طرح کی شرانگیزی کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ خاص طورپر اس وقت جب پروگرام کوڈ کے قانون (۶) میں کیبل ٹی وی پروگراموں کو کسی مذہب یا فرقے کی دلآزاری اور نشانہ بنانے کی اجازت نہیں ہے۔ چینل کے وکیل شیام دیوان سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے جب پریس کی آزادی کی دہائی دی تو عدالت نے انہیں یا ددلایا کہ اظہار رائے کی آزادی مطلق نہیں اور چینل کس طرف سے بغیر کسی ثبوت کے لگایا گیا سازش کا الزام اُس کے دائرے میں نہیں آتا جس میں مسلم سماج کو مخصوص طریقے سے نشانہ بنایا گیا ہے ۔ 
 تشار مہتا کی مجبوری یہ ہے کہ وہ اپنے پیشے اور عدالت کے وقار کو ملحوظ نہ رکھتے ہوئے عدالت میں کچھ بھی کہہ جاتے ہیں۔ اب تک ہم سب سنتے چلے آئے ہیں اور خود مودی بھی کہتے ہیں کہ آئین سپریم ہے لیکن مہتا میڈیااور صحافت کی آزادی کو سپریم بتاتے ہیں۔ ہمیں سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرنا چاہئے کہ دیر سے سہی اگست میں نشریے پر پابندی نہ لگانے کی غلطی کا احساس تو ہوا۔ یہ اور بات ہے کہ اس سلسلے میں دی گئی تاویل گلے سے نہیں اترتی ہے ۔ عدالت کا یہ کہنا کہ اس وقت کے اورآج کے حالات میں تبدیلی آئی ہے مزید وضاحت کا متقاضی ہے۔
 فرقہ وارانہ سیاست اور صحافت  کا دوسرا شکار بالی ووڈ بنا جو اپنے آغاز سے سیکولرزم اور یک جہتی علامت رہا ہے۔ سشانت  سنگھ کی موت کے بعد اسے ہندو مسلم رنگ دینے میں سب سے بڑا دخل کنگنا رناوت کا ہے جس میںفلم انڈسٹری میں مسلمانوں کی مبینہ بالادستی کا ذکر کیا، ادھوٹھاکرے کو بابر اور آفس ڈھانے والوں کو بابری فوج سے تعبیر کیا۔ گزشتہ تین مہینوں سے سشانت سنگھ کی موت پر میڈیا ٹرائل چل رہا تھا جس نے کووڈ ۔۱۹؍ ، چین کے سرحدی عزائم اور بیروزگاری جیسے سنگین مسائل کو پیچھے کردیا ہے۔ ان سے حکومت کو کوئی دلچسپی معلوم ہوتی ہے نہ چینلوں کو جو TRP بڑھانے کا بہانہ ڈھونڈتے ہیں۔ دراصل دیانتداری کسی میں نہیں رہ گئی ہے۔ سال رواں میں متعدد بار مختلف عدالتوں نے نیوز چینلوں کی اشتعال انگیزی اور اینکروں کی زہر افسانی پر مرکز، پریس کونسل، نیوز براڈ کاسٹ اسوسی ایشن اور نیوزچینلوں کو نوٹس جاری کیا ۔ لیکن نتیجہ صفر کا صفر رہا ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK