انتخابی شکست کے بعد کیا ٹرمپ اقتدار چھوڑ دیں گے؟

Updated: August 05, 2020, 10:57 AM IST | Parvez Hafiz

واشنگٹن میں پچھلے دو ماہ سے ان خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے کہ اگر ٹرمپ ہار جاتے ہیں تو بھی وہ آسانی سے ہار قبول نہیں کریں گے اور وہائٹ ہاؤس سے رخصت نہیں ہوں گے۔

Donald Trump - Pic : INN
ڈونالڈ ٹرمپ ۔ تصویر : آئی این این

  امریکہ کا صدر ہونے کے ناطے ڈونالڈ ٹرمپ کا یہ فرض منصبی ہے کہ وہ ایسی کوئی بات نہ کہیں یا ایسا کوئی کام نہ کریں جس کے سبب ملک کے شہریوں کاجمہوری نظام میں اعتماد متزلزل ہو۔لیکن ٹرمپ کی حالیہ باتوں سے یہ گمان ہورہا ہے کہ انہیں جمہوریت پر بھروسہ نہیں رہا ہے۔ نومبر میں مجوزہ صدارتی انتخابات میںفراڈ اور رگنگ کئے جانے کے ان کے شک کا اظہار اور انہیں ملتوی کرنے کی تجویز،جمہوریت میں ٹرمپ کے عدم اعتماد کے اظہار کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ حیرت ہے کہ چار سال قبل جس قدیم اور مضبوط جمہوری سسٹم کے بدولت قابلیت نہ ہونے کے باوجود ٹرمپ جیسا شخص صدر کے مقتدر عہدہ کے لئے منتخب ہواتھا، آج اسی جمہوریت پر ان کا ایقان نہیں رہا۔ اگر ٹرمپ کو امریکی جمہوری نظام اور انتخابی ڈھانچے پر بھروسہ ہوتا تو انہوں نے اس وقت الیکشن کو مؤخر کرنے کی تجویز نہ رکھی ہوتی جب اس میں سو دن سے بھی کم باقی رہ گئے ہیں۔
  یہ صحیح ہے کہ کورونا کی ہلاکت خیزیوں سے دنیا بھر میں امریکہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور وہاں ڈیڑھ لاکھ لوگ ہلاک ہوچکے ہیں تاہم آئین کی رو سے صدارتی انتخابات عالمی وباء کی وجہ سے بھی ٹالے نہیں جاسکتے ہیں۔ صدارتی الیکشن تو ۱۹۴۴ء میں بھی ملتوی نہیں کئے گئے تھے جب امریکہ عالمی جنگ عظیم میں شریک تھا اور نہ ہی۱۸۶۴ء میں جب ملک کے طول و عرض میں خانہ جنگی نے تباہی مچا رکھی تھی۔انتخابات ۱۹۱۸ء میں بھی جب ملک میں وباء پھیلی ہوئی تھی اور ۱۹۳۲ء میں بھی جب ملک کساد بازاری کا شکار تھا، اپنے مقررہ وقت پر ہی ہوئے تھے۔  دراصل ۱۸۴۵ء میں یہ قانون بنا دیا گیا تھاکہ انتخابات ہر چار سال بعد نومبر کے پہلے منگل کے دن پورے امریکہ میں ایک ساتھ منعقد کئے جائیں گے۔ اس دن سے آج ۱۷۵؍برسوں بعد بھی اس قانون میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔
  واشنگٹن پوسٹ اور اے بی سی نیوز کے مشترکہ اوپینین پول(عوامی جائزے) کے مطابق ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن نے ٹرمپ پر اپنی سبقت کافی بڑھالی ہے۔ ٹرمپ کو صرف ۴۰؍فیصد امریکیوں کی حمایت حاصل ہے جبکہ ان کے ڈیموکریٹ حریف کی حمایت اب بڑھ کر۵۵؍فیصد ہوگئی ہے۔
 ٹرمپ پچھلے کئی ماہ سے یہ بہتان تراشی کرتے رہے ہیں کہ الیکشن صاف ستھرے نہیں ہوں گے، ان میں رگنگ ہوگی۔ اب انہوں نے حتمی طور پر یہ اعلان کردیا کہ ڈاک کے ذریعہ زیادہ پولنگ ہونے کی وجہ سے بھاری انتخابی فراڈ ہوگا اور نتیجے غلط آئیں گے۔ ’’الیکشن اس وقت تک کے لئے مؤخر رکھیں جب تک لوگ محفوظ اور صحیح طریقے سے ووٹ ڈالنے کے قابل نہ ہوں ۔‘‘
 ان کے اس ٹویٹ سے اضطراب پھیل گیا۔ حزب اختلاف ڈیموکریٹس اور میڈیا نے بھی اس کی سخت الفاط میں مذمت کی۔ نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ جیسے اخبارات اور سی این این جیسے ٹیلی وژن چینلز نے اس تشویش کا بھی اظہار کیا صدر کا یہ بیان کہیں ان کے لاشعور میں پوشیدہ غیر جمہوری عزائم کی عکاسی نہ کر رہا ہو۔ ایک معروف مورخ اورمصنفTimothy Snyder کے مطابق ٹرمپ کا یہ ٹویٹ ان کی فسطائی ذہنیت کی غمازی کررہا ہے۔ 
 ہندوستان میں شکست خوردہ کانگریس اگر حکمراں بی جے پی پر عام انتخابات میں ای وی ایم میں گڑ بڑی کرکے اقتدار میں آنے کا الزام لگائے تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن امریکی صدر جسے دنیا کا سب سے طاقتور شخص کہا جاتا ہے وہ وہائٹ ہاؤس میں چار سال کی میعاد مکمل کرنے کے بعد اگر تین ماہ بعد ہونے والے انتخابات میں دھاندلی کا ہوا کھڑا کرکے اسے ملتوی کرنے کی وکالت کرے تویہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسے اپنی ہار یقینی لگ رہی ہے۔
 ٹرمپ کے الیکشن کو ملتوی کرنے کی تجویز کی جب ہر طرف سے مذمت ہونے لگی اور خود ان کی ریپبلیکن پارٹی نے بھی اسے مسترد کردیا تو انہوں نے پھر پینترا بدلا اور کہا کہ وہ الیکشن کی تاریخ بدلوانا نہیں چاہتے ہیں صرف صاف اور شفاف انتخابات چاہتے ہیں۔ٹرمپ کو بخوبی علم ہے کہ امریکہ کے آئین کے تحت صدر اور نائب صدر کے انتخابات کا انعقاد صدر کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ صدارتی الیکشن کے تمام امور امریکی کانگریس طے کرتی ہے۔ اس کے باوجود اگر صدر نے یہ شوشہ چھوڑا ہے تو اس کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں۔ امریکہ کا معاشی بحران پچھلے ہفتے اور زیادہ گہرا ہوگیا جب دوسری سہ ماہی میں ملک کی جی ڈی پی ۳۳؍فیصد سکڑ گئی۔بہت ممکن ہے اس معاشی انہدام سے یا کورونا کے طبی بحران سے نمٹنے میں اپنی ناکامیوں سے امریکی عوام کی توجہ ہٹانے کی خاطر انہوں نے الیکشن کے التوا کی تجویز پیش کی ہو۔    وجہ جو بھی ہو، ٹرمپ ایک بے حد خطرناک گیم کھیل رہے ہیں۔وہ اپنے ووٹ بینک کے ذہن میں انتخابات کی شفافیت کے متعلق شبہات کے بیج بورہے ہیں، وہ امریکی جمہوری نظام کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا رہے ہیں،وہ امریکی عوام سے کہہ رہے ہیں کہ انہیں اپنی جمہوریت میں بھروسہ نہیں رکھنا چاہئے۔  وہ اپنی یقینی شکست کے لئے شاید ابھی سے اسٹیج تیار کررہے ہیں تاکہ نتائج کے اعلان کے بعد چیخ چیخ کر یہ دعویٰ کرسکیں کہ انہوں نے تو پہلے ہی خبردار کردیا تھا کہ الیکشن میں دھاندلی کی جائے گی۔ اس مفروضہ کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ ابھی تک ٹرمپ نے حتمی طور پر یہ نہیں کہا ہے کہ انتخابات کا جو بھی نتیجہ ہوگا وہ اسے تسلیم کریں گے۔اسی لئے واشنگٹن میں پچھلے دو ماہ سے ان خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے کہ اگر ٹرمپ ہار جاتے ہیں تو بھی وہ آسانی سے ہار قبول نہیں کریں گے اور وہائٹ ہاؤس سے رخصت نہیں ہوں گے۔ ان کے اس اڑیل رویے سے ملک میں عدیم المثال آئینی بحران کا خطرہ پیدا ہوجائے گا۔ پچھلے چند ہفتوں میں امریکہ کے معروف روزناموں میں سیاسی پنڈتوں کے ایسے تجزئے شائع ہوئے ہیں جن کا لب لباب یہ ہے شکست ٹرمپ کیلئے کوئی آپشن ہی نہیں ہے کیونکہ وہ ہر قیمت پر جیتنا چاہتے ہیں۔ اس لئے اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ ایسے الیکشن رزلٹ کو مسترد کردیں گے اور وہائٹ ہاؤس چھوڑنے سے انکار کردیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو بائیڈن منتخب بھی ہوجائیں گے توان کو وہائٹ ہاؤس میں داخلہ نہیں ملے گا کیونکہ ٹرمپ قصر صدر خالی کرنے سے انکار کردیں گے۔ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور رویے کی وجہ سے اس بار جمہوری اور پرامن طریقے سے اقتدار کی منتقلی کے امکان پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ 
پس نوشت: قارئین اس ستم ظریفی پر غور کریں کہ جمہوریت کی کرشمہ سازیوں سے امریکہ ہو یا ہندوستان، کبھی کبھی ایسے لوگوں کو اقتدار حاصل ہوجاتا ہے جنکے ہاتھوں میں جمہوریت محفوظ نہیں رہتی ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK