حکمت،انسانیت پر بہت بڑی نعمت ِ خداوندی ہے

Updated: October 23, 2020, 9:44 AM IST | Dr Ejaz Farooque Akram

گزشتہ ہفتے شائع ہونے والے مضمون ’’قرآن حکیم اپنی تعلیمات، احکامات، مواعظ و نصائح، ہر حوالے اور پہلو سے حکمت و دانش سے لبریز ہے‘‘ کا دوسرا اور آخری حصہ

Quran - pic : INN
قرآن ۔ تصویر : آئی این این

 حکمت و دانش کا یہ حوالہ، یہ نسخۂ کیمیا، یہ راہنما، یہ مصدر و منبع اور مرجع…قرآنِ حکیم کے سوا اور کچھ نہیں، جو معلم کتاب و حکمت ﷺ کے حکیمانہ انقلاب کا بنیادی ہتھیار، ترجیح اول اور حتمی ہدف تھا۔ جس نے اقراء کے ذریعے اس سرچشمۂ حکمت، ربّ کائنات سے متعارف و مربوط کیا، جس نے قلم کے ذریعے علم و حکمت کو فروغ دیا  اور انسانیت کو سلسلۂ علم و حکمت کے بنیادی آلات و اوزار…قلم و قرطاس… کے ساتھ جوڑ دیا۔ (العلق)
سورہ النساء میں رسول اللہ ﷺ کی حکمت و تدبر اور اس کے مصادر پر مہر تصدیق ثبت کردی گئی : ’’اور اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی ہے اور اس نے آپ کو وہ سب علم عطا کر دیا ہے جوآپ نہیں جانتے تھے۔‘‘ (النساء:۱۱۳)  آپ ﷺ کو کتاب و حکمت بھی عطا کی گئی، حکمت کے سب زاویئے اور پہلو بھی آشکار کئے گئے اور کائنات کی وہ ساری حقیقتیں عیاں اور معلومات فراہم کردی گئیں جو فرائضِ رسالت کی ادائیگی کے لئے ضروری اور ربِّ علیم و حکیم کے علم و حکمت کا پرتو اور تقاضاتھا۔
بندگانِ خدا کی حیات و ممات اور دنیا و آخرت کے لئے تین فیصلہ کن اور مؤثر و غالب کردار…اللہ، رسولؐ اور کتاب… طے ہوئے اور ’حکمت‘ ان کا مشترکہ حوالہ اور اصل قرار پایا۔ اور یہی رسالت ِ مآب ﷺ پر نزولِ قرآن کا ۲۳؍سالہ الٰہی طریقہ اور اس کی تعلیم، تبلیغ اور تنفیذ کا لائحہ عمل ٹھہرایا گیا۔ معلم کتاب و حکمت ؐ کو حکم ہوا: ’’( اے رسولِ معظّم) آپ اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلائیے۔‘‘(النحل:۱۲۵) حکمت، نصیحت، دعوت اور فکری و عملی تغیر و تبدیل کا تدریجی و ا ر تقائی عملی نمونہ بھی اسی حکمت کا ۲۳؍ سالہ مظاہرہ بن کر داعیانِ کے لئے رہنما اصول بن گیا۔
’حکمت‘ انسانیت پر بہت بڑی نعمت ِ خداوندی ہے۔ یہ حکمت کسے اور کتنی  دینی ہے؟ اور اس سے کیا نتائج اخذ کرنے ہیں؟یہ حکیمِ کبیر، علیم و خبیر اور عزیز و رحیم کی اپنی صوابدید  ہے، مگر یہ حقیقت ظاہر و کائنات پر غالب ہے: ’’اور جسے (حکمت و) دانائی عطا کی گئی اسے بہت بڑی بھلائی نصیب ہوگئی۔‘‘ (البقرہ:۲۶۹) جسے ’حکمت‘ جب، جتنی اور جس مقصد کے لئے عطا کی گئی، دراصل اُسے دنیا جہان کی سب سے بہتر، قیمتی، مفید،مؤثر، فیصلہ کن نتائج، بھلائیوں، کامرانیوں اور عظمتوں کی کنجی عطا کردی گئی۔
اللہ رب العزت نے اپنی حکمت و مشیت کے تحت اولاً اپنے انبیاء ؑ و رسلؑ کو ’حکمت ‘ عطا کی۔ یہ اپنے اپنے عہد کے خیرالخلائق،پاکیزہ، خدا کے مقرب ترین اور تاابد انسانیت کے لئے مقتدا ا و ررہنما  ہیں۔ اسی طرح کچھ دیگر نیک اور پارسا لوگوں کو بھی حکمت کی دستارِ فضیلت سے نوازتا گیا اور  ان کے اقوالِ حکمت اور طریق حکمت کو کتابِ حکمت ’قرآن حکیم‘ میں ذکر کرکے انہیں امر کردیا گیا۔ حضرت لقمانؑ غالباً پیغمبر نہیں تھے مگر حکمت الٰہی کے حصول کنندہ ہوئے۔ ’’اور بیشک ہم نے لقمان کو حکمت و دانائی عطا کی۔‘‘ (لقمان:۱۲) یقیناً یہ اللہ ہی ہے جو حکمت بھی دیتا ہے اور اس راہِ حیات کے انتخاب اور افکار و اعمال کا شعور بھی عطا کرتا ہے اور پاکیزہ و قائدانہ کردار کی مسند تک پہنچاتا اور حکمت سے بہرہ مند ہونے والوں کو انسانیت کا راہنما قرار دیتا ہے جو حکیمانہ فکر و عمل کا لازمی  نتیجہ ہے۔ جس علم و حکمت سے یہ نتائج حاصل نہ ہوں، وہ نہ علم ہے نہ حکمت۔
اگر بہ نظر غائر دیکھا جائے تو ’حکمت‘ تو ہر ذی نفس کو کسی نہ کسی صورت اور مقدار میں ضرور ملتی ہے۔ بالخصوص انسان اس حکمت و تدبر سے کام لے کر اپنے معاش کا خوب اہتمام کرتا ہے، مگر حکمت ِ رسالت و نبوت سے اعراض کرکے اپنی معاد(آخرت) کا سامنا نہیں کرپاتا۔ اس طرح غیرانسانی مخلوق کو بھی اتنی حکمت و صلاحیت ضرور دی جاتی ہے جس سے وہ کم از کم اپنی خوراک حاصل کرسکیں اور اپنے مالک کی تابعداری کرسکیں، مگر اللہ نے ان غیرانسانی مخلوقات کو عطا کردہ حکمت کے نتیجے میں انہیں نہ کوئی اختیار دیاہے نہ اپنی بندگی کا شعوری پابند ہی بنایا ہے۔ ان کو حاصل حکمت محض محدود و معدود (گنے چنے) مقاصد کے لئے ہے۔ البتہ انسان کو حکمت ِ الٰہی، حکمت ِ نبوی اورحکمت ِ قرآنی کے ذریعے بہت سے تقاضوں کا مکلف ٹھہرایا ہے۔ ان کے دو بڑے مقاصد و تقاضے بتائے گئے ہیں:
سورۂ لقمان میں پہلا تقاضا بیان ہوا:’’اور بیشک ہم نے لقمان کو حکمت و دانائی عطا کی تھی کہ اللہ کے شکر گزار  ہو۔‘‘  (لقمان:۱۲)  پھر فرمایا: ’’اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو (تو) پورا شمار نہ کر سکو گے۔‘‘ (ابراہیم:۳۴)  انسان کی تخلیق، تجسیم، تصویر، تشکیل، عقل، شعور، آگہی، تعلیم، ربوبیت کے جملہ تقاضوں کی تکمیل ، خیروشر کی تمیز، غلط اور صحیح کی صلاحیتِ تفریق، قوتِ فکر، طاقت اظہار، مرضی اپنانے کی آزادی ، زندگی گزارنے کے لئے ہر عمر، ماحول، مزاج کے موافق بے شمار نعمتیں، وسائل، مواقع اور عیش و عشرت کے سارے سامان، ہدایت و ضلالت کے سب راستوں کا شعور اور ردّ و قبول کا اختیار۔ اور ان سب نعمتوں میں سب سے بڑی، جامع، کامل،  اَتم و اہم نعمت زندگی گزارنے کا درست طریقہ ، عزت و عظمت کا راستہ، صلاح و فلاح کا ضامن ضابطہ، دین اسلام، دین ہدایت، دین حکمت، دین فطرت، دین یُسر۔ ہر پہلو سے واضح، روشن اورمکمل۔ ایک کتابِ حکمت کی محفوظ، جامع، مفصل اور واضح آیات و تعلیمات کے ساتھ ایک رسولِ حکمت کے اسوہ و سیرت کے ذریعے حق و باطل کو واضح کرتے ہوئے انداز و تبشیر، تعلیم و تبلیغ کے ذریعے تدریج کے حکیمانہ اسلوب، نصیحت و موعظت کو طریق کار بنا کر  ، کسی جبرو اکراہ کے بغیر دعوت الی الحق، دعوت الی اللہ، دعوت الی الخیر، دعوت الی المغفرۃ، دعوت الی النجاۃ، دعوت الی الفوز و فلاح  کے منبع و مصدر رسولؐ حکمت کی طرف رہنمائی کی نعمت عظمیٰ و کبریٰ پر شکر گزار، تسلیم و رضا، اطاعت و وفا کے ذریعے  حکمت کے اس بلیغ، اعلیٰ اور انتہائی مطلوب و مقصود درجے تک پہنچنا ہے جو اتمامِ حجت کا مظہر اور اس کے لئے کافی اور حتمی حد ہے۔
 اس حکمت کا دوسرا تقاضا کائنات اور مظاہر قدرت اور حکیم و علیم و خبیر کے افعال و احکامِ حکمت پر غور و تدبر ہے۔ کتاب حکمت، قرآن حکیم … اَوَلَمْ یروا، اولَم ینظروا، اولم یتدبّروا، اولم یتفکّروا ، اولم یسیروا، ترغیبات و تنبیہات و احکام  کے ذریعے اس حکمت آمیز دین اور اس کے احکام کی طرف متوجہ کررہی ہے، مگر اُسے جو اس پر ایمان لائے صدقِ دل سے، اس کے ہر حرف، لفظ، حکم کو تسلیم کرے اور روشنی و ہدایت کے لئے اس میں غوطہ زن ہو۔  بندگانِ خدا پر لازم ہے کہ حکمت الٰہی کے اس مشاہدہ و مطالعہ کے نتیجے میں کائنات کے تمام شاہکاروں کو حکمت ِ الٰہی کی تصویروں اور دلیلوں اور اس کی کارفرمائی کی شہادتوں کےطور پر قبول کرے اور زندگی کے غلط راستوں، ضابطوں اور طریقوں کے انتخاب میں گمراہی سے محفوظ ہوجائے۔
اللہ  و رسولؐ اور الکتاب کی حکمت کا لازمی نتیجہ ’صراط مستقیم‘ ہے جس کا  بندگی کے مکمل اور لازمی اظہار کے طور پر قبول کیا جانا شکرگزاری کا واحد ذریعہ ہے۔ یہ صراط  مستقیم بندگانِ خدا کو اپنے فرائض، دوسروں کے حقوق، دنیا میں ذمہ داریوں کے تعین، ان کی ادائیگی کے طریق، روحانی و اُخروی سعادت اور برتری کے سلسلوں کے تتبع کے ذریعے کامیابی و کامرانی اور فوزِ مبین و عظیم کی منزل مراد تک پہنچاتا ہے۔ جس کے بارے میں منبع حکمت نے فرمایا : ’’اور یہ کہ یہی (شریعت) میرا سیدھا راستہ ہے۔ ‘‘(الانعام:۱۵۳)  اور جس کی طلب کی بنیادی دعا بندگانِ خدا کو سکھائی گئی : اھدنا الصراط المستقیم۔یہی راستہ اللہ کے محبوب بندوں کا راستہ ہے جنہیں وہ بے پناہ نعمتوں اور سعادتوں، عزتوں  اور عظمتوںسے نوازتا ہے۔ حکمت ِ قرآنی سے باغی علم و شعور اور حکمت و دانش کی خود فریبی، بلاشبہ جہالت و ذلت کا راستہ ہے جو حکمت کے یکسر مخالف بلکہ اس سے متصادم ہے اور اللہ کے غضب کا شکار ہونے والوں کا طرز عمل ہے۔
 رشد و ہدایت اور سلامتی فکر و عمل کے ان تینوں منابع و مراکز نے اس ’حکمت‘ اور اختیار کرنے اور خود پر لازم ٹھہرانے والوں کو حکمت و دانائی کے ہر سرچشمے کا وارث و حقدار اور اہل قرار دے کر اسے لازماً اختیار کرنے اور مہد سے لحد تک اکتساب ِ علم و حکمت کرتے رہنے کا حکم دیا۔ کہا: ’’مومن کی گمشدہ میراث یہی حکمت ہے۔‘‘ یہ ہر مرد و زن بالخصوص اسلام کے حلقہ بگوش ہونے والوں پر فرض و واجب ہے کہ جہاں سے اور جس صورت میں حکمت و دانائی کا کچھ بھی حصہ ملے، وہ اسے اپنی گمشدہ میراث سمجھتے ہوئے اچک لے، حاصل کرلے اور اپنی جبینِ فضیلت پر حکمت کا ہر روشن چراغ اور دانش کے تاج سجا کر اپنے ماتھے کا جھومر بنالے، مگر اس یقین، اعتماد اور حقیقت کے اعتراف کے ساتھ کہ حکمت کے یہی تینوں سرچشمے ہیں …ذاتِ حکیم، رسولِ حکیم اور قولِ حکیم۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK