Inquilab Logo Happiest Places to Work

تقویٰ کے بغیر نہ دُنیا کی نجات ہے نہ آخرت کی

Updated: February 10, 2023, 12:07 AM IST | Maulana Muhammad Rafi Usmani | Mumbai

آج ہمارا معاشرہ مختلف مصائب اور مسائل میں الجھا ہوا ہے، اس کی وجہ تقویٰ کا فقدان ہے

The nominal servants of Allah fear Allah and are concerned about gaining His pleasure
اللہ کے تخلص بندے اللہ سے ڈرتے ہیں اور اس کی رضا حاصل کرنے کی فکر میں رہتے ہیں

تقویٰ کا لفظ اتنا مشہور ہے کہ مسلمان کا بچہ بچہ بھی اس سے واقف ہے اور دین میں تقویٰ کی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے۔ تقویٰ کی تاکید میں قرآنی آیات تو بے شمار ہیں ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺکی پوری حیات طیبہ تقویٰ کا نمونہ ہے۔ نیز احادیث میں بھی اس کی بہت تاکید آئی ہے۔ تقویٰ ایک ایسی چیز ہے جس کے بغیر نہ دنیا کی نجات ہے اور نہ آخرت کی۔
 تقویٰ کے معنی ہیں ڈرنا اور بچنا یعنی کسی ایسی چیز سے بچنا جس سے مضرت اور نقصان کا اندیشہ ہو۔ لیکن یہاں تقویٰ سے مراد یہ ہے کہ انسان اللہ سے، اس کے غضب اور عذاب سے ڈرے اور ہر اس کام سے بچے جس میں اللہ کی ناراضگی ہو اور اس پر عذاب کا اندیشہ ہو۔ یعنی اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کی خلاف ورزی سے بچنا تقویٰ کا حاصل ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ ڈرنا اور بچنا انسان کی بحیثیت ایک مومن ہونے کے نہایت اہم ضرورت ہے۔ کیونکہ اگر انسان کے اندر بچنے اور ڈرنے کا مادہ نہیں ہوگا تو وہ آخرت میں جہنم کا مستحق بنے گا اور اس کی دنیا کی زندگی بھی تباہ و برباد ہو جائے گی۔
تقویٰ کے فقدان کی وجہ سے دنیا کی عام حالت
  آج  ہمارا معاشرہ مختلف مصائب اور مسائل میں الجھا ہوا ہے۔ کرپشن  عام ہے اور فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی کی جاتی ہے۔ صرف سرکاری ادارے ہی کرپشن میں مبتلا نہیں ہیں بلکہ اس میں ایسے بہت سے لوگ بھی مبتلا میں جو حاجی اور نمازی ہیں لیکن ان کو اس بات کی خبر تک نہیں کہ ان کی تنخواہ اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک کہ وہ اپنی ڈیوٹی کو مکمل وقت تک دیانت داری سے سرانجام نہ دیں۔ یادرکھیں ! ایسی تنخواہ کھانا جس میں ڈیوٹی نہیںدی گئی حرام خوری کے زمرے میں آتی ہے۔ اسی طریقے سے ایک دوسرے کے حق مار لئے جاتے ہیں۔ مثلاً آپ نے بس میں سوار ہونے کی خاطر اپنی قوتِ بازو کے بل پر دوسرے شخص کو  دھکا دیا اور خود چڑھ گئے، یاد رکھیں کہ آپ نے یہ بندے کا حق مارا ہے اور اللہ تعالیٰ بندے کا حق اس وقت تک معاف نہیں کرتے جب تک کہ وہ بندہ خود معاف نہ کر دے۔ اسی طرح دوا کے پیسے مریضوں سے پورے وصول کئے جاتے ہیں لیکن دوا معیاری نہیں ہوتی ۔ یہ سراسر دھوکہ ہے اور اس مال کا کھانا حرام ہے۔ ان تمام باتوں کی جز تقویٰ کا فقدان ہی ہے۔ خدا کا خوف اور فکر آخرت دلوں میں نہیں رہی، گناہوں سے بچنے کی عادت ختم ہوگئی ، زبان سے نکلنے والے الفاظ کے بارے میں کوئی پروا نہیں ہوتی ، حالانکہ ہمیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ یہ تمام باتیں اللہ جل شانہ ریکارڈ فرمارہے ہیں اور آخرت میں سنادی جائیں گی، جن میں سے ہر ہر لفظ پر گرفت کا اندیشہ ہے۔
 تقو یٰ کی ضرورت واہمیت اور حق
  قرآن حکیم میں جابجا تقویٰ کی تاکید فرمائی گئی  ہے اور اسلامی تعلیمات کا لب لباب تقویٰ ہے۔ جب ہم لا اله إلا الله محمد رسول الله کهہ چکے تو اس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ اللہ ہی عبادت کا مستحق ہے  اور اسی کی اطاعت واجب ہے اور اطاعت ہی کا نام تقویٰ ہے۔ 
  قرآن کریم میں ارشاد ہے: ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرا کرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہاری موت صرف اسی حال پر آئے کہ تم مسلمان ہو۔‘‘( سورة آل عمران: ۱۰۲)
(باقی صفحہ نمبر ۹؍پر) آج کل ہم حکومت سے، دشمن سے، بیماری سے، ناگہانی حادثات اور مخالف کی فوج سے توڈرتے ہیں لیکن کیا کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ ان میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو آپ کی تقدیر بنا سکے یا بگاڑ سکے؟ لہٰذا جس ذات کے قبضہ قدرت میں کائنات کی ہر چیز ہے اس کا حق یہ ہے کہ دنیا کی ہر چیز سے زیادہ ڈر اور خوف اسی کا ہو۔ کیونکہ موت و زیست، خوشیاں اور مصائب، آسائشیں اور عذاب، عزت وذلت، حاکمیت و محکومیت، رزق کی فراخی اور تنگی اور صحت و بیماری سب اس کے قبضے میں ہیں، لہٰذا اسی سے ڈرنا بھی چاہئے۔ اللہ کے مخلص بندے اللہ سے ڈرتے ہیں اور اس کی رضا حاصل کرنے کی فکر میں رہتے ہیں اور دنیا کی ساری طاقتیں ان کی نظروں میں ہیچ ہوتی ہیں۔ مسلمانوں پر ایک ایسا دور گزرا ہے جب ان کی حکومت صرف زمین اور انسانوں کے دلوں ہی پر نہیں بلکہ ہواؤں اور موسموں پر بھی تھی۔ دنیا کے سارے وسائل ان کے تابع فرمان نظر آتے تھے۔ یہ ساری برکات تقویٰ ہی کی تھیں۔
تقویٰ کا حاصل
 ایک دوسری جگہ قرآن حکیم میں ارشاد ہے:’’پس تم اللہ سے ڈرتے رہو جس قدر تم سے ہوسکے اور (اُس کے احکام) سنو اور اطاعت کرو اور (اس کی راہ میں) خرچ کرو یہ تمہارے لئے بہتر ہوگا، اور جو اپنے نفس کے بخل سے بچا لیا جائے سو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ ﴾ (سورة التغابن: ۱۶) 
 اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ سے جتنا ڈرنا چاہئے اتنا تم نہیں ڈر سکتے اس لئے کہ ڈرنا اس بات پر موقوف ہے کہ ہمیں اللہ کی قدرت کی معرفت حاصل ہو، اگر چہ ہمیں اجمالی طور پر اللہ کی قدرت کا علم حاصل ہے لیکن تفصیل کبھی تو یاد نہیں رہتی اور کبھی معلوم ہی نہیں ہوتی ، اسی لئے قرآن حکیم میں  فرمایا گیا کہ جتنا تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرو، اور ڈرنے کا حاصل گناہوں سے بچنا ہے۔
تقویٰ اختیار کرکےد یکھو
  یہاں ایک اہم بات کی طرف بھی متوجہ کرتا چلوں کہ جو شخص روزمرہ کی زندگی میں تقویٰ اختیار کرتا ہے ، مثلاً کوئی تاجر ہے جو اپنا کاروبار تقویٰ کے ساتھ چلاتا ہے، ناپ تول  میں کمی نہیں کرتا ، جھوٹ نہیں بولتا، گاہک کو دھوکہ نہیں دیتا، سامان میں کوئی عیب ہے تو اسے چھپاتا نہیں ، تو بظاہر یہ خیال ہوتا ہے کہ ان پابندیوں کے ساتھ اس کا کاروبار نہیں چلے گا ۔ اور جو شخص ان کی پابندی نہیں کرے گا وہ دھوکہ بازی سے اپنا فائدہ حاصل کرتا رہے گا ۔ لیکن ہمیں قرآن حکیم اس سے ایک مختلف بات کی  طرف متوجہ کرتا ہے: ’’اور جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ اس کے لئے (دنیا و آخرت کے رنج و غم سے) نکلنے کی راہ پیدا فرما دیتا ہے، اور اسے ایسی جگہ سے رِزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔‘‘  (سورہ اطلاق:۳۔۲)
 یعنی جو شخص گناہ سے بچتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے لئے خلاصی کا راستہ نکال دیتے ہیں۔ مثلاً آپ سمجھتے ہیں کہ اس موقع پر گناہ کئے بغیر کوئی چارہ کار نہیں تو اس موقع پر اس گناہ سے بچ کر دیکھئے، یقیناً اللہ تعالیٰ اس سے بچنے کا راستہ نکال دیں گے اور اس کے بدلے کامیابی آپ کا مقدر ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK