عورت کا مقام و مرتبہ اور عدلیہ

Updated: April 23, 2021, 3:41 PM IST | Shamim Tariq

کیرالا ہائی کورٹ نے ایک معاملے میں فیصلہ صادر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کوئی عورت مرد کی مدد کے بغیر خود کو بے بس محسوس کرتی ہے تو یہ ہمارے نظام کی خرابی ہے۔ کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ تنہا زندگی گزارنے والی یا شادی کے بغیر بچے کو جنم دینے والی عورت کو بروقت مدد مہیا ہو یہ یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

ہفتہ بھر پہلے (۱۲؍ اپریل ۲۰۲۱ء) کیرالا ہائی کورٹ نے ایک معاملے میں فیصلہ صادر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کوئی عورت مرد کی مدد کے بغیر خود کو بے بس محسوس کرتی ہے تو یہ ہمارے نظام کی خرابی ہے۔ کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ تنہا زندگی گزارنے والی یا شادی کے بغیر بچہ جننے والی عورت کو بروقت مدد مہیا ہو یہ یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ایک دوسرے معاملے میں (۱۶؍ اپریل) چیف جسٹس آف انڈیا ایس اے بوبڑے نے دورانِ سماعت کہا کہ ہائی کورٹ میں ہی نہیں سپریم کورٹ میں بھی نہ صرف خاتون جسٹس کی تعداد بڑھائی جائے بلکہ سپریم کورٹ کی چیف جسٹس بھی عورت ہو۔ کیرالا ہائی کورٹ کے سامنے جو معاملہ آیا وہ یہ تھا کہ ۲۰۱۸ء میں یہاں سیلاب سے جو تباہی آئی اس سے متاثر ہونے والوں کو راحت پہنچانے اور انہیں دوبارہ آباد کرنے کا کام کرنے والوں میں ایک مرد اور ایک عورت میں اتنی قربت بڑھی کہ وہ لیو اِن ریلیشن میں یعنی سماج میں رائج شادی کے مذہبی بندھن میں بندھے بغیر میاں بیوی کی طرح رہنے لگے اور ان کو ایک بچی بھی پیدا ہوئی۔ بدقسمتی دیکھئے کہ بچی کے ماں باپ میں دوری پیدا ہوگئی اور مجبور ماں نے اس بچی کو ایک ایسی کمیٹی کے سپرد کردیا جو بے سہارا بچوں کی نگہداشت اور پرورش کرتی ہے۔ کمیٹی کے پاس کچھ دنوں کے بعد ایک ایسے میاں بیوی آئے جو اولاد سے محروم تھے۔ انہوں نے قانونی طور پر بچی کو گود لے لیا۔ اس کے بعد تقدیر نے ایک بار پھر ان کے ساتھ مذاق کیا اور بچی کے باپ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ وہ اس عورت کے پاس آیا۔ اپنی غلطی کی معافی تلافی کی۔ دوبارہ ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا اور یہ بھی طے کیا کہ وہ اپنی جس بیٹی کو کمیٹی کے سپرد کرچکے ہیں اس کی نگہداشت اور پرورش خود کریں گے۔ ہائی کورٹ نے معاملے کی سماعت کرنے کے بعد جہاں دوسری باتیں کہیں وہاں ماں ہونے اور ممتا کو سب پر مقدم ٹھہرایا۔ کورٹ کے خیال میں:
٭ اسکول اور کالجوں میں جو تعلیم ہورہی ہے وہ ہمیں عورتوں کا احترام کرنا نہیں سکھاتی۔ یہاں یہ یاد دہانی ضروری ہے کہ کیرالا میں خواندگی کی شرح سو فیصد ہے۔ عورت کا اپنے جسم پر پورا حق ہے اور وہ اس سے تعلق رکھنے والے تمام فیصلے اپنی مرضی سے کرسکتی ہے اور٭ عورتوں کو بھی خود مختاری حاصل ہے یعنی ان کے آزادانہ وجود کو تسلیم کیا جانا چاہئے۔ ایسے معاملات میں ایک ترکیب Single Mother استعمال کی جاتی ہے۔ مفہوم یہ لیا جاتا ہے کہ وہ ماں جس کے بچے کا باپ نہ ہو۔ لیکن اس کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں مثلاً وہ عورت جس کی عصمت دری کی گئی ہو اور اس کے نتیجے میں وہ ماں بن گئی ہو۔ وہ ماں جس نے اپنی مرضی سے کسی ایک شخص کو خود کو سپرد کیا ہو اور اس کی اولاد اسی تعلق کا نتیجہ ہو۔ وہ عورت جو معاوضہ لے کر کسی کو بھی اپنے پاس آنے اور جسمانی تعلق قائم کرنے کی اجازت دیتی ہو۔ عدالتوں نے کئی فیصلے دیئے ہیں اور فیصلے میں عورت کی آزادانہ حیثیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ شادی کے بغیر پیدا ہونے والوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے مگر یہ سوچنا کہ ایسے بچوں کو معاشرہ آسانی سے قبول کررہا ہے صحیح نہیں ہے۔ جس معاشرے میں شادی کے باوجود برادری کے باہر کی یا کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والی عورت کی اولاد کے لئے شادی بیاہ میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں ’’ھڈی‘‘ کا مسئلہ اٹھایا جاتا ہے اس معاشرہ میں بغیر شادی کے پیدا ہونے والے بچوں کا قبول کیا جانا مشکل ہے البتہ اس بات کی تاکید ضروری ہے کہ ہر بچہ یا ہر انسان، انسان ہونے کی حیثیت سے عزت و عظمت کا مستحق ہے اور آزادنہ حیثیت کا مالک ہے۔ اس کی اس حیثیت کی کیسے حفاظت کی جائے اس کا فیصلہ اور نفاذ کرنا حکومت کا کام ہے۔ کیا حکومت اپنا فرض ادا کرے گی یا ادا کررہی ہے؟
 ادا کررہی ہوتی تو چیف جسٹس آف انڈیا کو یہ نہ کہنا پڑتا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ملک کی چیف جسٹس عورت ہو۔ عورتوں کا قانون کا پیشہ اختیار کرنا ۱۹۲۳ء میں ممکن ہوا۔ تب سے اب تک سپریم کورٹ میں ۲۴۷؍ جسٹس ہوئے جن میں صرف ۸؍ عورتیں تھیں۔ ۱۹۸۷ء میں فاطمہ بی بی سپریم کورٹ کی پہلی جسٹس ہوئی تھیں۔ اس وقت سپریم کورٹ میں ۲۹؍ جسٹس ہیں اور ان میں محض ایک عورت ہے۔ ہائی کورٹس میں جسٹس کی کل تعداد ۶۶۱؍ ہے جن میں محض ۷۳؍ عورتیں ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس کی مختلف وجوہ ہوسکتی ہیں۔ مگر ایک اہم وجہ وہ ہے جس کی طرف چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس بوبڑے نے اشارہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وکالت کرنے والی بیشتر عورتیں گھر گرہستی اور بچوں کی پڑھائی کے سبب جج یا جسٹس بننے سے انکار کرتی ہیں۔ بے شک تمام عورتیں ایسا نہیں کرتیں مگر جو عورتیں جج بننے سے انکار کرتی ہیں اس سے بھی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں جسٹس کے عہدے پر عورتوں کے تناسب پر فرق پڑتا ہے۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ عورت کو محض عورت ہونے کی وجہ سے تو جج یا جسٹس بننے کی پیشکش نہیں کی جاسکتی، اس کے لئے اس میں صلاحیت بھی ہونا چاہئے۔ اس نقطۂ نظر سے سے دیکھیں تو معاشرے میں عورتوں اور بچیوں کو صحیح مقام دلانے کے لئے عدالتوں میں ان کو جگہ دلانے کے خصوصی انتظامات کا کیا جانا بھی ضروری ہے۔ پھر یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ ایک عورت کے ساتھ چاہے وہ اعلیٰ عہدیدار یا جسٹس ہو یا گھریلو ملازمہ، ہمارا سلوک کیا ہے۔ اس معاملے میں اچھے سمجھے جانے والے لوگ بھی اچھے نہیں ثابت ہوتے۔ اس پس منظر میں کیرالا ہائی کورٹ کا فیصلہ اور چیف جسٹس کی رائے کو وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ عورت چیف جسٹس ہو، وزیر اعظم ہو مگر وہ خود کو پہلے عورت ثابت کرے۔ کیرالا ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو قبول نہ کرنے کوئی وجہ نہیں ہے کہ عورتوں کی آزادانہ حیثیت تسلیم کی جائے مگر آزادانہ حیثیت کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وہ پہلے بچے پیدا کرے، پھر اس کو کمیٹی کے حوالے کردے اور اس کے بعد اس کو واپس لینے کی کوشش کرے۔ معاشرے کو صحیح نہج پر چلانے کے لئے ایک ضابطہ ہونا ضروری ہے۔n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK