دنیا کا مشکل ترین کام

Updated: February 14, 2021, 9:19 PM IST | Professor Sayed Iqbal

لوگوں کو معاف کر دینا ، دنیا کا سب سے مشکل کام ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے سارے اختیارات کے باوجود آدمی اپنا وجود سمیٹ کر دوسرے کے قدموں میں رکھ دے۔ چونکہ لوگ معافی کی اہمیت سے ناواقف ہوتے ہیں اسلئے کسی کو معاف نہیں کرتے۔ اگر وہ جان جائیں کہ اس عمل سے دنیا میں کتنا ذہنی سکون نصیب ہوگا اورآخرت میں کتنا اجرملے گا، تو شاید معاف کرنے میں تاخیر نہ کریں

Jacinda Ardern. Picture:INN
یکنڈا آرڈرن۔تصویر :آئی این این

 واشنگٹن پوسٹ کی ۱۴؍ جنوری کی  اشاعت میں ایک  رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں آئرلینڈ کے وزیراعظم نے اپنے عوام سے ماضی میں سرزد ہونے والی سرکاری کوتاہی کی معافی طلب کی ہے۔ حالانکہ یہ جرم ان کے دور حکومت میں نہیں ہوا تھا، اس کے باوجود ضمیر کی آواز نے انہیں مجبور کیا کہ وہ ماضی کے انسانیت سوز جرائم کے معافی مانگیں۔ ۱۹۲۰۔ ۱۹۶۸ء کے درمیان آئرلینڈ میں کچھ ایسے ادارے قائم تھے جہاں کیتھولک  چرچ کے حکم پر بن بیاہی ماؤں  اور ان کے نوزائیدہ بچوں کو قید کیا گیاتھا اور تقریباً نصف صدی تک ان قیدیوں پر ایسے ظلم روا رکھے گئے جنہیںجان کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ آج آئرش حکومت نے ان اداروں کو بند کردیا ہے کیونکہ معاشرے کی بدلتی ہوئی اقدار نے  بن بیاہی ماؤں کو قبول کرلیا ہے اور وہی چرچ جو کل تک ان کی موجودگی برداشت نہیں کرتا تھا آج Live - in  تعلقات پر فتویٰ صادر کرنے کی ہمت نہیں کرتا  لیکن ایک وزیراعظم کی معافی مانگ لینے سے کیا ان ساٹھ ہزار خواتین کے دُکھوں کا مداوا ہوجائے گا؟ کیا وہ ہزار ہا بچے دوبارہ زندہ ہوجائیں گے جو اس قید میں مرکٹ چکے تھے؟ کیا ان نوجوان عورتوں کے ماہ وسال واپس آسکیں گے جو ایک قدامت پسند طبقے کے ظلم کی نذر ہوگئے؟
  ستمبر ۲۰۱۹ء میں پروٹسنٹ چرچ کے ایک روحانی پیشوا  ہندوستان آئے اور تپتی ہوئی دوپہرمیں جلیانوالہ باغ  پہنچے۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے جلیانوالہ باغ میںپھنسے نہتے اور بے قصور ہندوستانیوں کے قتل عام پر اپنا سر جھکا دیا۔ انہیں افسوس تھا کہ برطانوی حکومت کے ایک سرکاری افسر (جنرل ڈائر) نے ایسی انسانیت سوز حرکت کی اوریہ بھی نہ سوچا کہ وہاں آزادی کے متوالے ہندوستانی ان کے ایسے انسان بھی ہیں۔ صرف اسلئے کہ وہ برطانوی استبداد کے سامنے بے بس تھے۔ وہ تو علامتی طورپر اپنے دکھ کا اظہار کرکے روانہ ہوگئے مگر سوچنے کا  مقام یہ ہے کہ کیا آج بشپ آف کینٹربری کی معافی مانگنے  سے برطانوی سامراج کے سارے گناہ دُھل گئے ؟ اتنےبرسوں میں ملکہ ٔ برطانیہ کو معافی مانگنے کا خیال آیا، نہ کسی برطانوی وزیراعظم نے ہندوستانیوں سے معافی مانگنے کا سوچا۔ کسی امریکی حکومت نے بھی آج تک ان بظاہر غیر مہذب ریڈاِنڈین آبادی  سے معافی مانگنے کی زحمت نہیں کی جن کی زمینوں پر قبضہ کرکے انہوںنے ایک ملک کی بنیادیں  رکھی تھیں۔ اس سلسلے کی کڑی کا  و ہ واقعہ بھی ہے جب جرمنی کے چانسلر وِلی برانڈٹ وارسا کی ایک غریب بستی میں پہنچے اورانہیں اچانک دوسری جنگ عظیم کے دوران اپنے فوجیوں کے مظالم یادآگئے۔ انہوںنے اسی وقت وارسا کی زمین پر سجدہ ریز ہوکر ماضی کے مظالم کی معافی طلب کی۔ آج کسی سیاستداں سے یہ توقع ہی نہیں کی جاسکتی کہ وہ اپنی غلطیوں کی معافی مانگے گا۔ نہ تو روسی حکومت نے اسٹالن کے تاریک دور میں لاکھوں روسیوں کے قتل عام کی معافی مانگی ہے نہ امریکی حکومت کو ہیروشیما اورناگاساکی پر بم گرانے کا افسوس ہے۔
  اسی طرح اسرائیلی حکومت کو فلسطینیوں پر مسلسل ظلم کرنے کا ملال ہے ، نہ مصری قیادت اخوان المسلمون کے ممبران کے قتل پر شرمندہ ہے۔ خود ہمارے ملک میں کانگریس پارٹی کو فرقہ وارانہ  فسادات کا غم ہے جس میں نہ جانے کتنے مسلمانوں کی جانیں تلف ہوئیں اورکتنے لوگ معاشی طورپر اپاہج بنادیئے گئے ، نہ اس نے گولڈن ٹیمپل کے حملے اور ۱۹۸۴ء کے سکھ مظالم پر افسوس ظاہر کیا ہے۔ وہ توگوا کی آبادی پر کئے گئے مظالم کو بھی جائز سمجھتی ہے جو اس ریاست کو ضم کرنے کیلئے لازمی قراردیئے گئے تھے۔ حیدرآباد میں ’پولیس  ایکشن ‘ بھی اس کے نزدیک جائز تھا جو کہ دراصل ایک فوجی کارروائی تھی جس میں ہزار ہا مسلمان قتل ہوئے اوران کی جائیداد یں لوٹ لی گئی تھیں۔ ان  دنوں نہرو نے ایک رکن کانگریس پنڈت سندر لال کی قیادت میں ایک تحقیقاتی کمیشن بھی قائم کیا تھا مگر وہ رپورٹ آج تک منظر عام پر نہیں آسکی۔ شاید اقتدار کا نشہ صحیح اور غلط کا فرق مٹا دیتا ہے۔اگر صاحب اقتدار کو واقعی اتنی تمیز ہوتی تو نہ یہودیوں کیلئے گیس چیمبر بنتے  ، نہ گجرات میں قتل عام ہوتا۔
  آج انتہا پسندی اور مذہبی جنون نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ نتیجتاً آج کوئی فردیا گروہ اپنے ماضی پر شرمندہ نہیں دکھائی دیتا۔ اگر سیاسی اور مذہبی قیادتیں اپنے ماضی کے کرتوتوں کا اعتراف کرکے معافی مانگنے کی عادت ڈال لیں تو ظلم وناانصافی  میں بڑی حدتک کمی آسکتی ہے۔ اس کے برخلاف دائیں بازوکی طاقتیں ماضی کو بنیاد بناکر اقلیتوں اور کمزوروں پر نت نئے انداز میں ظلم کرنے لگی ہیں۔ کہیں شہریت سے محروم کرنے کی سازش رچی جاتی ہے توکہیں انہیں قصداً بنیادی سہولتوں سے عاری بستیوں میں رہنے پر مجبور کیاجاتا ہے۔ تعلیم اور روزگار سے محروم رکھنے کے ساتھ ساتھ سماجی سطح پر ان کا مقاطعہ کرنا بھی جائز قراردیا گیا ہے بلکہ آج اس ساری تہذیبی روایتوں اور  دستوری اداروں کو سماجی  زندگی سے بے دخل کردیا گیا ہے جن کے توسط سے لوگ ایک دوسرے کے قریب آسکیں۔ نفرت کی اس فصل سے اقتدارو اختیار کے متلاشیوں کو اپنے مفادات کے حصول میں آسانی ہوجاتی ہے، اسلئے کہ اسے لوگوں کی عزت  اور جان ومال سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ اگراس عمل میں کچھ معصوم جانیں ضائع ہو جائیں یا کچھ جائیداد اور املاک تباہ  ہوجائیں تو انہیں کوئی  فرق نہیں پڑتا۔
  اس سارے جھگڑے کی بنیادی وجہ کردار کا وہ بحران ہے جس نے ہم سے شرافت ، انصاف پسندی اور حق پرستی چھین لی ہے۔ ہم اپنی نادانی میں ایسی بے اصول قیادت کا انتخاب کرنے لگے ہیں جو اجتماعی معاملات میں ناکارہ ثابت ہوتی ہے۔ بغض وعناد پر مبنی یہ قیادت اپنے اطراف ایک ایسی بھیڑ جمع کرلیتی ہے جو مخالفین کو دبائے رکھنے  میں یقین رکھتی ہے۔ کبھی رشوت، کبھی دھمکی، کبھی منصبوبہ بند سازشیں اور دنگے فسادات ایسی صورت حال کو جنم دیتے ہیں کہ انسانیت اپنا منہ چھپانے کے علاوہ کچھ نہیں کرپاتی۔ 
 کاش ہم نیوزی لینڈ کی اس خاتون وزیراعظم سے سبق حاصل کریں جنہوںنے اپنے ہاں کی مساجد میں قتل عام پر کچھ ایسے اقدامات کئے اور اس خلوص سے معافی مانگی کہ ساری دنیا میں ان کا عمل ایک مثال بن گیا۔ انہوںنے نہ صرف مقتولین کے ورثا کو ہرجانے کی رقم عطا کی بلکہ انہیں نیوزی لینڈ کی شہریت بھی پیش کی۔ ساتھ  ہی پارلیمنٹ میں اسلحہ رکھنے کے قوانین میں ترمیم کی اور مسلمانوں کے اجتماعات میں شریک ہوکر انہیں یقین دلایا کہ وہ کوئی غیر نہیں بلکہ  اسی ملک کے باشندے ہیں۔  جنوبی افریقہ کے نیلسن منڈیلا جب ۲۷؍ سال کی قید وبند کی صعوبتیں اٹھاکراپنے ملک کے صدر بنے تو وہ بھی اقتدار کا فائدہ  اٹھاکر سفید فام آبادی کو سبق سکھاسکتے تھے لیکن انہوںنے اپنے دشمنوں اور مخالفین کو معاف کرکے نفرت اور تعصب کی آندھی پر ہمیشہ  کیلئے روک لگادی تھی۔ ترکی صدر طیب اردگان نے بھی رومانیہ سے معافی مانگ لی ہے جو کل تک ترکی کے حملوں سے ناراض تھا۔ 
 تاریخ ایسے ہزار ہا واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں ظالم حکمرانوں نے اپنی حکومت کے استحکام کیلئے جبر و استبداد  باقی رکھا اوراپنی ناانصافیوں کیلئے عوام سے کبھی بھی معافی نہیں مانگی۔ عموماً آمرانہ طبیعت کے مالک خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں اور خودپسندی اور غرور کی وجہ سے ان کی انا انہیں جھکنے نہیں دیتی۔ بادشاہوں اور سیاسی قائدین کو تو جانے دیجئے، عام لوگ بھی کچھ معاملات میں اتنے نازک مزاج واقع ہوتے ہیں کہ ذرا سی ٹھیس لگ جائے تو آگ بگولہ ہو جاتے ہیں۔ کہیں ہلکا سا طنز، کبھی تھوڑی سی  بے توجہی اورکبھی ناشائستہ الفاظ کا استعمال، انہیں دوسروں کے خلاف نفرت اور انتقام کے جذبے سے بھردیتا ہے ۔ پھر وقت کے ساتھ مزاج کی تلخی اتنی شدت اختیارکرلیتی ہے کہ یہی لوگ منفی جذبات کی رومیں بہہ جاتے ہیں جبکہ ہم ایک دوسرے کو معاف کردیا کریں تو ماضی کی تلخیاں مستقبل کی راحت میں بدل سکتی ہیں۔ حیرت ہے کہ دنیا کے سارے مذاہب آپس میں محبت کو رواج دینے، رحم دلی کا برتاؤ کرنے، ایک دوسرے سے ہمدردی کرنے اور درگزر کرنے کا درس دیتے ہیں لیکن ہم اپنے غصے اور نفرت کی آگ میں ایسے جھلس جاتے ہیں کہ اپنے کئے پر کوئی پچھتاوا یا شرمندگی نہیں ہوتی، نہ ہمارے ذہنوں  میں کوئی مثبت خیال اُبھرتا ہے۔ الٹا معافی مانگنا ہمیں کمزوری لگتی ہے۔ پھر چاہے خاندانی جھگڑے نسل درنسل چلتے رہیں  اور برسوں کی دوستیاں منٹوں میں ٹوٹ جائیں ، ہمیں ان رشتوں کی تجدید میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ اندیشہ یہی ہوتا ہے کہ معافی مانگنے سے ہمارا قد گھٹ جائے گا اور معاشرے میں سبکی ہوگی۔ذرا سوچئے، فتح مکہ کے بعد  رسول اللہؐ نے عام معافی کا اعلان نہ کیا ہوتا تو کیا اسلام ایک دنیا کو فتح کرپاتا ؟
 اسی لئے بزرگان دین کہتے ہیں کہ لوگوں کو معاف کر دینا ، دنیا کا سب سے مشکل کام ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے سارے اختیارات کے باوجود آدمی اپنا وجود سمیٹ کر دوسرے کے قدموں میں رکھ دے۔ چونکہ لوگ  معافی کی اہمیت سے ناواقف ہوتے ہیں اسلئے کسی کو معاف نہیں کرتے۔ اگر وہ جان جائیں کہ اس عمل سے دنیا میں کتنا ذہنی سکون نصیب ہوگا اورآخرت میں کتنا اجرملے گا، تو شاید معاف کرنے میں تاخیر نہ کریں۔ کاش وہ جان پاتے کہ اس حیات مستعار میں کچھ لوگوں سے ناراض رہ کر انہوںنے نہ خزانہ جمع کیا اورنہ اپنی عزت وشہرت میں چار چاند لگائے بلکہ اپنے پچھلے صرف تلخیاں اور پچھتاوے چھوڑگئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK