• Mon, 26 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

یوگی راج میں ’حلال‘ مصنوعات پر پابندی پریشان کن کم، مضحکہ خیز اور احساس کمتری کا مظہر زیادہ

Updated: December 05, 2023, 1:03 PM IST | Asim Jalal | Mumbai

یہ بھی طرفہ تماشا ہی ہے کہ ایک طرف مرکزی حکومت ایسے اداروں کو منظوری دیتی ہے جو حلال سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہیں اور دوسری طرف یوگی سرکار ان کے خلاف کیس درج کرلیتی ہے اور حلال سند والی مصنوعات پر پابندی عائد کردیتی ہے۔

In one store, Uttar Pradesh officials can be seen checking Halal-certified products. Photo: INN
ایک اسٹور میں اترپردیش کے افسران حلال سرٹیفائیڈ پروڈکٹ کی جانچ کرتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ تصویر : آئی این این

ہندوستانی سیاست کو’’بلڈوزر انصاف‘‘ (جیسے ماورائے عدالت عمل )سے متعارف کرانے والی یوگی آدتیہ ناتھ سرکار جو اِس سے پہلے لَوجہاد کے مفروضے کو حقیقت باور کراتے ہوئے اس کی ’’روم تھام ‘‘کیلئے قانون سازی کرچکی ہے، اب ایک اور دُوڑ کی کوڑی لائی ہے۔ دائیں  بازو کےشدت پسند عناصر کے وہاٹس ایپ گروپ اور فیس بک صفحات پر حلال اشیاء کے خلاف برسوں سے جاری نفرت انگیز مہم کو قبولیت بخشتے ہوئے یا یہ کہیں  کہ اس کا سیاسی فائدہ اٹھانے کیلئے ایک ایف آئی آر کو بنیاد بناکر یوگی حکومت نے اتر پردیش میں  ’’حلال اشیاء‘‘(وہ اشیاء کے پیکٹ پر حلال ہونے کی مُہر لگی ہوتی ہے) پر پابندی عائد کردی ہے۔
 ۱۷؍ نومبر کو لکھنؤ کے حضرت گنج پولیس تھانے میں حلال سرٹیفائیڈ اشیاء کے خلاف ایف آئی آر درج ہوتے ہی ۱۸؍ نومبر کو عائد کی گئی اس پابندی کا جو جواز پیش کیاگیا ہےاس کے مطابق ’حلال سرٹیفکیشن ‘ مصنوعات کو سندفراہم کرنے والا غیر قانونی متوازی نظام ہے جو خوردنی اشیاء سے متعلق ایکٹ کے سیکشن۸۹؍ کے تحت قابل عمل نہیں ہے۔ یوگی سرکار کے مطابق حلال سرٹیفکیشن ’’بدنیتی پر مبنی کوشش‘‘ ہے جس کا مقصد ’’غیر حلال‘‘ اشیاء(وہ اشیاء جن پر حلال کی مُہر نہیں ہوتی)کی خریداری کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ حکومت اسے غیر منصفانہ طریقے سے مالی منفعت حاصل کرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ سماج میں  مختلف طبقات میں  منافرت کے بیج بونے، اختلافات پیدا کرنے اور ملک مخالف (اینٹی نیشنل )عناصر کی ملک کو کمزور کرنے کی ’’وسیع تر سازش‘‘ بھی قرار دیتی ہے۔ اس لئے پابندی عائد کرتے ہی ریاست بھر میں  چھاپہ مار کارروائی کرکے ایسی اشیاء ضبط کی گئیں  جن پر حلال کی مُہر لگی ہوئی تھی اور معاملے کی جانچ ایس ٹی ایف کو سونپتے ہوئے اسے بہت بڑا معاملہ بنا کر پیش کیاگیا۔ ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی اوریہ شوشہ بھی چھوڑ دیاگیا کہ اندیشہ ہے کہ حلال سرٹیفکیشن سے حاصل ہونےو الی آمدنی کو دہشت گردی کی فنڈنگ کیلئے استعمال کیا جاتاہوگا۔یہ امر بھی مضحکہ خیز ہی ہے کہ جس ’حلال سرٹیفکیشن ‘ سے ہونے والی آمدنی کے تعلق سے اندیشہ ہے کہ دہشت گردوں  کی فنڈنگ کیلئے ہوتی ہوگی ،اُسی حلال سرٹیفکیشن کی اجازت ایکسپورٹ ہونے والی اشیاء کیلئے برقرار رکھی گئی ہے۔ یعنی جو تنظیمیں  (حکومت کے بیانیہ کے مطابق) اندرونِ ملک فروخت ہونےوالی اشیاء کو حلال سرٹیفکیٹ جاری کرکے کمائی کو ہندوستان کے خلاف استعمال کررہی تھیں وہ اب بھی ایکسپورٹ ہونےو الی اشیاء کیلئے مذکورہ سرٹیفکیٹ جاری کرکے اپنی کمائی جاری رکھ سکتی ہیں ۔ حلال سرٹیفکیشن کو متوازی نظام قرار دیتے ہوئے ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ۱۸؍ نومبر کو جاری کئے گئے اپنےبیان میں  یوگی سرکار نے یہ بھی کہا کہ ملک میں   اشیائے خوردنی کیلئے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا اختیار صرف اور صرف فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈ اتھاریٹی (ایف ایس ایس اے آئی)کو ہے جبکہ اسکرول ڈاٹ اِن کی ایک رپورٹ میں مذکورہ ادارہ کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹراِنوشی شرما واضح کرتی ہیں  کہ ’’ایف ایس ایس اے آئی کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے والا ادارہ نہیں  ہے، ہم ریگولیٹری ادارہ ہیں ۔‘‘وہ اس کو سمجھاتے ہوئے بتاتی ہیں  کہ کھانے پینے کے اشیاء کا معیار وضع کرنا اوراسے یقینی بنانا ایف ایس ایس اے آئی کی ذمہ داری ہے،وہ سرٹیفکیٹ جاری نہیں  کرتا۔
 ’حلال‘ کے خلاف نفرت انگیزی دراصل اُن عناصر کی احساس کمتری کا ایک اور مظہر ہے جو ملک کی آبادی کے ۸۰؍ فیصد حصے کو ۱۴؍ فیصد سے ڈراتے رہتے ہیں ۔یہ وہ لوگ ہیں  جنہوں نے مسجدوں  سے لاؤڈ اسپیکر پر ہونے والے اذان کے جواب میں  مندروں  کی آرتیوں  کو بھی لاؤڈ اسپیکر پر شروع کردیا، پھربھی احساس کمتری سے نہ نکل پائے تو اذان پر پابندی کیلئے عدالت تک پہنچ گئے اور پھر اپنا سا منہ لے کر لوٹ آئے۔ ایسی ہی احساس کمتری حلال کے خلاف چلائی جانے والی تحریک کا بھی سبب ہے۔ آل انڈیا پرسنل لاء بورڈ نے بجا طو رپر یوگی سرکار کی کارروائی کو مذہبی معاملات میں  مداخلت سے تعبیر کیاہے۔ یہ پابندی اس لئے بھی غیر ضروری ہے کہ حلال سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا معاملہ اختیاری ہے۔ سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے ادارے کسی کمپنی سے رابطہ نہیں  کرتے بلکہ خود کمپنیاں  سرٹیفکیٹ کے حصول کیلئے ان سے رابطہ کرتی ہیں ۔یہ جان کر حیرت ہوگی رام دیو کی پتانجلی بھی ان کمپنیوں  میں  شامل ہے جو اپنی کئی مصنوعات کیلئے ’’حلال کا سرٹیفکیٹ حاصل کرتی ہے تاکہ مشرق وسطیٰ   اور دیگر مسلم ممالک میں  میں  اپنا مال بیچ کر پیسے کما سکے۔ چونکہ’ حلال‘ کا استعمال مسلمانوں سے خاص ہے اس لئے یوگی حکومت نے پابندی عائد کرتے ہوئے اسے ’’غیر منصفانہ طریقے سے مالی منفعت حاصل کرنے کی کوشش ‘‘ کا الزام عائد کیا مگر یہ بھی مضحکہ خیز ہے ۔ اگر ملک کے ۱۴؍ فیصد عوام صرف ’حلال سرٹیفائیڈ‘اشیاء خریدنے کا فیصلہ کربھی لیں تو اُن کمپنیوں  کو نقصان کیسے ہوگا جن کی مصنوعات پر حلال سرٹیفکیٹ نہیں  ہے کیوں  کہ انہیں  خریدنے کیلئے ملک کی ۸۰؍ فیصد آبادی موجود ہے۔ 
 چونکہ ذبیحہ پابندی سے مستثنیٰ ہے اس لئے مسلمان یوگی سرکار کی اس پابندی سے متاثر ہوں گے نہ یہ ان کیلئے پریشانی کا باعث ہے۔گوشت اورگوشت سے بنی اشیاء کو خریدتے وقت مسلمان اس بات کی تصدیق اُس وقت بھی کرلیتے تھے جب حلال سرٹیفکیشن کا چلن ملک میں  نہیں تھا اور اب بھی کرتے ہیں ۔ رہا دودھ سے بنی مصنوعات، شکر، بیکری پروڈکٹس، خوردنی تیل جیسی چیزوں  کا معاملہ جن پر حلال مُہر پر حکومت نے پابندی لگادی ہے، تو ان پر ویج اور نان ویج کی علامت واضح  طور پر موجود ہوتی ہے۔ اگرکوئی شئے ویج ہے تو پھر وہ حلال بھی ہے جبکہ اگر نان ویج ہےتو خریدتے وقت مسلمان اپنے طور پر احتیاط خود ہی کرلیتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی مارکیٹ میں ’’حلال سرٹیفائیڈ‘‘ اشیاء کی مانگ کسی طبقے کی طرف سے کبھی ہوئی ہی نہیں بلکہ یہ تو کمپنیاں ہیں جو مسلمانوں  کو رجھانے کیلئے ’’حلال ‘‘سرٹیفکیٹ حاصل کرتی ہیں ۔ ان میں   سے اکثر وہ ہیں  جو ایکسپورٹ بھی کرتی ہیں ۔یہ کمپنیاں ملکی اور غیر ملکی مارکیٹ کیلئے الگ الگ پیکیجنگ کے بجائے ایک ہی پیکیجنگ کا استعمال کرکے اپنا خرچ بچاتی ہیں ۔ نتیجتاً ملک میں فروخت ہونے والی اشیاء پر بھی حلال کا لوگو نظر آجاتا ہے۔ یوگی سرکار کے فیصلے سے ایسی کمپنیاں بری طرح متاثر ہورہی ہیں۔ 
رہی بات حلال سرٹیفکیشن کی تو خود مرکزی حکومت اس کی اجازت دیتی ہے اور ایسا سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے اداروں کو منظوری بھی دیتی ہے۔ یوگی سرکار کی حلال پر پابندی نہ صرف اس کی تنگ نظری کا مظہر ہے بلکہ عالمی سطح پر ملک کیلئے باعث شرمندگی بھی ہے جو ایکسپورٹرس کے کاروبار کو بھی متاثر کرسکتی ہے اوراس طرح ملکی معیشت کیلئے بھی نقصان کا باعث بن سکتی ہے لیکن کیاکیجئے کہ اس وقت ملک میں  ووٹوں  کیلئے کبھی حجاب تو کبھی حلال کو موضوع بحث بنایا جاتا رہتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK