تم کمالِ نیکی تک نہیں پہنچ سکتے جب تک وہ چیزیں خرچ نہ کرو جو تمہیں عزیز ہوں

Updated: April 15, 2021, 12:48 PM IST

یہاں سے پھر بنی اسرائیل کا ذکر ہے کہ وہ اللہ کے احکام کا انکار کرتے ہیں اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور ان لوگوں کو بھی ناحق قتل کرتے ہیں جو انصاف کا حکم دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو درد ناک عذاب کی خبر سنا دیجئے۔ اگلی کچھ آیتوں تک بنی اسرائیل کے جرائم کا، اللہ کی کتاب سے اعراض کا اور ان کے من گھڑت عقائد کا ذکر ہے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

یہاں سے پھر بنی اسرائیل کا ذکر ہے کہ وہ اللہ کے احکام کا انکار کرتے ہیں اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور ان لوگوں کو بھی ناحق قتل کرتے ہیں جو انصاف کا حکم دیتے ہیں۔  ایسے لوگوں کو درد ناک عذاب کی  خبر سنا دیجئے۔ اگلی کچھ آیتوں تک بنی اسرائیل کے جرائم کا، اللہ کی کتاب سے اعراض کا اور ان کے من گھڑت عقائد کا ذکر ہے۔ ان آیات کے بعد اللہ کی عظمت وجلال کا بیان ہے کہ اے اللہ تو جس کو چاہے سلطنت عطا کرتا ہے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لیتا ہے، جس کو چاہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہے ذلت دیتا ہے، تیرے ہی ہاتھ میں خیر ہے،  بلا شبہ تو ہی ہر چیز پر قادر ہے، تو ہی رات کو دن اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے، توہی زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور تو ہی بے حساب رزق عطا کرتا ہے۔ آگے کچھ انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر خیر ہے۔ پھر حضرت مریم علیہاالسلام کا ذکر شروع ہوتا ہے کہ ان کی والدہ نے منت مانی تھی کہ جو کچھ میرے پیٹ میں ہے اس کو تو مجھ سے قبول کر۔ جب وضع حمل ہوا تو انہوں نے عرض کیا اے اللہ! میرے تو بیٹی ہوئی ہے، میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ منت قبول کرلی اور حضرت مریم علیہا السلام کو حضرت زکریا علیہ السلام کی کفالت میں دے دیا۔ 
 جب بھی حضرت زکریا علیہ السلام حجرے میں جاتے تو حضرت مریم کے پاس رزق دیکھتے اور پوچھتے کہ اے مریم یہ رزق تیرے پاس کہاں سے آیا، وہ کہتیں یہ میرے اللہ کے پاس سے آیا ہے۔ بلاشبہ اللہ بے حساب رزق دیتا ہے۔  وہیں حضرت زکریا علیہ السلام نے بھی اپنے لئے اولاد کی دُعا کی اور دعا کے نتیجے میں حضرت یحییٰ علیہ السلام کی پیدائش عمل میں آئی۔ آگے پھر حضرت مریم علیہا السلام کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔  اس میں یہ بھی ہے کہ فرشتوں نے ان سے کہا کہ اللہ تمہیں  اپنے ایک حکم کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح ابن مریمؑ ہے۔
 آگے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کچھ اوصاف بیان کئے گئے ہیں اور بتلایا گیا ہے کہ اللہ ان کو بنی اسرائیل کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گا اور وہ جاکر یہ کہیں گے کہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے کچھ نشانیاں لے کر آیا ہوں، پھر وہ ان کو کچھ نشانیاںدکھلائیں گے، پھر جب حضرت عیسیٰ  علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے کفر کا حال معلوم ہوگا تو وہ پوچھیں گے کہ اللہ کی راہ میں میری مدد کرنے والے کون ہیں۔ حواری کہیں گے کہ ہم ہیں مدد کرنے والے، مگر ان کی قوم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف سازشیں کیں اور اپنی دانست میں انہیں سولی پر چڑھا دیا لیکن اللہ نے انہیں آسمان پر اٹھا لیا۔  یہ قصہ بیان کرنے کے بعد اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ارشاد فرمایا کہ ہم آپ کو یہ آیتیں اور حکمت کی باتیں سنا رہے ہیں۔ اس کے بعد نجران کے عیسائیوں کا ذکر ہے کہ اگر وہ اتنا سمجھانے پر بھی نہیں سمجھ رہے ہیں تو ان کو دعوت مباہلہ دو۔ اس کے بعد اہل کتاب کو نرمی سے نصیحت کی گئی کہ ایک ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے اور وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کریں گے اور نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کریں گے اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا رب نہیں ٹھہرائے گا۔ اگر وہ قبول نہ کریں تو کہہ دو کہ ہم تو حکم الٰہی کے تابع ہیں۔ اے اہل کتاب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو، حضرت ابراہیم علیہ السلام تو پہلے کے ہیں، تورات وانجیل تو بعد میں نازل ہوئی ہیں، نہ وہ یہودی تھے اور نہ نصرانی بلکہ وہ تو خالص مسلمان تھے اور مشرک نہیں تھے۔ یہاں سے تقریباً چوبیس آیات تک اہل کتاب کی خیانتوں، ریشہ دوانیوں اور کٹ حجتیوں کا ذکر ہے، آخر میں خدا کی طرف سے یہ دو ٹوک اعلان ہے کہ جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا دین قبول کرنا چاہے گا تو ہرگز اس کا دین قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔ چوتھا پارہ جس آیت سے شروع ہوتا ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ تم کمالِ نیکی تک نہیں پہنچ سکتے جب تک وہ چیزیں خرچ نہ کرو جو تمہیں عزیز ہوں اور جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ کو خوب معلوم ہے۔ دو آیتوں کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا گیا کہ آپ کہہ دیجئے اللہ نے سچ فرمایا ہے، آپ ابراہیم علیہ السلام کے طریقے کی پیروی کیجئے جو دین حنیف پر تھے اور مشرکین میں سے نہیں تھے۔ ابراہیم علیہ السلام کا ذکر آیا تو یہ ارشاد فرمایا کہ سب سے پہلی عبادت گاہ جو لوگوں کے لئے تعمیر ہوئی وہی ہے جو مکہ میں ہے جو مقام ِ  برکت اور مرکز ہدایت ہے تمام دنیا والوں کے لئے۔ دو تین آیتوں میں خانۂ کعبہ اور حج وغیرہ کے ذکر کے بعد پھر اہل کتاب کے کفر وعناد کے متعلق ارشاد فرمایا گیا، اس کے بعد اہل ایمان سے خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں مسلمان ہوکر ہی مرنا چاہئے اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی کے ساتھ پکڑ لو اور الگ مت ہو اور یاد کرو اللہ کے اس احسان کو جو اس نے تم پر کیا ہے، تم ایک دوسرے کے دشمن تھے پھر اس نے تمہارے دل جوڑ دیئے۔ اب تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی بن گئے۔ تم آگ سے لبریز گڑھے کے کنارے کھڑے ہوئے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس سے بچا لیا ۔ اس طرح اللہ تعالیٰ اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم لوگ ہدایت یافتہ ہوجاؤ۔ تم میں کچھ لوگ ایسے ضرور ہونے چاہئیں جو نیکی کی طرف بلائیں، اچھی بات کا حکم دیں اور برائیوں سے روکتے رہیں اور وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ تمہیں ان لوگوں کی طرح نہ ہونا چاہئے جو بکھر گئے اور جنہوں نے کھلی نشانیوں کے بعد بھی اختلاف کیا۔ ایسے لوگوں کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ تم بہترین امت ہو جسے انسانوں کے لئے لایا گیا ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ 
چند آیات کے بعد غزوۂ اُحد کا قصہ ہے۔ جنگ بدر کا انتقام لینے کے لئے کفار مکہ بے چین تھے اور اشتعال انگیز کاروائیاں کررہے تھے، شوال  ۳؍ ہجری میں احد کے مقام پر زبردست معرکۂ جنگ پیش آیا۔ اس میں تین ہزار کفار اور سات سو مسلمان شریک تھے، شروع میں مسلمانوں کا پلڑا بھاری رہا، کفار شکست کھا کر بھاگنے لگے، مگر یہ ابتدائی کامیابی تھی، فتح کامل نہیں تھی، کچھ مسلمان مال غنیمت جمع کرنے لگے اور جن تیر اندازوں کو عقبی گھاٹی کی حفاظت کے لئے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مامور فرمایا تھا وہ بھی یہ دیکھ کر، کہ دشمن بھاگ رہا ہے، اپنی جگہ چھوڑ کر غنیمت کی طرف لپکے، انہوں مورچہ خالی چھوڑ دیا، کفار نے فوج کے عقب سے حملہ کردیا، لڑائی کا پانسہ پلٹ گیا۔ اس سورہ میں اس غزوہ کا تفصیلی  ذکر ہے جس میں مسلمانوں کے دوگروہوں نے بزدلی دکھلائی حالاں کہ اللہ ان کا مدد گار تھا۔ اسی ضمن میں غزوۂ بدر کا بھی ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ جنگ بدر میں تمہاری مدد کرچکا ہے حالاں کہ تم نہایت کمزور تھے۔ غزوۂ بدر ۱۷؍ رمضان المبارک   ۲؍ ہجری کو پیش آیا تھا۔ غزوۂ بدر کے ضمنی ذکر کے بعد پھر غزوۂ احد کا ذکر ہے جس میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف کے نچلے دانت کا کنارا شہید ہوگیا اور چہرۂ انور لہو لہان ہوگیا۔
چوتھے رکوع سے اہل ایمان کو خصوصی خطاب ہے  کہ  اے ایمان والو! سود کھانا چھوڑ دو جو بڑھتا چڑھتا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، اُمید ہے تم فلاح پاؤگے اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اس جنت کی طرف سبقت کرو جس کی وسعت آسمانوں اور زمین جیسی ہے جو پرہیز گاروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ جو(لوگ) فراخی اور تنگی دونوں حالتوں میں مال خرچ کرتے ہیں، غصہ پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کردیتے ہیں، اللہ تعالیٰ ایسے نیک لوگوں کو پسند کرتے ہیں اور یہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر ان سے کوئی گناہ سرزد ہوجاتا ہے یا اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو انہیں اللہ یاد آتا ہے اور وہ اللہ سے اپنے گناہوں کی مغفرت چاہتے ہیں۔ اس رکوع میں غزوۂ احد میں شکست سے دل برداشتہ مسلمانوں کو تسلی بھی دی گئی ہے کہ دل شکستہ نہ ہو ںاور غم نہ کرو،،تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔
 آگے متعدد آیات میں غزوۂ اُحد ہی کے مختلف واقعات کا ذکر ہے۔ آخر میں فرمایا کہ اے مسلمانو! تم ان لوگوں کی طرح مت ہوجانا جنہوں نے کفر کیا اور جو اپنے بھائیوں سے، جب وہ سفر میں جاتے ہیں یا جہاد میں شریک ہوتے ہیں، یہ کہا کرتے ہیں کہ اگریہ ہمارے پاس رہتے تو مارے نہ جاتے اور نہ قتل کئے جاتے، اللہ تعالیٰ اس گمان کو ان کے دل میں حسرت کا سبب بنا دیتا ہے، اللہ ہی زندگی بخشنے اور موت دینے والا ہے۔ دو آیتوں کے بعد سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ آپ نرم دل ہیں۔ اگر آپ تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب لوگ آپ کے گرد وپیش سے چھَٹ جاتے، لہٰذا آپ ان کو معاف کردیجئے، ان کے لئے مغفرت کی دعا کیجئے اوران سے خاص خاص معاملات میں مشورہ لیتے رہا کیجئے۔ جب آپ پختہ عزم کرلیں تو اللہ پر بھروسہ رکھیں، اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اس پر بھروسہ کرتے ہیں۔ کچھ آیات کے بعد فرمایا کہ زمین وآسمان کی تخلیق میں اور دن رات کے اختلاف میں عقل والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں جو اٹھتے، بیٹھتے، لیٹتے اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی تخلیق میں غور فکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں اے اللہ آپ نے یہ سب کچھ فضول نہیں بنایا۔   اس سورۃ کا اختتام اس آیت پر ہوا جس کا مفہوم یہ ہے کہ اے ایمان والو صبر سے کام لو اور پامردی سے رہو اور کمر بستہ رہو اور اللہ سے ڈرو امید ہے فلاح پاؤ گے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK