• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

نوجوانو! میانہ روی، حکمت اوردُور اندیشی کی بےشمارمثالیں ہماری تاریخ میں موجود ہیں

Updated: October 22, 2023, 12:37 PM IST | Mubarak Kapdi | Mumbai

آیئے اس موضوع پر غور کرتے ہیں کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلئے ہمارے طلبہ کیمپس میں کس طرح کی حکمت عملی اپنائیں ؟

Students should always take care of their responsibilities. Photo: INN
طلبہ کو ہمیشہ اپنی ذمہ داریوں کا خیال رکھنا ہے۔ تصویر:آئی این این

آیئے اس موضوع پر غور کرتے ہیں کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلئے ہمارے طلبہ کیمپس میں کس طرح کی حکمت عملی اپنائیں ؟ ہمیں علم ہے کہ موجودہ حالات میں ہمارے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں فرقہ پرست عناصر ٹیچنگ کے بجائے لنچنگ کو بڑھاوا دے رہے ہیں اور بائیلوجی کے بجائے ’گائے لوجی‘ پڑھانے پر مصر ہیں۔ وہاں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے محاذ پر ہم بھی نا کام ہورہے ہیں بلکہ اس ضمن میں وہ جو روایت چھوڑے جارہے ہیں وہ بھی نئی نسل کیلئے مضر ہے جب ہمارے چند بڑے جو شیلے و جذباتی رویہ اپناتے ہوئے فرقہ پرستوں کی بھٹّی کو ایندھن مہیا کرتے ہیں البتہ حسبِ معمول ہمیں زیادہ توقع ہے نئی نسل سے کہ وہ ہر معاملے میں درست اور غیر جذباتی رویہ اپنائیں گے۔ ایسے میں ہم کالجوں میں پڑھنے والے اپنے طلبہ سے کہنا چاہیں گے کہ ہمارے شعلہ بیان مقررین آپ کو کتنا ہی ورغلائیں ،لیکن آپ کیمپس میں بڑی حکمت سے کام لیں ۔ اس ضمن میں آپ کیلئے ہماری ہدایت یہ ہوں گی:
(۱) دین کے تعلق سے کوئی غیر مسلم طالب علم یا استاذ کتنی ہی اشتعال انگیز بات کرے آپ قطعی مشتعل نہ ہوں ( اور دل میں صرف یہ سوچیں کہ وہ ایسی بات اس لئے کر رہے ہیں کہ وہ نہیں جانتے کہ حق کیا ہے اور اس کی واقفیت نہ ہونے کی ایک وجہ میں خود ہوں کیونکہ اسے میں نے حقیقت نہیں بتائی ہے)۔ آج ہمارے نوجوانوں کو اشتعال دلانے کیلئے سوشل میڈیا کا پلیٹ فارم بڑی آسانی سے اور مفت میں استعمال ہو رہا ہے۔ شرپسندوں کومعلوم ہو چکا ہے کہ اگر سوشل میڈیا پر پیغمبرؐ اور صحابہ وغیرہ کی تضحیک کی جائے تو اس قوم کے کچھ لوگ اپنے نو جوانوں کو اُکسانے لگتے ہیں اور پھر ان نوجوانوں کی تباہی اور قید و بند کی صعوبتوں پر یہ سیاست داں اپنی سیاسی روٹیاں سینکتے ہیں ۔ ہم اپنے نو جوانوں کو یہ بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ خود قرآن سورۃ یاسین میں کہتا ہے کہ ’’ہر دور میں پیغمبروں کا مذاق اڑایا گیا ہے‘‘ لہٰذا یقین رکھئے کہ کارٹون وغیرہ سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا۔
 (۲) کالج میں کسی بھی غیر مسلم کے کسی بھی عقیدے پر حملہ نہ کریں ، فقرے نہ کسیں ، مذاق نہ اڑائیں کیوں کہ ایک بات طے ہے کہ ان جملہ کاموں کے باوجود بھی آپ کو کوئی کامیابی نہیں ملے گی اور کتاب مبین میں اللہ تعالیٰ کی اس سلسلے میں رہنمائی یہ ہے : پھر نادانی میں وہ آپ کے دین کا مذاق اڑائیں گے۔ 
 (۳) غیر مسلموں کے اسلام کے تعلق سے غلط فہمی پر مشتمل سوالات کی ایک فہرست تیار کر لیجئے۔بہ مشکل یہ۲۰؍ تا۲۵؍ سوالات ہی ہیں جو برسہا برس سے غیر مسلم ہم سے کرتے آرہے ہیں ۔ اور ایسا کوئی سوال جب وہ ہم سے کرتے ہیں تو دل ہی دل میں مطمئن ہو کر کہ’’ اے اللہ تو نے مجھے دعوت حق کا موقع دیا‘‘ یہ کہنے کے بجائے اس غیر مسلم کو اپنا دشمن سمجھنے لگتے ہیں اور گھر پر آ کر اپنے بڑوں سے ہم یہ شکایت کرتے ہیں کہ ہمارے کلاس کے طلبہ، اسلام پر حملہ کر رہے ہیں۔ 
 (۴) ہمارے طلبہ اسلام و دیگر مذاہب کی مشترکہ تعلیمات کا مطالعہ کریں ، یہ کرنے کیلئے انہیں انجینئرنگ یا میڈیسین کے کسی ایک مضمون کے لئے ایک چوتھائی تیاری کے لئے درکار وقت ہی لگے گا۔ یعنی کسی سرمایا گرما کی چھٹیوں کے صرف۱۵؍ دنوں میں یہ بنیادی مشترک با تیں آپ کو معلوم ہو سکتی ہیں۔ 
 (۵) اپنی کسی جوشیلی تقریر یا رنگین تحریر کے بجائے غیروں کو اپنے کردار عمل سے جیتنے کی کوشش کیجئے۔ کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ آپ کی تحریر یا تقریرکیسی ہے بلکہ یہ کہ آپ کا عمل کیسا ہے۔ 
تاریخ کا مطالعہ کیجئے: 
 پتہ نہیں کیوں ہمارےیہاں یہ عام خیال طلبہ (اور اساتذہ) میں رائج ہے کہ تاریخ تو صرف آرٹس کے طلبہ کا مضمون ہے اور اُنہیں ہی (پاس ہونے اور ڈِگری حاصل کرنے کیلئے) پڑھنا ہے۔ ہمارے معاشرے میں یہ کیوں نہیں سمجھا جاتا کہ تاریخ ہمارے تعلیمی نصاب کا صرف ایک مضمون نہیں ہے بلکہ ہر قوم کی سمت و لائحہ عمل کا تعین تاریخ ہی کرتی ہے اسلئے اپنی تاریخ سے بھرپور واقفیت ہمیں ہونی چاہئے۔ آج ہم اپنے پیغمبرؐ کی دُور اندیشی اور حکمت کے حوالوں سے کچھ بات کرنا چاہیں گے اسلئے بھی کہ ہماری اپنی تاریخ ہمارے تعلیمی نصاب سے غائب ہوچکی ہے نیزآج اس ملک کے سیاست دانوں کو ایک ’نایاب‘ نسخہ ہاتھ لگا ہے کہ یہاں فرقہ واریت کا زہر پھیلا کر بڑی آسانی سے الیکشن جیتے جاسکتے ہیں ۔ اس ماحول میں بھی ہم اپنے نوجوانوں سےیہ کہنا چاہیں گے کہ وہ (الف) ہر کسی کو اپنا دشمن نہ سمجھیں (ب) حکمت سے کام لیں (ج) دُور اندیشی کا مظاہرہ کریں کیوں کہ یہی درس ہمارے رسول ؐ نے ہمیں دیا ہے، ملاحظہ کیجئے:
 (۱) قدیم مکّہ میں جو ممتاز افراد تھے اُن میں ایک شخص کا نام سہیل بن عمر و تھا۔بعد میں اُن کا شمار صحابہ کی فہرست میں ہوا مگر اُ س سے پہلے وہ رسولؐ کے سخت دشمن تھے۔ وہ خطیب قریش بھی کہلاتے تھے، اپنی اس صلاحیت کو اُنھوںنے اسلام کے خلاف بھرپور طریقے سے استعمال کیا۔ البتہ جب وہ جنگِ بدر میں ایک قیدی کے طور پر آئے،تب ہمارے پیغمبرؐ نے غیر معمولی حسن سلوک کا مظاہرہ کیا اور اُنھیں چھوڑ دیا۔ اس بناء پر وہ نہ صرف دائرہ اسلام میں داخل ہوئے بلکہ اسلام کے ایک پکّے سپاہی بن گئے اور پھر اپنے فکر انگیز و پُر مغز خطبات سے اسلام کی تبلیغ میں لگ گئے۔
 (۲) دوسری مثال اسلامی سال ۱۰؍نبوی کی ہے جب آپؐ نے تبلیغ دین کیلئے مکّہ سے طائف کا سفرکیا تھا ۔ یہاں طائف کے سرداروں نے شہر کے شرارتی لڑکوں کو آپ پر پتھر برسانے کیلئے آپؐ کے پیچھے لگا دیا جس میں آپؐ کا جسم خوں آلود ہوگیا۔ اُسی وقت ملک الجبال (پہاڑوں کا فرشتہ) سامنے آیا اور آپؐ سے عرض کیا کہ آپ کہیں تو اُن دونوں پہاڑوں کو باہم ملاکر اُس کے درمیان طائف کی بستی کو پیس ڈالوں ۔ آپؐ نے یہ کہتے ہوئے منع فرمایا کہ ’’اللہ تعالیٰ اُن کی نسلوں سے وہ انسان پیدا کرے گا جو دین کے کام آئیں گے۔‘‘ تاریخ بتاتی ہے کہ فتح مکہ کے بعد کے دَور میں طائف کے تمام باشندے اسلام کے دائرے میں داخل ہوگئے۔اگر آپؐ طائف والوں کو گستاخی کی سزا دینے کیلئے ملک الجبال کا استعمال کرتے تو طائف آج صرف کھنڈروں کی داستان ہوتا نہ کہ اسلام کی شاندار تاریخ کی!
 (۳) ہم آخری مثال دینا چاہیں گے اُس شخص کی جس نے رسولؐ کی مخالفت میں سب سے بُرا کردار ادا کیا تھا۔اس کا نام ابوجہل ہے۔ اس کے بیٹے کا نام عکرمہ تھا جو بعد میں اصحابِ رسولؐ کی معزز فہرست میں شامل ہوئے مگر فتح مکہ سے پہلے وہ حضورؐ کے مخالف تھے اور اپنے باپ کے ساتھ تھے۔ گستاخی، جارحیت اور اہانت رسولؐ کی کوئی قسم نہ تھی جو اُنھوں نے آپؐ کے خلاف استعمال نہ کی ہو، البتہ فتح مکہ کے بعدوہ مکہ چھوڑ کر یمن چلے گئے کیوں کہ اُنھیں یقین تھا کہ وہ قتل کردیئے جاتے اور پھر جب اُن کی بیوی مسلمان ہوئیں تو اُنھوں نے بھی دینِ حق کا مطالعہ شروع کیا اور حضورؐ کے پاس آکر معافی و دعاطلب کی اور کہا ’’ اے رسولؐ اللہ ! خدا کی قسم ہر وہ شخص جو اللہ کی راہ میں رُکاوٹ ڈالنے کیلئے کیا کرتا تھا، اب میں اُس کا دگنا اللہ کی راہ میں خرچ کروں گا۔‘‘ چنانچہ عکرمہ اپنی جان و مال سے اللہ کی راہ میں لگ گئے یہاں تک کہ وہ شہید ہوگئے۔عکرمہ نے اہانت، گستاخی سے لے کر جارحیت تک ہر جرم حضورؐ کے خلاف کیا تھا۔ بظاہر وہ اس قابل تھے کہ اُنھیں قتل کردیا جائے مگر ہمارے پیغمبرؐ صرف اور صرف داعی تھے۔ آپؐ نے عکرمہ کے ’آج‘ میں ایک چھپا ہوا’کل‘ دیکھ لیا تھا۔ جس کے نتیجے میں جو شخص اپنی ابتدائی زندگی میں کُفرکا کھمبا بنا ہوا تھا وہ اپنی بعدکی زندگی میں اسلام کا ستون بن گیا۔
 ہم نے تاریخ کے کئی صفحات ہمارے طلبہ اور اساتذہ کے سامنے کھول کر رکھ دئیے ہیں ۔ تعلیمی کیمپس میں ان میں سے وہ کن کو اپنائیں گے؟ نفرت و لنچنگ کے اس ماحول میں بھی ہمارے نوجوانوں کو عمل اُنھیں تعلیمات پر کرنا ہے جو ہمارے آخری رسولؐ نے ہمیں سکھائی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK