Inquilab Logo Happiest Places to Work

۱۹؍ سالہ نوجوان کو مائیکروسافٹ میں ’سافٹ ویئر انجینئر‘ کی ملازمت

Updated: July 15, 2026, 1:27 PM IST | Mumbai

سوشل میڈیا پرآئی آئی ٹی چھوڑنے کی کہانی وائرل۔

Old photo of Ashish Kumar Verma. Photo: INN
آشیش کمار ورما کی پرانی تصویر۔ تصویر: آئی این این

ہمارے ملک میں آئی آئی ٹی میں داخلہ حاصل کرنا ایک بڑے خواب کی تعبیر سمجھا جاتا ہے۔ والدین اور طلبہ برسوں محنت کرتے ہیں تاکہ انہیں اس باوقار ادارے میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل سکے۔ لیکن ذرا تصور کریں کہ کسی کو آئی آئی ٹی دہلی میں داخلہ مل جائے اور وہ درمیان میں ہی تعلیم چھوڑ دے۔ بظاہر یہ فیصلہ حیران کن لگ سکتا ہے، لیکن۱۹؍ سالہ آشیش کمار ورما نے یہی راستہ اختیار کیا۔ آشیش نے ’لنکڈ اِن‘ پر ایک پوسٹ کے ذریعے اپنی کہانی شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے آئی آئی ٹی دہلی کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر معروف ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ میں سافٹ ویئر انجینئر کی ملازمت حاصل کر لی ہے۔

آشیش کی کہانی آج کے نوجوانوں اور طلبہ کے لئے  نہایت دلچسپ اور حوصلہ افزا ہے۔ان کے مطابق وہ بچپن ہی سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں کچھ منفرد کرنا چاہتے تھے۔ صرف ۱۸؍ سال کی عمر میں وہ دنیا کے کم عمر تر’گوگل ڈیولپر ایکسپرٹ‘ بن گئے۔ اس کے علاوہ انہوں نےجاپان کے ’ساکورا سائنس پروگرام‘ کے تحت مختلف تحقیقی منصوبوں پر کام کیا اور اپنے تیار کردہ ایک موبائل ایپ کا عملی مظاہرہ خود وزیراعظم مودی کے سامنے بھی کیا۔

یہ بھی پڑھئے: ’ریزیومے بوٹوکس‘ کیا ہے اور یہ اس وقت کیوں ٹرینڈنگ میں ہے؟

آشیش کے مطابق جب انہوں نے آئی آئی ٹی دہلی میں داخلہ لیا تو انہیں محسوس ہوا کہ وہاں کا روایتی تعلیمی نظام ان کی تخلیقی رفتار کو سست کر رہا ہے۔ وہ نظریاتی تعلیم (تھیوری) کے بجائے حقیقی دنیا کے مسائل کے حل کیلئے  نئی ٹیکنالوجی اور مصنوعات تیار کرنا چاہتے تھے۔ان کا ماننا ہے کہ آج انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے دور میں علم حاصل کرنے کیلئے صرف بڑی ڈگری ضروری نہیں رہی۔ اگر کسی کے پاس مضبوط مہارت (اسکل) اور بہترین پورٹ فولیو ہو تو بڑی کمپنیاں اسکی صلاحیتوں کو ضرور سراہتی ہیں۔آشیش نے بتایا کہ وہC# (سی شارپ) اور’ٹائپ اسکرپٹ‘ جیسی پروگرامنگ زبانیں تیار کرنے والے عالمی ماہرین سے براہِ راست سیکھنا چاہتے تھے، اسی لئے انہوں نے مائیکروسافٹ میں کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ان کے مطابق کمپنی انہیں نئے تجربات کرنے، اختراعی منصوبوں پر کام کرنے اور آزادانہ ماحول میں اپنی صلاحیتیں نکھارنے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔ سوشل میڈیا پر ان کی یہ کہانی تیزی سے مقبول ہو رہی ہے اور طلبہ اسے بے حد پسند کر رہے ہیں۔ آشیش نوجوانوں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ سسٹم یا حالات کو قصوروار ٹھہرانے کے بجائے اپنی مہارتوں کو بہتر بنائیں، نئی چیزیں تخلیق کریں اور اپنے کام سےاپنی صلاحیتوں کا ثبوت دیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK