Inquilab Logo Happiest Places to Work

’ریزیومے بوٹوکس‘ کیا ہے اور یہ اس وقت کیوں ٹرینڈنگ میں ہے؟

Updated: July 01, 2026, 3:00 PM IST | Kiran Yadav | Mumbai

ملازمت کے متلاشیوں کی بھیڑ میں’اپلیکنٹ ٹریکنگ سسٹم ‘میں اپنی عرضی کو نظرانداز ہونے سے بچانے کیلئے امیدوار اس کا سہارا لے رہے ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

فرض کیجئے کہ آپکے پاس اپنے پیشے میں۲۰؍ سالہ کام کا تجربہ ہے۔آپ کا ریزیومے دو دہائیوں کی کامیابی، ترقی، قائدانہ ذمہ داریوں اور محنت سے حاصل کیے گئے تجربے کی مکمل داستان بیان کرتا ہے۔ آپ نئی ملازمت کیلئے درخواستیں دینا شروع کرتے ہیںمگر جواب کہیں سے نہیں آتا۔ نہ انٹرویو کا بلاوا، نہ کسی ’رِیکروٹر‘کا فون، نہ کوئی ای میل۔ اسی دوران ایک اور امیدوار بھی تقریباً اتنے ہی تجربے کے ساتھ ملازمتوں کیلئے درخواست دیتا ہے۔ جلد ہی اسے ’انٹرویو کال ‘ملنے لگتے ہیں اور آخرکار وہی ملازمت حاصل کر لیتا ہے۔ آخر ایسا کیوں ہوا؟ 

ممکن ہے آپ کا ریزیومے کسی انسان کے دیکھنے سے پہلے ہی مسترد کر دیا گیا ہو۔یہ ہے اپلیکنٹ ٹریکنگ سسٹمز(اے ٹی ایس) کا دور، جہاں اے آئیاکثر یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کون سا ریزیومے بھرتی کرنے والے تک پہنچے گا اور کون سا ڈیجیٹل دنیا میں گم ہو جائے گا۔ اسی نئے نظامِ بھرتی میں پیشہ ور افراد ایک متنازع مگر بقا کی حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں، جسے ’ریزیومے بوٹوکس‘کہا جاتا ہے۔جیسے جیسے اے آئی پر مبنی’اپلیکنٹ ٹریکنگ سسٹمز‘ بھرتی کے عمل کے دربان بنتے جا رہے ہیں، بہت سے افراد خاموشی سے اپنے ریزیومے میں تبدیلیاں کر رہے ہیں۔ یہ رجحان اس بڑھتے ہوئے خدشے کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملازمتوں میں عمر کی بنیاد پر امتیازی رویہ اختیار کیا جا رہا ہے، جہاں کئی دہائیوں کا تجربہ فائدہ نہیں بلکہ نقصان بن جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’اے آئی‘ ۲۰۳۰ء تک ان سیکٹر میں روزگار کےبھرپور مواقع دے گا

آج کے روزگار کے بازار میں، جو تیزی سے الگورتھمز کے زیرِ اثر ہے، تجربہ اب صرف قابلیت کی علامت نہیں رہا بلکہ بعض افراد کیلئے ایک بوجھ بن چکا ہے۔ لوگ اپنی ملازمت کی کئی برسوں کی تاریخ کو صرف اسلئے حذف کر رہے ہیں تاکہ امیدواروں کی بھیڑ میں ان کا ریزیومے نظرانداز نہ ہو۔ ’’ریزیومے بوٹوکس‘‘ اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ آج کے دور میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے کاغذ پر خود کو نسبتاً کم عمر دکھانا ضروری سمجھا جا رہا ہے۔آپریشنز اینڈ کلائنٹ سروسنگ مینیجر پریکشا یادو کے مطابق:’’ریزیومے بوٹوکس سے مراد ریزیومے کو اس انداز میں بہتر اور مختصر بنانا ہے کہ وہ زیادہ مؤثر اور متعلقہ نظر آئے۔ ہندوستان میں بھی یہ رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔‘‘ عموماً امیدوار صرف گزشتہ۱۰؍سے۱۵؍ برس کا تجربہ نمایاں کرتے ہیں، جبکہ پوری ’ایمپلائمنٹ ہسٹری‘ شامل نہیں کرتے۔ تعلیمی سال حذف کر دیے جاتے ہیں، سینئر عہدوں کے نام خفی کیے جاتے ہیں اور پرانے سافٹ ویئر یا غیر متعلقہ سرٹیفکیٹس نکال دیے جاتے ہیں۔مختصراً، ریزیومے کو ایک نئی شکل دی جاتی ہے۔

ہندوستان میں اس رجحان کا فروغ: ریزیومے بوٹوکس صرف مغربی ممالک تک محدود ہے تو ایسا نہیں۔اِن کروٹر کے شریک بانی اور سی ای اوانیل اگروال کہتے ہیں:’’امریکہ میں تو یہ ہر جگہ ہو رہا ہے، اور اب ہندوستان میں بھی تیزی سے عام ہوتا جا رہا ہے۔ ہم ہر ماہ ہزاروں امیدواروں کے انٹرویو لیتے ہیں اور یہ رجحان مسلسل دیکھ رہے ہیں۔‘‘ اگرچہ یہ اصطلاح نئی ہے، لیکن اس کے پیچھے موجود رویہ نیا نہیں۔جیسے جیسے کمپنیاں’اے ٹی ایس‘ کا استعمال بڑھا رہی ہیں، امیدوار بھی اپنے تجربے، مہارتوں اور کریئر کو زیادہ سوچ سمجھ کر پیش کر رہے ہیں۔ہائر پرو کے چیف آپریٹنگ آفیسر پاسوپتی ایس کہتے ہیں:’’ امیدوار ہمیشہ سے مختلف ملازمتوں کے مطابق اپنے ریزیومے کو ڈھالتے آئے ہیں۔ اے ٹی ایس کے بڑھتے استعمال کے ساتھ اب وہ اپنی مہارت اور تجربے کو زیادہ مؤثر انداز میں پیش کر رہے ہیں۔ تاہم مقصد عمر یا تجربہ چھپانا نہیں بلکہ متعلقہ ملازمت کیلئے خود کو زیادہ موزوں ثابت کرنا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ’’مصنوعی ذہانت (اے آئی) روزگار کے نئے مواقع پیدا کررہی ہے‘‘

 اب ریزیومے مشینوں کیلئے لکھے جاتے ہیں:ریزیومے بوٹوکس کا رجحان اے آئی  پر مبنی بھرتی کے نظام سے جڑا ہوا ہے۔ آج اکثر ریزیومے کسی ’ریکروٹر‘ تک پہنچنے سے پہلے اے ٹی ایس کے ذریعے جانچے جاتے ہیں۔ یہ نظام ’کی ورڈز‘، فارمیٹ اور ملازمت سے متعلق مہارتوں کی بنیاد پر امیدواروں کو منتخب کرتے ہیں۔ اسی لیے اب لوگ صرف انسانوں کیلئے نہیں بلکہ مشینوں کیلئے بھی ریزیومے تیار کرتے ہیں۔ہر لفظ اہم ہوتا ہے، ہر سیکشن کو بہتر بنایا جاتا ہے اور ہر تاریخ بھی کبھی کبھی خطرہ بن جاتی ہے۔مونسٹرکی۲۰۲۶ء کی ’اسٹیٹ آف ریزیومیز رپورٹ‘ کے مطابق تقریباً۷۷؍ فیصد ملازمت کے خواہشمند افراد کو خدشہ ہے کہ ان کا ریزیومے کسی انسان تک پہنچنے سے پہلے ہی فلٹر ہو جاتا ہے۔یہ خوف خاص طور پر زیادہ عمر اور وسیع تجربہ رکھنے والے افراد میں زیادہ پایا جاتا ہے، کیونکہ انہیں اندیشہ ہوتا ہے کہ ان کے بارے میں زیادہ تنخواہ، کم لچک یا ثقافتی مطابقت نہ ہونے جیسے مفروضے قائم کر لیے جائیں گے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ جس تجربے کو حاصل کرنے میں لوگ دہائیاں صرف کرتے ہیں، آج اسی کو مختصر کر کے پیش کرنا پڑ رہا ہے۔

 حکمت عملی یا دھوکہ دہی :یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ریزیومے کو بہتر بنانا کہاں تک درست ہے اور کب یہ دھوکہ بن جاتا ہے؟ ماہرین کے مطابق تعلیمی تاریخیں حذف کرنا، پرانا غیر متعلقہ تجربہ مختصر کرنا یا صرف حالیہ کامیابیوں پر توجہ دینا جائز حکمت عملی ہے۔پاسوپتی کے بقول:’’ریزیومے کو بہتر انداز میں ترتیب دینا درست ہے، مگر اس میں غلط معلومات شامل کرنا ہرگز قابل قبول نہیں۔‘‘ البتہ عہدوں کے نام جھوٹے لکھنا، ملازمت کی مدت تبدیل کرنا یا جعلی قابلیت شامل کرنا واضح طور پر دھوکہ دہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایک سوال سے سیکوریٹی گارڈ کی زندگی میں انقلاب، ویڈیو ٹیم کا ’پروڈکشن لیڈر‘ بنا

 اصل مسئلہ ریزیومے یا نظام؟: ریزیومے بوٹوکس صرف ایک نیا فیشن نہیں بلکہ موجودہ ملازمت کے بازار میں بڑھتی بے چینی کی علامت ہے۔آج لوگ صرف اپنی صلاحیتوں اور تجربے کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس بات پر بھی مقابلہ کر رہے ہیں کہ وہ کاغذ پر کیسے نظر آتے ہیں۔ بیشتر امیدواروں کیلئے ریزیومے مختصر کرنا دکھاوے کی بات نہیں بلکہ بقا کی کوشش ہے تاکہ ان کی برسوں کی محنت کسی انٹرویو سے پہلے ہی ان کے خلاف نہ چلی جائے۔

youth Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK