بی ٹیک کے طالب علم کا کمال، مائیک اوراسپیکر سے لیس اسمارٹ ماسک بنایا

Updated: May 25, 2021, 5:05 PM IST

 کورونا وباء کے انفیکشن سے بچاؤ کیلئے ماسک پہننا بے حد ضروری اور لازمی ہے ۔ حالانکہ ڈاکٹرز سمیت کئی لوگوں کے لئے ہر وقت ماسک پہنے رہنا کافی مشکل کام ہے

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

 کورونا وباء کے انفیکشن سے بچاؤ کیلئے ماسک پہننا بے حد ضروری اور لازمی ہے ۔  حالانکہ ڈاکٹرز سمیت کئی لوگوں کے لئے ہر وقت ماسک پہنے رہنا کافی مشکل کام ہے۔خاص طور سے ایسے افراد کو جنہیں روزانہ درجنوں افراد سے مسلسل بات چیت کرنی ہے۔  ایسے افراد کے لئے کیرالا کے تھریسور انجینئرنگ کالج کے طالب علم نے انوکھا اسمارٹ  ماسک بنایا ہے۔ اس این ۹۵؍ ماسک کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں اسپیکر اور مائیک بھی نصب ہے ۔ یہ اختراعی  ماسک تھریسورگورنمنٹ انجینئرنگ کالج کے بی ٹیک کے سال اوّل کے طالب علم کیون جیکب  نے بنایا ہے۔ جیکب نے کہا کہ ’’میرے والدین ڈاکٹر ہیں اور وباء کے شروعاتی دنوں سے ہی انہیں ، اپنے مریضوں سے بات چیت کرنے میں دشواری ہورہی ہے۔ ملٹی لیئر ماسک اور فیس شیلڈ لگاکر مریض کو اپنی بات کہنا ان کے لئے مشکل کام تھا۔ یہ دیکھ کر میرے دماغ  میں  اسمارٹ ماسک بنانے کا خیال آیا۔ ‘‘ کیون جیکب نے اسمارٹ  ماسک کا پروٹو ٹائپ ماڈل بنایا اور اس کی آزمائش اپنے والدین سے ہی کروائی۔ کیون جیکب کے والدین ڈاکٹر سینوز کے سی اور ڈاکٹر جیوتی میری جونز نے یہ ماسک استعمال کیا اوراسے مفید پایا۔ کیون جیکب نے بتایا کہ اس ماسک کو ۳؍سے ۴؍ منٹ تک چارج کرنے پر اس کا مائیک اور اسپیکر چار سے ۵؍گھنٹے لگاتار کام کرسکتا ہے۔ اس ماسک میں مقناطیس  کا استعمال کرکے مائیک لگایا گیا ہے۔ جیکب نے یہ بھی بتایا کہ ’’ڈاکٹروں نے ماسک کے بارے میں اپنا فیڈ بیک بھی دیا ہے جو کافی ا چھا ہے ، ڈاکٹروں کو یہ ماسک لگانے پر مریضوں کی بات بالکل صاف سنائی دیتی ہے اور وہ جو کہتے ہیں مریض انہیں باآسانی سن لیتے ہیں۔ ‘‘ جیکب نے اس طرح کے کل ۵۰؍  سے زائد ماسک بنائے ہیں جن کا استعمال ان کے شہر کے بہت سارے ڈاکٹرز کررہے ہیں۔ جیک نے یہ بھی کہاکہ ان کے پاس ابھی اس ماسک کو بڑے پیمانے پر تیار کرنے کے وسائل نہیں ہیں اور اس کے لئےوہ کسی ایسی کمپنی کی تلاش میں ہیں جو اسے بڑے پیمانے پر تیار کرے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK