ایک سروے کے مطابق، صرف ۵۰ء۸؍ فیصد طالبات کے پاس ڈجیٹل ڈیوائسز دستیاب ہیں۔ صرف ۳۳ء۶؍ فیصد طالبات کو اپنی تعلیم جاری رکھنے کیلئے ڈجیٹل ڈیوائس تک رسائی حاصل ہے۔ لڑکیوں کو ڈجیٹل نظام تعلیم سے جوڑنے کیلئے ضروری ہے کہ ان کی متعلقہ ڈیوائسز تک رسائی کو آسان بنایا جائے
آج کل ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے اور اس کے بارے میں معلومات کاحصول لازمی ہوگیا ہے
پچھلے کچھ برسوں میں ہندوستان تیزی سے ترقی کی طرف گامزن ہوا ہے۔ ۲۱؍ ویں صدی کا ہندوستان ڈجیٹل طور پر لیس ہو گیا ہے۔ ٹیکنالوجی سے لے کر بینکنگ سیکٹر تک، تمام شعبوں میں یہ دنیا کا لیڈر بن کر ابھر رہا ہے۔ ملک کے تقریباً تمام بڑے شہروں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کر دیا گیا ہے۔ نئی نسل اس ٹیکنالوجی کا اہم حصہ بن چکی ہے۔ لیکن اس کے باوجود، ملک کے بیشتر علاقے ایسے ہیں جہاں نوجوان اس ٹیکنالوجی کے بنیادی علم یعنی ’’ڈجیٹل خواندگی‘‘ سے اب بھی دور ہے۔ ان میں بڑی تعداد نوعمر لڑکیوں کی ہے۔ آج بھی کچی بستیوں اور کچے گھروں میں رہنے والی بہت سی نوعمر لڑکیاں ہیں، خاص طور پر معاشی طور پر انتہائی کمزور خاندانوں سے، جو ٹیکنالوجی کے بنیادی علم سے ناواقف ہیں۔ انہیں جدید سطح پر ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ کورونا کے دور میں جب پورا ہندوستان لاک ڈاؤن کی زد میں تھا، اسکول بند کر کے آن لائن کلاسیز شروع کر دی گئیں اور بچے گھر بیٹھے موبائل پر آن لائن کلاسیز کے ذریعے تعلیم حاصل کرنے لگے۔ ایسے وقت میں ڈجیٹل خواندگی کی اہمیت بہت بڑھ گئی تھی۔ لیکن اس کا نقصان یہ ہوا کہ وہ لڑکیاں جو معاشی طور پر کمزور گھرانوں سے تعلق رکھتی تھیں، جنہوں نے کبھی اینڈرائیڈ موبائل استعمال نہیں کیا، انہیں اس عرصے میں سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ڈجیٹل خواندگی ہماری روزمرہ کی زندگی میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ آگے بڑھنا اور ترقی کرنا بہت ضروری ہے۔ اس کا علم نوجوانوں اور نوعمر لڑکیوں کو بااختیار بناتا ہے۔ یہ انہیں کسی پر انحصار کرنے سے روکتا ہے۔ خاص طور پر اس سے نوعمر لڑکیوں میں خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے اور ساتھ ہی وہ خود کو خود کفیل محسوس کرتی ہیں۔ آج کے دور میں ڈجیٹل سے متعلق تمام کام نوعمر لڑکیاں خود کر سکتی ہیں۔ اگر کوئی لڑکی ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا جانتی ہے تو وہ داخلہ فارم بھرنے سے لے کر آن لائن رقم کی نقل و حرکت تک تمام کام خود کر سکتی ہے۔ ڈجیٹل خواندگی اسے محفوظ اور بااختیار محسوس کراتی ہے۔ معاملہ صرف شہری علاقوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ دیہی علاقوں میں بھی ڈجیٹل خواندگی بہت اہمیت کی حامل ہے۔ اگر ہم دیہی علاقوں کی بات کریں، چاہے وہ زراعت سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی ہو یا حکومت کی کسی اسکیم کی معلومات حاصل کرنے کیلئے، ہر سطح پر انٹرنیٹ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ حکومت کی طرف سے ۲۰۱۶ء سے ڈجیٹل خواندگی مہم بھی چلائی گئی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان ذرائع کو استعمال کرنا سیکھ سکیں اور دیہی علاقوں میں بھی اس کا استعمال بڑھایا جا سکے۔ انٹرنیٹ اور کمپیوٹر نوعمر لڑکیوں کیلئے بہت اہم ذریعہ ہیں، جو نہ صرف ان کی پڑھائی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ ان کی بہتر ملازمتوں کے مواقع بھی بڑھاتے ہیں۔ ان تکنیکی آلات کے کئی فائدے ہیں جو نوعمر لڑکیوں کے بہتر مستقبل میں مدد کرتے ہیں اور دیہی زندگی کی جدوجہد سے نمٹنا ان کیلئے آسان بناتے ہیں۔ ہندوستان کی نوجوان آبادی کو اس قدر ڈجیٹل طور پر خواندہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ موبائل فون، کمپیوٹر وغیرہ جیسے ڈجیٹل آلات پر کسی بھی معلومات کیلئے انٹرنیٹ پر تلاش کر سکیں اور ای میل بھیجنے اور وصول کرنے کے قابل ہو جائیں کیونکہ اب اس سے انکار نہیں کیا جا سکتاکہ ڈجیٹل تعلیم ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہے اور اسکول بھی اسے پڑھانے اور فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اسکولوں میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی دستیابی بھی ہو۔
ہمارا معاشرہ لڑکوں کے مقابلے لڑکیوں کو کم اہمیت دیتا ہے۔ معاشرے کی یہ تنگ نظری کئی بار اس وقت سامنے آتی ہے جب لڑکیوں کو لڑکوں کے مقابلے میں کم سمجھا جاتا ہے چاہے گھر میں ہو یا باہر جبکہ کئی فورم پر لڑکیوں نے خود کو لڑکوں سے بہتر ثابت کیا ہے۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے لڑکیوں میں ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انہیں ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنے کیلئے بہت سی اسکیمیں چلائی جارہی ہیں، دوسری جانب مختلف سماجی تنظیمیں بھی ان کی حوصلہ افزائی کیلئے کوشش کر رہی ہیں۔
پروتساہن انڈیا فاؤنڈیشن کے ذریعہ ۲۰۲۱ء میں ۶۴؍ کچی آبادی والے علاقوں میں کرائے گئے ایک سروے کے دوران یہ اعداد و شمار سامنے آئے ہیں کہ صرف ۵۰ء۸؍ فیصد طالبات کے پاس ڈجیٹل ڈیوائسز دستیاب ہیں۔ صرف ۳۳ء۶؍ فیصد طالبات کو اپنی تعلیم جاری رکھنے کیلئے ڈجیٹل ڈیوائس تک رسائی حاصل ہے۔ بقیہ ۱۵ء۷؍ فیصد طالبات کو اپنا کام مکمل کرنے کیلئے ڈجیٹل آلات تک مشکل سے ہی رسائی حاصل ہوتی ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اس ڈجیٹل دور میں نوعمر لڑکیاں ابھی بھی ڈجیٹل خواندگی سے بہت دور ہیں۔ اس خلا کو پر کرنے کیلئے یہ بہت ضروری ہے کہ ان کی ڈجیٹل ڈیوائسز تک رسائی کو آسان بنایا جائے۔
(چرخہ فیچر)