شعبہ طب میں کریئرکے متمنی طلبہ کیلئے بارہویں بعدنان کلینکل کورسیزکے۵؍عمدہ متبادل

Updated: May 20, 2021, 2:20 PM IST | Aamir Ansari | Mumbai

بارہویں مکمل کرنے کے بعد امیدواروں کو این ای ای ٹی ( نیٖٹ ) کی بنیاد پر ان پانچوں اہم میڈیکل کورسیز میں داخلہ ملے گا،بالخصوص ایسے طلبہ کیلئے بہترین متبادل ہیں جن کا داخلہ ایم بی بی ایس ،بی یو ایم ایس وغیرہ میں نہیں ہوپاتا

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

سائنس اسٹریم کے ایسے طلبہ جو شعبہ طب میں کریئر کے متمنی ہوتےہیں اگر ان کا داخلہ ایم بی بی ایس ، بی ڈی ایس ، بی یو ایم ایس ، بی ایچ ایم ایس  اور بی اے ایم ایس میں نہ ہو تو وہ مایوس ہوجاتے ہیں۔ ایسے طلبہ کیلئے ہم ۵؍نان کلینکل کورسیز کی معلومات فراہم کررہے ہیں جو ان کے لئے شعبہ طب میں کریئرکے بہترین متبادل بن سکتے ہیں۔ نیٹ کی بنیاد پر ان  پانچوں کورسیز میں داخلہ ممکن ہے،یہ کورسیز کافی اہم ہیں لیکن طلبا عام طورسے ان کورسیز میں جانا پسند نہیں کرتے ، اس کی ایک وجہ ان کورسیز کی اہمیت اور معلومات میں کمی ہے ۔ ان کورسیزکے  نام ہیں : (۱) بیچلر آف فزیوتھیراپسٹ(۲)  بیچلر آف آکیوپیشنل تھیراپی(۳) بیچلر آف آرتھوٹکس اینڈ پروستھیٹک (۴)  بیچلر آف آڈیو اسپیچ اینڈ لینگویج پیتھولوجی (۵)  بیچلر آف نرسنگ۔ خیال رہے کہ ان پانچوں پیرا میڈیکل کورسیز کی زبردست مانگ ہے ۔ ان کورسیز کی تھوڑی تفصیلات جاننے کی کوشش کریں۔
 بیچلر آف فزیوتھراپسٹ
 بارہویں بعد ساڑھے ۴؍ سال پر مشتمل کورس ہے۔ مزید ایک سال انٹرن شِپ۔  اس فیلڈ کے ماہرین کسی بیماری ، چوٹ، حادثے ،زیادہ عمر  یا دیگر کسی عوامل کی وجہ سے جسمانی  معذوری سے متاثرین کا علاج کرتے ہیں۔ان کا کام ان مریضوں کے مرض کی تشخیص کرنا اور ان کا مناسب علا ج کر  نا تاکہ مریض دوبارہ اپنے جسمانی اعضا ء کو مضبوطی سے پھُرتی سے حرکت میں لاسکیں۔جسمانی پٹھوں کی مختلف مشق کے ذریعے حرکت کو درست کرنا، چونکہ یہ بغیر دوا کے علاج کرتے ہیں اسلئے  دواؤں کے غیر ضروری اثرات سے مریض محفوظ رہتے ہیں۔اس شعبے میں مسلسل ریسرچ جاری ہے اسلئے  اس میں کئی مختلف ضمنی شعبے ہو چکے ہیں۔جن میں عمر دراز افراد  کے لیے علاج کرنے والے اسپیشلسٹ، کھیل کود کے میدان میں کھلاڑیوں کیلئے مخصوص ماہرین، کینسر کے امراض میں مبتلا افراد کیلئے  ماہرین، روبوٹکس  فزیوتھراپسٹ ، ٹیکنالوجی میں جدید ترقی کی وجہ سے ایسے روبوٹکس بنائے جارہے ہیں جو  مختلف آلات کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں ان کی حرکات و سکنات کیلئے  بھی ان ماہرین کی شدید ضرورت ہے۔ان ماہرین کو شروعاتی معاوضہ ۱۰- ۳۰؍ ہزار ماہانہ ملتا ہے بہت سے ماہرین  نجی پریکٹس بھی کرتے  ہیں۔ 
کورس کیلئے  اہلیت اور کہاں سے کیا جاسکتا ہے؟:   بارہویں سائنس پی سی بی انگریزی ،  نیٹ میں شرکت ضروری  ہے۔ ِ مہاراشٹر میں فزیوتھیراپی کے چا ر گورنمنٹ کالجز ہیںسائن ممبئی ، کے ای ایم ممبئی ، نائر ممبئی اور ناگپور گورنمنٹ میڈیکل کالج، جن میں ایک سال کی فیس۳۵۷۰۰روپے ہوتی ہےجبکہ سالانہ ڈیولپمنٹ فیس ۳؍ ہزار زائد لی جاتی ہے۔  نیٖٹ  مارکس کا کٹ آف۴۰۰ سے ۴۵۰تک ہوسکتا ہے ۔ پرائیویٹ کالجز کی تعداد ریاست میں ۴۳سے زائدہیں۔ جن میں فیس ڈیڑھ تا ۳؍ لاکھ ہے کٹ آف مارکس نیٹ کا ۲۵۰ ؍تک ہوتا ہے۔
 بیچلر آف آکیوپیشنل تھیراپی
   بارہویں بعد  ساڑھے ۴؍ سالہ دورانیہ کا کورس ہے۔ مزید ایک سال انٹرن شِپ۔ اس کورس کے ماہرین بھی بغیر دوا  کاؤنسلنگ تھیراپی کے ذریعے  زخمی ، معذور، بیمار یا روزمرہ کی زندگی میں کسی طرح سے دوسروں سے پیچھے رہ جانے والے افراد کا علاج کرتے ہیں ۔ ان مریضوں کی ترقی کو  و بحالی،ان کی نارمل زندگی میں واپسی نیز روزمرہ کی زندگی میں کام کرنے کیلئے  ضروری مہارتوں کو برقرار رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔ تعلیمی شعبے میں بھی عام طلبہ سے  پیچھے رہ جانے والے طلبہ کی شناخت کرنا ،  مختلف نفسیاتی ٹیسٹ اور جسمانی جانچ کے ذریعے ان کے حســـی اعضاء کو فعال بنانا ان کا کام ہے۔ اب تو تعلیمی اداروں میں آکیوپیشنل تھراپسٹ کا تقرر کیا جاتا ہے تاکہ ان طلبہ کی ترقی کیلئے  راہیں آسان ہوں ۔اس فیلڈ میں بھی مسلسل ریسرچ کے نتیجے میںمخصوص  اسپیشلائزیشن کا اضافہ ہو چکا ہے۔ عمر دراز افرادکیلئے علاحدہ ماہرین،  نفسیاتی امراض کے شکار کیلئے  مخصوص ماہرین، بچوں کے ہمہ گیر ترقی کیلئے  کام کرنے والے، جسمانی اعتبار سے معذور افراد کے لئے  مخصوص ماہرین، مختلف حرکی آلات و مشینوں کو چلانے کیلئے  پیشہ ور افراد کی تربیت کیلئے  اسی طرح مزید ضمنی شعبے اس میں موجودہیں۔
کورس کیلئے  اہلیت اور کہاں سے کیا جاسکتا ہے؟: بارہویں سائنس پی سی بی انگریزی ،  نیٹ میں شرکت ضروری ہے۔  ریاستِ مہاراشٹر میں بیچلر آف آکیوپیشنل تھراپی کے چار کالجز ہیں ۔ کے ای ایم پریل ،ممبئی ، نائر ہاسپٹل ممبئی ، سائن ہاسپٹل ممبئی اور ناگپور گورنمنٹ ہاسپٹل ناگپور۔ کل ۹۰ ؍نشستیں گورنمنٹ کالج میں موجود ہیں اس شعبے کی ماہرین کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے بھی ان کی بہت زیادہ مانگ ہے۔ ایک سال کی فیس۳۵۷۰۰روپے ہوتی ہےجبکہ سالانہ ڈیولپمنٹ فیس ۳؍ ہزار زائد لی جاتی ہے۔
 بیچلر آف پروستھیٹکس اینڈ آرتھوٹکس
 اس کورس کے ماہرین معذور افراد کیلئے  مصنوعی ہاتھ اور پیر بناتے ہیں ۔ آپ نے معذوروں کا اولمپک ضرور دیکھا ہوگا اس میں مختلف کھلاڑی جن کی معذوری کے متبادل مخصوص آلات لگائے جاتے ہیں ۔ہمارے ملک میںمردم شماری کے اعداد شمار کے مطابق ۲۰۱۱ میں ڈھائی کروڑ سے زیادہ افراد امختلف قسم کی معذوری کا شکار ہیں ، ان افراد میں ہاتھ اور پیر سے معذور افراد کا فیصد سب سے زیادہ ہے۔ ان معذور افراد کیلئے  مختلف  اور مخصوص نوعیت کے مصنوعی  آلات تیار کرنے والے ماہرین اس کورس کے ذریعے اپنے آپ کو تیار کرتے ہیں، ان افراد کی اپنے کام مہارت کی بنیاد پرصرف شروعاتی معاوضہ ۵۰؍ ہزار سے زائد کا ہوتا ہے۔ بعد میں اپنے تجربے اور مہارت کی بنیاد پر اس میں کئی گنا اضافہ ہوسکتا ہے۔
کورس کیلئے  اہلیت اور کہاں سے کیا جاسکتا ہے؟:  بارہویں بعد ۴؍ سال پر مشتمل کورس ہے۔ جس کیلئے مہاراشٹر میں صرف ایک ہی گورنمنٹ کا ادارہ  ہے مہالکشمی حاجی علی درگاہ کے نزد میں واقع ادارہ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل میڈیسن اینڈ ریہیبلیٹیشن موجود ہے ،  نشستوں کی تعداد بھی صرف ۱۵؍ہی ہے۔باقی پندرہ نشستوں کے لیے انسٹی ٹیوٹ لیول پر امتحان لیا جاتا ہے۔کورس کی ایک سال کی فیس۳۵۷۰۰روپے ہوتی ہےجبکہ سالانہ ڈیولپمنٹ فیس تین ہزار زائد لی جاتی ہے۔ بارہویں میں پی سی بی یا پی سی ایم ہونا ضروری ہے ۔ نیٹ کے مارکس ضروری ہیں۔
 بیچلر آف آڈیو اسپیچ اینڈ لینگویج پیتھولوجی
  بارہویں بعد تین سال پر مشتمل کورس ہے۔  جن اشخاص کو بولنے اور سُننے میں پیدائشی طور سے تکلیف ہوتی ہے یا کسی حادثے کی وجہ سے وہ اس اہم حسی عضو کا استعمال نہیں کر پاتے ان افرد اور مریضوں کے علاج کیلئے  اس شعبے کے ماہرین کام کرتے ہیں ، ۲۰۱۱ ءکی  مردم شماری کے اعداد وشمار کے مطابق مہاراشٹر ریاست میں اس وقت ۷۳ء۴ لاکھ قوت سماعت  سے معذور جبکہ ۷۶ء۴ لاکھ بولنے سے معذور تھے ، اتنی بڑی تعداد میں جو افراد موجود ہوں ان کے علاج کرنے والے ماہرین کی تعداد کتنی ہونی چاہئے؟ ان کے علاوہ کچھ مخصوص آواز نہ سُن پانا اسی طرح کچھ مخصوص الفاظ نہ بول پانا نیز اس طرح کے مرض میں مبتلا افراد جن میں  بچے ، جوان اور بوڑھے سبھی شامل ہیں ان ماہرین کی زبردست مانگ ہے۔ اس شعبے کے ماہرین مختلف آلات سے پہلے مریض کی مرض کا پتہ لگاتے ہیں اس کی معذوری کا فیصد اور اس کیلئے  علاج کے لیے مختلف طریقوں اور تھیراپیز پر کام کرتے ہیں ۔ اس طرح کے ماہرین کی اسپتالوں کے علاوہ تعلیمی اداروں میں بھی مانگ ہے۔ اسپیشل اسکولوں میں ان ماہرین کی خدمات لی جاتی ہیں۔اس شعبے کے ماہرین کی بھی شروعاتی تنخواہ ۴۰؍ تا ۵۰؍ ہزار تک ہوتی ہے۔
کورس کیلئے  اہلیت اور کہاں سے کیا جاسکتا ہے؟: گورنمنٹ کالج میں فیس ۳۵۷۰۰ ہے۔نائر ہاسپٹل ممبئی اور علی یاور جنگ نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار دی ہیئرنگ ہینڈی کیپ ، ماہم ممبئی سے یہ کورس کیا جاسکتا ہے۔ بارہویں کامیاب نیٹ کے مارکس ضروری ہے۔
(۵)  بی ایس سی نرسنگ
  اس کورس کے متعلق بھی بہت سی غلط فہمیاں عام ہیں ۔ اسے عا م طور سے خواتین کیلئے مخصوص کر دیا گیا ہے۔ اس شعبے میں مرد بھی شامل ہیں ، ملک اور بیرون ملک میں تربیت یافتہ ماہر نرس ( خواتین یا مرد) کی زبردست مانگ ہے، کسی بھی ہیلتھ کئیر یونٹ کا تصور نرس کے بغیر ممکن نہیں۔ اس شعبے کے ماہرین میں بھی فریشرز کیلئے  اچھی تنخواہ موجود ہے، اپنے خود کے تجربے اور مخصوص شعبے کی مہارت اس شعبے کے ماہرین کو بہت زیادہ ترقی دلا سکتی ہے۔ جتنا اسپیشلائزیشن میڈیکل فیلڈ میں ہے ایم ڈی اور ایم ایس کئے ہوئے ماہر ڈاکٹرس اسی طرح مختلف شعبے کی نرسیس میں بھی اسپیسلائزیشن ہوچکا ہے۔ اس شعبے  میں ذاتی تجربے کے بعد نرسیز  نجی پریکٹس بھی کرتے ہیں نیز بڑی بڑی کمپنیز اور اداروں کے ہیلتھ کئیر یونٹس میں ان کا تقرر ہوتا ہے۔انگریزی  بول چال میں مہارت اس شعبے کے ماہرین کیلئے  اضافی فائدہ دے سکتی ہے۔ بیرون ملک خاص طور سے یورپین ممالک میں ان نرسیز کی زبردست ڈیمانڈ ہے، بیرون ملک کے وزے مع فیملی کے دستیاب ہو جاتا ہے۔ 
کورس کیلئے  اہلیت اور کہاں سے کیا جاسکتا ہے؟:بارہویں بعد چار سال پر مشتمل کورس: نیٹ کے اسکور سے ساتھ بارہویں جماعت میں کم از کم مارکس فزکس کیمسٹری اور بایولوجی میں ۴۵ ؍فیصد ہونا لازمی ہے۔  مہاراشٹر میں اس شعبے کے کورس کیلئے چار گورنمنٹ کالجز ہیں: جے جے کالج ممبئی ، گورنمنٹ میڈیکل کالج پونے، گورنمنٹ میڈیکل کالج اورنگ آباد اور گورنمنٹ میڈیکل کالج ناگپور۔ان چاروں کالجز میں ۵۰ ، ۵۰ نشستیں موجود ہیں اس طرح کل ۲۰۰ سیٹ گورنمنٹ میڈیکل کالج میں موجود ہیں۔جبکہ ۹۰ ؍سے زائد نجی ادارے ہیں ۔ گورنمنٹ میدیکل کالج میں فیس صرف ۱۴۳۰۰ روپے سالانہ ہے جبکہ پرائیویٹ میڈیکل کالج میں یہ فیس ایک لاکھ روپے سالانہ تک ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK