Inquilab Logo Happiest Places to Work

اے آئی ایجنٹ ”ڈوبی“ موبائل فونز کی دنیا میں انقلاب کا پیش خیمہ؛ روایتی ایپس کی جگہ لے سکتا ہے

Updated: April 04, 2026, 4:02 PM IST | Washington

”ڈوبی“ ایک اسمارٹ ڈجیٹل اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتا ہے اور آواز یا ٹیکسٹ کمانڈز کے ذریعے مختلف آلات اور سروسیز پر کام کرنے اور انہیں سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مختلف ایپس کو کھولنے اور کام کرنے کی بجائے، صارفین ڈوبی کو صرف ایک ہدایت دے کر اپنا کام کروا سکتے ہیں۔

Andrej Karpathy. Photo: X
آندرے کرپیتھی۔ تصویر: ایکس

مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ایک نیا ایجنٹ ”ڈوبی“ اسمارٹ فونز کی روایتی ایپلی کیشنز کی جگہ لینے اور صارفین کے ڈجیٹل آلات استعمال کرنے کے طریقے کو تبدیل کرنے کی اپنی صلاحیت کی وجہ سے توجہ حاصل کررہا ہے۔ مشہور اے آئی چیٹ بوٹ، چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) کی مالک کمپنی اوپن اے آئی (OpenAI) کے شریک بانی آندرے کرپیتھی کے ذریعے تیار کردہ، ڈوبی ایک جدید اور اسمارٹ ڈجیٹل اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتا ہے جو آواز یا ٹیکسٹ کمانڈز کے ذریعے مختلف آلات اور سروسیز پر کام کرنے اور انہیں سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مختلف ایپس کو کھولنے اور کام کرنے کی بجائے، صارفین ڈوبی کو صرف ایک ہدایت دے کر اپنا کام کروا سکتے ہیں۔ یہ اے آئی ایجنٹ بغیر کسی رکاوٹ کے پورے کام کو انجام دے سکتا ہے۔

کرپیتھی نے ’اوپن کلا اے آئی‘ (OpenClaw AI) فریم ورک کا استعمال کرتے ہوئے اس سسٹم کا مظاہرہ کیا، جس میں ڈوبی نے نیٹ ورک پر موجود آلات کو خودکار طور پر تلاش کرنے اور ان سے منسلک ہونے کے قابل تھا۔ یہ طریقہ کار ایپلی کیشنز کے درمیان سوئچ کرنے کی ضرورت کو کم کرتا ہے، جس سے صارف کو زیادہ آسان اور موثر تجربہ ملتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی جین زی اے آئی کی بڑھتی طاقت کے تئیں فکر مند، روزگار کے مواقع میں ممکنہ تعطل پر تشویش: سروے

ایپس پر مبنی سسٹمز کی جگہ لینے کی صلاحیت

یہ پیش رفت، مستقبل میں سافٹ ویئر کے کام کرنے کے طریقے میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔ فی الحال، موجودہ اسمارٹ فونز مخصوص افعال جیسے میسجنگ، شاپنگ یا ڈیوائس کنٹرول کیلئے انفرادی ایپس پر انحصار کرتے ہیں۔ ڈوبی جیسے اے آئی ایجنٹس ان تمام کرداروں کو واحد انٹرفیس میں یکجا کرسکتے ہیں۔

ایسے نظام میں، ایپلی کیشنز پسِ منظر (background) میں موجود رہ سکتی ہیں، لیکن صارفین اب انہیں براہِ راست استعمال نہیں کریں گے۔ اس کے بجائے، ایک مرکزی اے آئی اسسٹنٹ تمام کاموں کو سنبھالے گا اور ان ایپس کا استعمال کرکے صارف کا کام انجام دے گا۔ یہ پیش رفت ان کمپنیوں کیلئے اہم ثابت ہوسکتی ہے جو ایپ پر مبنی ایکوسسٹم، ایپ اسٹورز اور سافٹ ویئر پلیٹ فارمز پر انحصار کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: چیٹ جی پی ٹی ۲۰۲۶ء میں پرسنل سپر اسسٹنٹ بن جائے گا: اوپن اے آئی کی فِدجی سیمو کا بیان

’ایجنٹک اے آئی‘ (Agentic AI) کا عروج

ڈوبی جیسے ٹولز کا ظہور ”لارج لینگویج ماڈلز“ (LLMs) میں تیز رفتار ترقی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ سسٹمز تیز رفتاری کے ساتھ پیچیدہ ہدایات کو سمجھنے، فیصلے کرنے اور خود مختار طور پر کام انجام دینے کے قابل بنتے جارہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کی یہ کیٹیگری، جسے اکثر ”ایجنٹک اے آئی“ کہا جاتا ہے، غیرفعال اسسٹنٹس (passive assistants) سے فعال سسٹمز (active systems) کی طرف منتقلی کی نمائندگی کرتی ہے جو صارفین کی ایما پر اقدامات کرسکتے ہیں۔ کرپیتھی نے اسے سافٹ ویئر کے ارتقاء میں اہم موڑ قرار دیا ہے۔

ڈوبی اب بھی تجرباتی مراحل میں ہے۔ پہلے پہل اس کو سیٹ اپ کرنے کا عمل پیچیدہ ہوسکتا ہے اور کارکردگی ابھی تک مستقل طور پر قابلِ اعتماد نہیں ہے۔ تاہم، امید کی جاتی ہے کہ مستقبل قریب میں اے آئی ٹیکنالوجی میں بہتری کے ساتھ ان کمزوریوں کو بھی دور کرلیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK