آٹو رکشا ڈرائیورکےبیٹےکاآئی آئی ایم احمد آبادمیں تعلیم حاصل کرنےکا خواب پورا

Updated: May 16, 2022, 12:55 PM IST | Indian Express | Mumbai

تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے لکشمی کانت ریڈی نےمالی کمزوری کو امتیازی نمبرات سے پورا کیا اوراسکالرشپ حاصل کرکےجونیئر کالج سے ڈگری تک کی تعلیم مکمل کی

Lakshmi Kant Reddy is very happy to be admitted.Picture:INN
لکشمی کانت ریڈی داخلہ پاکر بے حد خوش ہیں۔ تصویر: آئی این این

 جب لکشمی کانت ریڈی کے والد بچوں کو اپنی آٹورکشا سے کانوینٹ اسکول چھوڑتے تھے تو وہ یہ خواب دیکھتے تھے کہ ایک دن ان کا بیٹا بھی اسی طرح کانوینٹ سے تعلیم حاصل کرکے کارپوریٹ ورلڈ میں اپنا مقام بنائے گا۔  ہوا بھی کچھ ایسا ہی ،  لکشمی کانت ریڈی نے نہ صرف  کانوینٹ سے تعلیم حاصل کی بلکہ اب آئی آئی ایم احمد آباد سے تعلیم حاصل کرنے کا خواب بھی پورا ہوگیا ہے۔
  لکشمی کانت نے پی جی پی ایکس کورس میں داخلہ لیا ہے اور پڑھائی کی شروعات بھی ہوچکی ہے۔ ۲۷؍ سالہ لکشمی کانت  کہتے ہیں کہ ’’مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب ’بیسٹ میریٹوریئس اسٹوڈنٹ ایوارڈ‘ کےلئے میرا نام پکارا گیا ، میں اپنے پتاجی (والد) کو زبردستی اسٹیج پر لے گیا اور ان کے ساتھ اپنا یہ ایوارڈ وصول کیا۔ کیونکہ یہ بڑا ہی خاص موقع تھا، اسی اسکول میں وہ دوسرے بچوں کو اسکول لاتے تھے، جہاں ان کے بیٹے نے نام روشن کیا۔‘‘ ریڈی  کا عزم ہے کہ ایک بار جب وہ آئی آئی ایم احمد آباد سے گریجویٹ ہوجائیں گے اور پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز ہوگا تو وہ سب سے پہلے اپنے والدین کے لئے ذاتی مکان خریدیں گے۔ لکشمی کانت تلنگانہ ریاست کے گوداوری کھانی کا رہنے والا ہے، اس کا تعلق ایک کسان گھرانے سے ہے۔ لیکن کاشتکاری میں غیریقینی حالات کے سبب اس کے والد نے یہ کام چھوڑدیا اور آٹو رکشا چلانے لگے۔ کئی برسوں تک اسی کے ذریعہ انہوں نے اپنے اہل خانہ کی کفالت کی ۔ کچھ سال پہلے فالج کے حملے کے سبب انہیں یہ کام چھوڑنا پڑا۔ اپنی تعلیمی جدوجہد کے متعلق لکشمی نے بتایا کہ ’’میں نے آٹھویں جماعت تک تیلگو میڈیم سے تعلیم حاصل کی ۔ پھر پتاجی نے کسی طرح پیسے جٹاکر میرا داخلہ کانوینٹ اسکول میں کرایا۔ میں نے خوب دل لگاکر پڑھائی کی اور جونیئر کالج (سائنس)  میں  بہتر ین کارکردگی پیش کی۔ اس  بنیاد پر مجھے سرینیدھی انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں اسکالر شپ مل گئی اور میں نے یہاں سے ۲۰۱۶ء میں میکانیکل انجینئرنگ میں  بی ٹیک مکمل کیا۔ یہ بڑا ہی آزمائشوں بھرا وقت تھا۔  پتاجی فالج کے سبب بستر سے لگ گئے ۔ ایسے حالات میں لکشمی کانت نے بچوں کو ٹیوشن پڑھانا شروع کیا تاکہ کچھ آمدنی ہوجائے، اس کے ساتھ ساتھ کچھ لوگوں سے مالی مدد لی تاکہ اپنا تعلیمی سفر جاری رہے۔ اسے اپنے گھر سے کالج کے لئے روزانہ ۲۸؍ کلومیٹر کا فاصلہ بذریعہ بس طے کرنا پڑتا تھا۔۲۰۱۹ء میں لکشمی کانت نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر اسٹارٹ اپ کمپنی شروع کی لیکن اسی درمیان کووڈ کی وباء آگئی۔ ‘‘  لکشمی کانت ریڈی نے آگے بتایا کہ ’’میں نے پھر مینجمنٹ ڈگری کا ارادہ کیا، ۲۰۲۰ء سے میں نے محنت شرو ع کی اور ۲۰۲۱ء میں سی اے ٹی کامیاب کیا۔ جس کی بنیاد پر میرا داخلہ آئی آئی ایم احمد آباد میں ہوگیا ہے ۔ یہاں پڑھنا ہمیشہ سے میرا خواب تھا۔ ‘‘ لکشمی کانت کے مطابق  ۲۰۲۳ء میں اس کا پی جی پی ایس کور س مکمل ہوجائے گا۔اس کے بعد وہ ملازمت کرے گا اور سب سے پہلے اپنے والدین کیلئے  ایک گھر خریدے گا جنہوں نے اس کیلئے خوب محنت و جدوجہد کی ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK