• Thu, 29 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

کیا چیٹ جی پی ٹی واقعی انسانی ذہانت پر سبقت لیجاسکتا ہے؟

Updated: May 11, 2023, 10:51 AM IST | Washington|New delhi

اے آئی بوٹ چیٹ جی پی ٹی شاعری کر رہا ہے، اسکرپٹ لکھ رہا ہے،مقدمات تیار کررہا ہے، اے آئی نیوز اینکر بھی بن چکے ہیں اور حیرت انگیز ہےکہ یہ صرف آغاز ہے!

AI Anchor `Sana` which was introduced by Channel Aaj Tak last month
اےآئی اینکر ’ثنا‘جسے گزشتہ مہینے چینل آج تک نے متعارف کیا تھا

مصنوعی ذہانت پر کام کرنے والے ’ کمپیوٹر بوٹ‘ کی ایجاد نے پہلے تو سب کو خوش اور حیران کیا کردیا لیکن اس ایپ کی غیر معمولی ذہانت اب یہ خوف طاری کر رہی ہے کہ وہ انسان کی ذہانت کو پیچھے چھوڑ سکتی ہے  اور اگر چیٹ جی پی ٹی نے سیاست پر غلبہ پا لیا تو پھر سیاست کیا رخ اختیار کرلے گی؟اے آئی بوٹ چیٹ جی پی ٹی اب شاعری کر رہا ہے، ڈراموں کے اسکرپٹ لکھ رہا ہے۔ میڈیا کے نیوز روم میں خبریں ترتیب دے رہا ہے۔ موسیقی کی دھنیں بنا رہا ہے۔ وکیلوں کی مدد کیلئے مقدمات کے دلائل بنا کر دے رہا ہے اور اب اس نے سیاست میں بھی ہاتھ مارنا شروع کر دیا ہے۔ جس کے بعد ماہرین یہ سوچ رہے ہیں کہ اس کے سیاست پر کیا اثرات پڑ سکتے ہیں۔چیٹ جی پی ٹی بوٹ کو منظر عام پر آئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔ اسے گزشتہ نومبر میں ایک امریکی کمپنی اوپن اے آئی کے ذریعے لانچ کیا گیا تھا۔
چیٹ جی پی ٹی بوٹ کیا ہے؟
 بوٹ اصل میں روبوٹ کا مخفف ہے۔ یہ ایک ایسا کمپیوٹر پروگرام ہے جو روبوٹ کی طرح خودکار طریقے سے کام کرتا ہے اور اپنے کام کیلئے انسانی دماغ کی طرح’ اپنی ذہانت‘ سے کام لیتا ہے جسے ہم مصنوعی ذہانت کہتے ہیں۔اس ایپلی کیشن کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ جب اس سے کوئی سوال کیا جاتا ہے تو انٹرنیٹ پر دستیاب لامحدود ڈیٹا میں سے سوال سے متعلق معلومات اکٹھا کرتا ہے اور ’اپنی ذہانت‘ کو استعمال کرتے ہوئے اس کا جواب تیار کر کے مہیا کر دیتا ہے۔انسانی دماغ بھی کوئی جواب دینے کیلئے اس ڈیٹا کو استعمال کرتا ہے جو اس کی یاداشت میں محفوظ ہوتا ہے۔اس یاداشت کا تعلق انسان کے مشاہدے اور اس علم سے ہوتا ہے جو اس نے حاصل کیا ہے۔ جس کے بعد انسانی دماغ اپنی ذہانت سے اس ڈیٹا کی بنیاد پر جواب تیار کرتا ہے۔
 جی پی ٹی بوٹ کی رسائی انٹرنیٹ پر پھیلے ہوئے لا محدود ڈیٹا تک ہے، اس لیے اس کے پاس زیادہ بڑا ذخیرہ ہے۔مصنوعی ذہانت کی وجہ سے جی پی ٹی بوٹ اپنے ہر تجربے سے سیکھتا ہے اور اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ کمپیوٹر سائنس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی سطح رفتہ رفتہ بہتر ہو رہی ہے۔اگرچہ سیاست کے شعبے میں جی پی ٹی بوٹ کااستعمال ابھی بہت محدود ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے استعمال میں اضافہ سیاست کا رخ تبدیل کر سکتا ہے۔
 خبررساں ادارے اے ایف پی پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں جاپان کے وزیر اعظم فومیو کشیدا کا سامنا مصنوعی ذہانت کے بوٹ سے اس وقت ہوا جب انہوں نے حزب اختلاف کے ایک رکن پارلیمنٹ کے صحت کی اصلاحات سے متعلق سوالات کے جواب دیے۔ ان کے ایک حریف نے یہی سوال چیٹ جی پی ٹی کے سامنے رکھے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ بوٹ کے جوابات وزیراعظم کی نسبت زیادہ مخلصانہ تھے۔کشیدا نے اپنے موقف کادفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے جوابات کی نوعیت زیادہ خصوصی تھی۔
 فرانسیسی ٹریڈ یونین کی سربراہ سوفی بینٹ نے صدر ایمانوئل میکرون کی حالیہ تقریر کا سخت تنقیدی جائزہ لیا ہے جس کے بارے میں سوشل میڈیا پر کہا جا رہا ہے کہ ایسے گہرے تنقیدی نکات چیٹ جی پی ٹی ہی تیار کر سکتا ہے ۔
 جی پی ٹی بوٹ کو تقریریں لکھنے اور قوانین کا مسودہ تیار کرنے میں بھی استعمال کیا جا رہاہے۔ پچھلے مہینے،امریکی کانگریس کی ایک خاتون رکن نینسی میس نے سینیٹ کمیٹی میں مصنوعی ذہانت کے ممکنہ استعمال اور نقصانات پر ۵؍ منٹ کی تقریر کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے تقریر سے پہلے یہ بھی بتایا انہوں نے یہ تقریر چیٹ جی پی ٹی بوٹ سے لکھوائی ہے۔امریکہ کے ایک اور سیاستداں بیری فائن گولڈ ، نینسی سے بھی آگے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے جنوری میں یہ اعلان کیا تھا کہ ان کی ٹیم نے میساچوسیٹس سینیٹ کیلئے ایک قانونی مسودہ کی تیاری کیلئے چیٹ جی پی ٹی سے مدد لی تھی۔بتایا گیا ہے کہ اس مسودے میں مصنوعی ذہانت کے اس بوٹ نے منفرد نظریات متعارف کرائے تھے جن میں چیٹ بوٹس اور مصنوعی ذہانت کو قابو میں رکھنا بھی شامل تھا۔
چیٹ جی پی ٹی کی اپنی پسند اور نا پسند بھی ہوتی ہے
 سیاست کے حوالے سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بوٹ کی نہ صرف ذاتی پسند اور ناپسند ہوتی ہے بلکہ وہ اس کا اظہار بھی کر دیتاہے۔ حال ہی میں اس وقت ایک تنازع کھڑا ہوا جب چیٹ جی پی ٹی سے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی تعریف میں ایک نظم لکھنے کیلئے کہا گیا لیکن اس نے نہ صرف یہ کہ نظم لکھنے سے انکار کیا بلکہ ان کی جگہ سنبھالنے والے صدر جو بائیڈن کی مدح میں کئی اشعار بھی لکھ ڈالے۔خلائی مہمات کی امریکی کمپنی  اسپیس ایکس اور الیکٹرک گاڑیوں کی کمپنی ٹیسلا کے مالک ایلون مسک متنبہ کرچکے ہیں کہ مصنوعی ذہانت ہماری معاشرت کو تباہ کرسکتی ہے ۔ انہوں نے ٹروتھ جی پی ٹی کے نام سے ایک نئی اپیلی کیشن بنانے کا وعدہ کیا ہے جس کے تعلق سے ان کادعویٰ ہےکہ یہ تعصبات کے خاتمے کے لیے کام کرے گی۔نیوزی لینڈ کے ایک ماہر ڈیوڈ روزیڈو حال ہی میں رائٹ ونگ جی پی ٹی نامی ایپ کا تجربہ کر چکے ہیں۔ یہ ایپ خاندانی اقدار اور اعتدال پسند سوچ کو آگے بڑھاتی ہے۔
 واضح رہےکہ مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹ کے خالق جیفری ہنٹن نے حال ہی میں خبردار کیا ہے کہ یہ ایجاد انسانی دماغ کو پیچھے چھوڑ دے گی۔ انہوں نے یہ کہتے ہوئے گوگل میں اپنی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ہماری معاشرت اور انسانیت کیلئے گہرے خطرات کا سبب بن سکتی ہے، انہوں نے اسے روکنے کا بھی مشورہ دیاہے۔
گزشتہ مہینے کویت نے اے آئی نیوز پریزینٹر بنایا تھا 
 دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت( آرٹی فیشل انٹیلی جنس/اے آئی) کی مدد سے نئی ایجادات اور مختلف کام انجام دیے جا رہے ہیں۔ گزشتہ مہینے کویت میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایک ایسی نیوز پریزینٹر بنائی گئی ہے جسے دیکھ کر حقیقت کا گمان ہوتا ہے۔کویت کے ذرائع ابلاغ کےایک ادارے `کویت نیوز ` نے ایک ورچوئل نیوز پریزینٹر کی رونمائی کی تھی جسے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے تیار کیا گیا ہے جسے `’فضہ‘ نام دیا گیا ہے۔
 کویت نیوز ویب سائٹ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے ایک مختصر دورانیے کا ویڈیو جاری کیا تھا جس میں ایک خاتون نیوز کاسٹر کو دیکھا جا سکتا تھا۔سفید رنگ کی ٹی شرٹ اور سیاہ رنگ کی جیکٹ پہنی خاتون نے کلاسیکل عربی میں اپنا تعارف کچھ اس طرح کرایا’’میں فضہ ہوں، کویت کی پہلی پریزینٹر جو کویت نیوز میں مصنوعی ذہانت کے ساتھ کام کرتی ہوں۔ آپ کس قسم کی خبروں کو ترجیح دیتے ہیں؟ آئیے آپ کی رائے سنتے ہیں؟‘‘خبر رساں ایجنسی’ `اے ایف پی‘ کے مطابق کویت نیوز ویب سائٹ  ملک کے انگریزی روزنامہ ’کویت ٹائمز‘ سے منسلک ہے۔اس اخبار کو۱۹۶۱ء میں خطے کے پہلے انگریزی روزنامہ کے طور پر شروع کیا گیا تھا۔
 کویت کے علاوہ ہندوستان میں چینل ’آج تک ‘ بھی اپنا اےآئی نیوز اینکر  بنا چکا ہے جس کا نام ’ثنا ‘ ہے۔ثنا اے آئی اینکر ایک کمپیوٹر سے تیار کردہ ورچوئل اینکر ہے جو خبریں پیش کرتی ہے۔ ’ثنا‘کی مدد سے آج تک نیوز چینل آرٹی فیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنی خبروں کو ایک مختلف انداز دینا چاہتا ہے تاکہ ناظرین کو کچھ نیا دیکھنے کو ملے، حالانکہ ثنا اے آئی اینکر کی آواز بالکل انسان جیسی ہے لیکن یہ مکمل طور پر کمپیوٹر پر مبنی ہے۔اسے ڈیجیٹل اوتار بھی کہا جاتا ہے۔سمجھا جاتا ہےکہ اے آئی اینکرز کو چلانا اورسنبھالنا بہت آسان ہے لہٰذا اے آئی  اینکر چوبیس گھنٹے ساتوں دن دستیاب ہو سکتا ہے اور کسی بھی وقت کام کرنا شروع کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK