فروزن فوڈز کا استعمال روز بہ روز بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ اگرچہ فروزن فوڈز کی بدولت کھانے پکانے اور اسے محفوظ بنانے کا عمل انتہائی آسان ہو گیا ہے۔
EPAPER
Updated: January 19, 2023, 11:56 AM IST | MUMBAI
فروزن فوڈز کا استعمال روز بہ روز بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ اگرچہ فروزن فوڈز کی بدولت کھانے پکانے اور اسے محفوظ بنانے کا عمل انتہائی آسان ہو گیا ہے۔
فروزن فوڈز کا استعمال روز بہ روز بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ اگرچہ فروزن فوڈز کی بدولت کھانے پکانے اور اسے محفوظ بنانے کا عمل انتہائی آسان ہو گیا ہے۔ تاہم، ان کے مضر صحت اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
فروزن فوڈ کو فریش رکھنے اور ان کا ذائقہ قائم رکھنے کے لئے اس میں اسٹارچ شامل کیا جاتا ہے جو جسم میں ہائی گلوکوز لیول کا باعث بنتا ہے۔ یہ انسانی صحت خصوصاً ذیابیطس کے مریضوں کے لئے بے حد نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
فروزن فوڈز میں موجود ٹرانس فیٹس امراض قلب کا سبب بن سکتاہے جبکہ ان میں پائی جانے والی نمک کی اضافی مقدار ہائی بلڈ پریشر کے خطرات کو بڑھا دیتی ہے۔
فروزن فوڈز کولمبے عرصے تک خراب ہونے سے بچانے کے لئے اس میں مختلف قسم کے کیمیکلز اور سوڈیم کا استعمال کیا جاتا ہے جو انسانی صحت کے لئے انتہائی مضرہیں۔اسی طرح فروزن فوڈز میں شامل کیلوریز کی اضافی مقدار انسان کو موٹاپے کی طرف دھکیلتی ہے۔ لہٰذا فروزن فوڈز کی جگہ تازہ پھل، گوشت اور سبزیوں کا استعما ل صحت کے اعتبار سے زیادہ مفید ہے۔
غرض یہ کہ اشتہاروں میں دکھائے جانے والے فریب اور ڈبوں کی چمک دمک کا شکار مت بنیں۔ کھانے پینے کی چیزوں کو تازہ خریدیں اور گھر ہی میں تیا رکریں کیونکہ وقت کی یہ تھوڑی سی بچت آپ کو مہنگی بھی پڑ سکتی ہے۔