دنیا کی تاریخ میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنی عورتوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرتی ہیں۔ اگر وہ باشعور اور تعلیم یافتہ ہو تو پوری نسل سنور جاتی ہے جس کی بہترین مثال بیگم عبداللہ ہیں جنہوں نے ویمنس کالج اے ایم یو کی بنیاد رکھی تھی۔
EPAPER
Updated: February 03, 2026, 6:05 PM IST | Noor fatima siddiqui | Mumbai
دنیا کی تاریخ میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنی عورتوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرتی ہیں۔ اگر وہ باشعور اور تعلیم یافتہ ہو تو پوری نسل سنور جاتی ہے جس کی بہترین مثال بیگم عبداللہ ہیں جنہوں نے ویمنس کالج اے ایم یو کی بنیاد رکھی تھی۔
دنیا کی تاریخ میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنی عورتوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرتی ہیں۔ اگر وہ باشعور اور تعلیم یافتہ ہو تو پوری نسل سنور جاتی ہے جس کی بہترین مثال بیگم عبداللہ ہیں جنہوں نے ویمنس کالج اے ایم یو کی بنیاد رکھی تھی۔ وہ عظیم خاتون وحید جہاں بیگم تھیں جنہوں نے نا مساعد حالات میں مسلم بچیوں کیلئے تعلیم کا پہلا مستحکم قدم بڑھایا۔ جب مسلمان عورتوں کیلئے تعلیم حاصل کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا اور اسے چہار دیواری تک محدود رکھا جاتا تھا ایسے ماحول میں بیگم عبداللہ نے تعلیم نسواں کی ایک شمع روشن کی اور مسلسل محنت کے بعد ۱۹۰۶ء میں ’مسلم گرلس اسکول‘ کے نام سے ایک ننھا سا پودا لگایا جو آج ویمنس کالج کے نام سے تناور درخت کی شکل میں موجود ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آپ کا گھر چین و سکون کا گہوارہ بن سکتا ہے اگر...
وحید جہاں بیگم کی خدمات صرف درس و تدریس تک محدود نہ تھی بلکہ وہ تعلیم ِ نسواں کے تئیں محلے کی خواتین سے ملاقات کرتیں، انہیں اپنی بچیوں کو مدرسہ بھیجنے پر آمادہ کرتیں اور غریب و یتیم بچیوں کی خصوصی کفالت کرتیں جن کو بعد میں دیکھ کر وہ خوش ہوتیں کہ ان کے ہاتھ کے لگائے ہوئے پودے ہیں۔ اسی جدوجہد کے نتیجے میں تین ماہ کے اندر پچاس لڑکیاں مدرسہ میں داخل ہو گئیں۔ بیگم عبداللہ نے مدرسے کی کامیابی و ترقی میں بہت قربانیاں دیں، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے بچوں کا بھی خیال نہیں رکھا بلکہ اس کیلئے ملازمہ کو رکھا اور تعلیمِ نسواں کیلئے ساری توجہ مدرسے پر صرف کر دی۔ وحید جہاں کی مسلسل محنت سے مدرسے میں روز بروز طالبات کا اضافہ ہوتا تھا اور ایک دن ایسا بھی آیا جس میں بچیوں کی تعداد سو سے تجاوز کر گئی۔ جس کی وجہ سے بالائے قلعہ اب نا کافی ہو چکا تھا اور ایک نئی جگہ کی تلاش تھی۔ ایک مکان میں جب بورڈنگ ہاؤس شروع ہوا تو پہلے دن اس میں نو لڑکیاں داخل ہوئیں البتہ سال کے خاتمے پر ۲۵؍ لڑکیوں کا اندراج ہوگیا تھا۔ وحید جہاں کی محنت کا نتیجہ یہ ہوا کہ بورڈنگ ہاؤس کامیابی سے ہمکنار ہوا اور خود وحید جہاں بورڈنگ ہاؤس میں رہنے لگیں جس سے والدین کا اعتماد بڑھا۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ عبداللہ بیگم کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ انہوں نے مسلم بچیوں کی تعلیم و ترقی کیلئے پہلا مستحکم قدم اٹھایا۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ قوم کی بچیاں پڑھ لکھ کر ایسی نسل تیار کریں جو ملک و قوم کیلئے فائدہ مند ہوں کیونکہ ملک وقوم کی ترقی عورت پر ہی منحصرہے۔ ان کی مسلسل محنت اور عزم و حوصلے کے سبب ایک کرائے کے مکان سے شروع ہونیوالا یہ ادارہ آج خواتین کی اعلیٰ تعلیم کا ایک معتبر مرکز بن چکا ہے۔