• Thu, 22 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

بیٹیاں بہت خاص ہوتی ہیں،اس بات کا اظہار کیسے کریں؟

Updated: January 27, 2023, 10:40 AM IST | saima shaikh | MUMBAI

بیٹیوں کو برابری اور خاص ہونے کا احساس دلانے کے لئے سب سے اوّل اُن کی پیدائش کو اپنے لئے خدا کا تحفہ سمجھ کر دلی خوشی کا اظہار ضروری ہے۔

Giving daughters special attention and love can give them a sense of closeness and belonging; Photo: INN
بیٹیوں کو خصوصی توجہ اور محبت دے کر انہیں قربت اور اپنائیت کا احساس دلایا جاسکتا ہے; تصویر:آئی این این

ان کی چھوٹی چھوٹی خوشی کا خیال رکھیں
بیٹیاں خدائے واحد کی طرف سے دنیا والوں کے لئے بہترین تحفہ ہوتی ہیں، ماں باپ کے لئے رحمت و سکون کا باعث ہوتی ہیں، معاشرے کی تعلیم و ترقی کی ضامن ہوتی ہیں، ایک پوری نسل کی نگہبان ہوتی ہیں۔ بیٹیاں تو وہ سخت جان ہوتی ہیں جو اپنوں کی سرزمین چھوڑ کر غیروں کی وادیوں میں اپنا آشیانہ بناتی ہیں اور اس انجان وادی میں بسنے والے غیروں کو محبت سے اپنا بناتی ہیں۔ واقعی بیٹیاں بہت خاص ہوتی ہیں۔ انہیں ہمیشہ اس اہمیت کا احساس دلاتے رہیں۔ ان کی چھوٹی چھوٹی خوشی کو ترجیح دیں، وہ نکھرتی جائیں گی۔
شگوفہ خان اعظمی (علی گڑھ، مسلم یونیورسٹی)
بیٹیوں سے محبت کا اظہار کریں
ہر سال ۲۴؍ جنوری کو انٹرنیشنل گرل چائلڈ ڈے منایا جاتا ہے۔ لڑکیوں کو ان کے حقوق دیئے جائیں، اس کے تحت یہ دن منایا جاتا ہے۔ ویسے تو بیٹیوں کی اہمیت کے لئے صرف ایک دن منانا کافی نہیں ہے البتہ اس دن کے ذریعے بیداری پیدا کی جا رہی ہے، یہ اچھی کوشش ہے۔
 ہمارے معاشرہ میں صنفی تفریق کی کئی مثالیں ہیں۔ ہر شخص یہ جانتا ہے کہ بیٹیاں رحمت ہوتی ہیں مگر یہ بات ہمارے عمل سے ظاہر نہیں ہوتی۔ یہ ضروری ہے کہ بیٹیوں سے محبت کا اظہار کرکے انہیں اُن کی اہمیت کا احساس دلایا جائے۔
خان آرزو پروین عبدالجبار (گوونڈی، ممبئی)
گھریلو معاملات ان سے مشورہ لیں 
ہر رشتہ اظہار کا طلبگار ہوتا ہے لیکن بیٹیاں ایثار و قربانی کی وہ اعلیٰ مثال ہے کہ یہ اظہار کی طلبگار بھی نہیں ہوتیں بلکہ پس ِ پردہ والدین کی خدمت کئے جاتی ہیں۔ لہٰذا والدین کو چاہئے کہ ایسی بے غرض مخلوق کو احساس خاص سے روشناس کروائیں۔ اس کیلئے چند نکات اہم ہیں: ٭بیٹیوں کو تعلیم سے آراستہ کروانا۔ ٭چھوٹے چھوٹے گھریلو فیصلوں میں بیٹیوں کی شرکت لازمی کرنا اور ان سے بھی مشورے طلب کرنا۔ اور ٭بیٹیوں کی کارکردگی پر بھی اسی طرح مسرت و انبساط کا اظہار کرنا جیسے بیٹوں کیلئے کیا جاتا ہے۔
شبنم محمد فاروق خان (گوونڈی، ممبئی)
اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیں
بیٹی اس پھول کی مانند ہے جو اپنی مہک سے سب کے دلوں میں بس جاتی ہے۔ جس کا اپنا کوئی مخصوص گھر بھلے ہی نہ ہو مگر ہر عام انسان کیلئے خاص بن جاتی ہے۔ بیٹی ہی اپنے والد کی معاشی محنت اور والدہ کی لازوال محبت اور درد کو بخوبی پہچان لیتی ہے۔ بیٹی سے بہو اور بہو سے ماں بننے تک کے ہر پڑاؤ کا سامنا خوش اخلاقی اور عفو و درگزر کے ساتھ کرتی ہے۔ جب وہ اتنی خاص ہوتی ہیں تو اس بات کا اظہار بھی خاص ہونا چاہئے۔ اس کی پسندو ناپسند کو ترجیح دینا چاہئے۔ اسے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کرنا چاہئے تاکہ وہ اپنے آنچل سے پرچم بنا لے۔
انصاری قنوت وکیل احمد (بھیونڈی، تھانے)

مناسب فیصلوں کا احترام بھی لازمی ہے
بیٹیوں کو برابری اور خاص ہونے کا احساس دلانے کے لئے سب سے اوّل اُن کی پیدائش کو اپنے لئے خدا کا تحفہ سمجھ کر دلی خوشی کا اظہار ضروری ہے۔ ان کی پرورش، تعلیم و تربیت کے ہر مرحلے اور موقع پر والدین کی جانب سے ان کی چھوٹی بڑی کامیابیوں کی تعریف اور قدر شناسی ان میں تحفظ اور خود اعتماد ی کا احساس پیدا کرتی ہے۔ شادی بیاہ کے معاملات میں ان کی رضامندی اور وراثت میں ان کے جائز حقوق کی ادائیگی بھی اُن کا شرعی حق ہے۔ ان کی ذاتی رائے اور مناسب فیصلوں کا احترام بھی لازمی ہے۔ بیٹیوں کو یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ ان کے سرپرست ہر وقت اورہر حال میں اُ ن کی خبر گیری اور حفاظت کے لئے موجود ہیں۔
خالدہ فوڈکر (جوگیشوری، ممبئی)
 بیٹیاں عطائے عظیم ہوتی ہیں
یقیناً بیٹیاں بہت خاص ہوتی ہیں۔ اللہ نے اپنی پاک کتاب میں صاف صاف لکھ دیا ہے کہ ہم نے ہر چیز کا جوڑا بنایا ہے۔ اس لئے لڑکا اور لڑکی دونوں ہم پلہ ہیں۔ کسی کو کسی پر فوقیت حاصل نہیں ہے۔ ہاں، جسمانی طور سے لڑکے لڑکیوں کے مقابلے میں زیادہ قوی ہوتے ہیں۔ کسی قسم کا جنسی امتیاز نہیں کرنا چاہئے۔ لڑکیوں کی حفاظت کرنی ہوگی، ان کی بہترین پرورش اور ان کو تعلیم کے مواقع فراہم کرنے ہوں گے۔ ان کے ساتھ زندگی کے تمام شعبوں میں یکساں سلوک کرنا ہوگا۔ حقوق تعلیم، صحت اور غذائیت کو فروغ دینے کیلئے کام کرنا ہوگا۔ ہمیں ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ کر نا ہو گا۔ ان کے اعتماد کو بحال کر نا ہوگا اور ماحول کو محفوظ بنانا ہو گا۔ 
نجمہ طلعت (جمال پور، علی گڑھ)
اپنی پسند کا تعلیمی شعبہ
بچیوں کو ان کے جائز حقوق دینا ان کو بہت خاص ہونے کا احساس دلاتا ہے، جیسے اُن کی تعلیم سب سے پہلے آتی ہے جس کے ذریعے ہر قسم کا شعور حاصل ہوتا ہے،جو بھی وہ پڑھنا چاہتی ہوں ان کو پوری آزادی ہونی چاہئے کہ وہ اپنی پسند کا شعبہ منتخب کرسکیں، اور اس میں کامیابی حاصل کریں۔ بچیوں کی صحت کے حوالے سے بھی ان کو بہت خاص ہونے کا احساس کروائیں چاہے وہ جسمانی ہو یا ذہنی۔ بیٹیاں نازک تو ہوتی ہیں مگر بہت ہمت والی بھی۔ جب وہ ذہنی صحتمند ہوں گی تبھی وہ اپنے اچھے برے ہر فیصلے کو اعتماد سے لیں گی۔ ہر جگہ والدین کو ان کا ساتھ دینا چاہئے اور انہیں اپنے رجحان کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع دینا چاہئے۔
فرح حیدر (اندرا نگر، لکھنؤ)
ان کے حقوق کی ادائیگی کی جاسکتی ہے
اللہ نے دُنیا میں بیٹی کو رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جب میں اپنے بندے کو بیٹا عطا کرتا ہوں تو اس بیٹے سے کہتا ہوں جاؤ اور اپنے باپ کا بازو بنو اور جب بیٹی عطا کرتا ہوں تو کہتا ہوں مجھے اپنی خدائی کی قسم تو جا، مَیں تیرے باپ کی مدد کروں گا۔ اللہ نے وجود زن سے قبل ہی اس کی اہمیت بتا دی ہے۔ ہر قدم پر بیٹیاں رحمت کا سبب بنتی ہیں اس لئے ضروری ہے کہ انہیں بھی اپنے عمل سے یہ احساس دلایا جائے کہ وہ کتنی اہم ہیں؟ ان کی خواہشات کو ترجیح دی جاسکتی ہے۔ ان کی پسند کا خیال رکھا جاسکتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم دی جاسکتی ہے۔ ان کے حقوق کی ادائیگی کی جاسکتی ہے۔ انہیں تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے۔
قمرالنساء جمیل احمد (مالونی، ملاڈ)
اپنے عمل سے احساس دلائیں
بیٹیاں واقعی خاص ہوتی ہیں، اس کا اظہار لفظوں میں نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ والدین اپنے عمل سے انہیں یہ احساس دلا سکتے ہیں۔ ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے اس لئے بچپن ہی سے ان کو صحیح اور غلط کا فرق بتائیں۔ اسکول کی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی طرف بھی توجہ دیں۔ بچیوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ اپنی بیٹی کی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی دھیان سے سنیں، یہ انہیں خاص محسوس کرواتا ہے۔ ان سے گھریلو معاملات میں مشورہ بھی ضرور طلب کریں۔ مختصر یہ کہ بیٹیوں سے پیار کا اظہار یا یہ کہ وہ ہمارے لئے کتنی خاص ہیں، اس کا اظہار صرف لفظوں سے نہیں بلکہ عمل سے ظاہر کریں۔
یاسمین محمد اقبال (میرا روڈ، تھانے)
بیٹیوں کی قدر کریں
یہ بات سچ ہے کہ بیٹیاں بہت خاص ہوتی ہیں۔ اب چاہے گھر کے کام کرنے ہوں یا والدین اور گھر کے افراد کی خدمت، ان سب میں لڑکیاں ہمیشہ سے آگے رہی ہیں تو ایسے میں بڑوں پر بھی لازم ہو جاتا ہے کہ وہ لڑکیوں کو اس بات کا احساس دلائیں کہ وہ کیا اہمیت رکھتی ہیں اور یہ اس طریقے سے ممکن ہے کہ ان کے اچھے کام پر ان کی تعریف کی جائے، ان کے کام کو سراہا جائے۔ انہیں خاص مواقع پر چھوٹا موٹا تحفہ دیا جائے اور ان سب میں بیٹیوں کو خصوصی توجہ اور محبت دینا نہ بھولیں کیونکہ اس بات سے بہرحال انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دنیا کی خوبصورتی اور گھر کی رونق بیٹیوں کے دم سے ہے۔ میری التجا ہے کہ بیٹیوں کی قدر کریں اور ان کی اہمیت کو تسلیم کریں۔
آیت چودھری (موتی گنج، یوپی)

womens Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK