• Thu, 24 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بچوں کو نظم و ضبط کا پابند بنانے کیلئے سختی نہ کریں

Updated: September 24, 2026, 1:56 PM IST | Rizwana Rasheed Ansari | Mumbai

عام طور پر ہمارے یہاں بچوں کو نظم و ضبط کا پابند بنانے کے لئے ان پر سختی کی جاتی ہے۔ مائیں چیختی چلاتی ہیں جس کی وجہ سے بچے دباؤ محسوس کرتے ہیں۔ ان میں خوف کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

When children are corrected in an affectionate manner, they listen to their elders. Photo: INN
محبت بھرے انداز میں بچوں کی اصلاح کی جائے تو وہ اپنے بڑوں کی بات سنتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

عام طور پر ہمارے یہاں بچوں کو نظم و ضبط کا پابند بنانے کے لئے ان پر سختی کی جاتی ہے۔ مائیں چیختی چلاتی ہیں جس کی وجہ سے بچے دباؤ محسوس کرتے ہیں۔ ان میں خوف کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ بچوں کو نظم و ضبط کا پابند بنانے کے لئے یہ تدابیر اپنائی جاسکتی ہیں:
 تین سال کا بچہ کہتا ہے، جب وہ چیختے چلاتے تب مَیں ڈر جاتا ہوں، جب وہ مجھ سے یا آپس میں بھی اونچی آواز میں بات کریں تو مجھے محسوس ہوتا جیسے کچھ بُرا ہونے والا ہے۔
حل: غلطی کو سدھارنے کیلئے بچے کا ذہنی طور پر پرسکون ہونا ضروری ہے تب ہی وہ بات کو سمجھے گا۔
چار سال کے بچے کو والدین سے تعلق ختم ہو جانے کا خوف لاحق ہوتا ہے۔
حل: یہ بات ان پر واضح کریں کہ آپ ان کے برتاؤ یا اس عمل سے ناراض ہیں، ان سے نہیں۔
 پانچ سال کے بچے کو اپنی غلطیوں پر احساس ہوتا ہے کہ کیا، مَیں ایک برا بچہ ہوں، مَیں نہیں چاہتا کہ اس وجہ سے ماں باپ مجھ سے پیار کرنا چھوڑ دیں۔

یہ بھی پڑھئے: بازار سے لائی ہوئی سبزیوں اور پھلوں کو محفوظ کرنے کا درست طریقہ جانئے

حل: انہیں شرمندہ کرنے کے بجائے اپنی غلطیوں سے سیکھنے کا موقع دیں۔
 چھ سے سات سال کے بچوں کو والدین سے یہ خوف ہوتا ہے کہ وہ ان سے بات چیت کرنا بند کر دیں گے، ان کی خاموشی انہیں ان کے چیخنے سے زیادہ تکلیف دہ محسوس ہوتی ہے۔
حل: محبت اور انسیت کو قائم رکھتے ہوئے ان کے برتاؤ کی اصلاح کریں۔
 نو سال کا بچہ سمجھدار ہو جاتا ہے اسی لئے اپنی غلطیوں پر شرمندہ ہوتا ہے۔
حل: کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے ان سے سوال کریں کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ کریں۔
 دس سے گیارہ سال کی عمر لڑکپن کی ہوتی، اس میں ان کو اپنے بارے میں کوئی رائے قائم کرنا کا خوف ہوتا ہے۔
حل: بچوں کے جذبات کی قدر کریں، ان کے ذہن کی پختگی کو سمجھیں۔ وہ بڑے ہو رہے ہیں، چھوٹے جان کر ان کو نظرانداز کرنا ٹھیک نہیں۔
(مضمون نگار سبکدوش بی ایم سی معلمہ ہیں)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK