جب بھی آپ گھر کا کوئی کام کریں تو تھوڑی تیز رفتاری سے کریں۔ جب آپ گھر کے مختلف کام انجام دے رہی ہوں تو اپنی چلت پھرت تھوڑا تیز
کر لیں۔ ایک بار جب آپ کام کو ورزش کے طور پر کرنے لگیں گی تو آپ کو کام کرنے میں خوشی بھی ہوگی اور آپ خود کو چاق و چوبند محسوس کریں گی
کپڑے دھونا، نتھارنا، سکھانا اور استری کرنا... ہر عمل آپ کی جسمانی صحت کے لئے بہتر ہے۔ تصویر: آئی این این
آج ہر دوسری خاتون اپنے بڑھتے وزن سے پریشان ہے۔ پہلے کی خواتین کی بہ نسبت آج کی خواتین وزن بڑھنے کے سبب مختلف بیماریوں کا زیادہ شکار ہورہی ہیں۔ اس کی ایک اہم وجہ گھریلو کام کاج کیلئے بے شمار سہولتوں کا موجود ہونا ہے جس کی وجہ سے جسم کو حرکت و عمل کے مواقع کم ملتے ہیں اس لئے وزن بڑھنا ایک معمول کی بات ہوگئی ہے۔ دوسری طرف ان ساری سہولتوں کے ہوتے ہوئے بھی خواتین ورزش کے لئے وقت نہیں نکال پاتیں کیونکہ ان کا شیڈول اتنا مصروف ہوتا ہے کہ ورزش کے لئے وقت نکالنا ناممکن ہوتا ہے۔ لیکن خواتین کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ خواتین کتنی بھی مصروف کیوں نہ ہوں گھریلو کام کاج اور ذمہ داریوں کیلئے ان کے پاس وقت نکل ہی آتا ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ گھریلو کام کاج آپ کی سوچ سے زیادہ کیلوریز جلانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں اس کے علاوہ گھر کا کام اپنے ہاتھوں سے کرنے سے جسم میں لچک، استحکام اور طاقت بھی پیدا ہوتی ہے۔ اگر آپ اپنے گھر کے اردگرد نظر ڈالیں آپ اپنے گھر کی ہر جگہ ہر کونے کو جم میں تبدیل کرسکتی ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف آپ کے گھر کے کام بہتر انداز میں ہوں گے بلکہ وزن کم کرنے کیلئے آپ کو ورزش پر اضافی وقت اور پیسہ خرچ کرنے کی بھی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
دھول جھاڑنا
اگر خواتین اپنے پٹھوں میں اکڑن اور تناؤ محسوس کرتی ہیں تو انہیں پوری گھر کی صفائی کرنی چاہئے۔ دھول جھاڑنا ایک بہترین ورزش ہے اس سے تقریباً ۱۹۰؍ کیلوریز فی گھنٹہ کی رفتار سے جلتی ہے۔ اس سے نہ صرف آپ کے ہاتھ پاؤں کی ورزش ہوتی ہے بلکہ آپ کے پیٹ کے عضلات کیلئے یہ ورزش کافی کارآمد ہے۔ پنکھے، لائٹ اور اونچائی پر لٹکی ہوئی چیزوں کی دھوپ جھاڑتے وقت آپ کے ایڑھیوں اور کمر کی بھی بہتر انداز میں ورزش ہوتی ہے۔
فرش کو جھاڑنا
فرش کو صاف کرنے کے لئے بیٹھنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف ہاتھ، پیر بلکہ پیٹ کی بھی اچھی خاصی ورزش ہوتی ہے۔ جھاڑو لگانے سے تقریباً ۱۹۵؍ کیلوریز فی گھنٹہ جلتی ہے۔ جھاڑو لگاتے وقت خواتین کو چاہئے کہ دونوں ہاتھوں کی حرکت ہو، اس بات کا دھیان رکھیں تاکہ یکساں ورزش ہو۔
فرش صاف کرنا
خواتین اگر واقعی اپنے جسم کو سڈول رکھنا چاہتی ہیں تو انہیں چاہئے کہ وہ روایتی انداز میں فرش صاف کریں اور ’چھڑی کے ساتھ موپ‘ کے ماڈرن طریقے سے چھٹکارا پائیں۔روایتی انداز میں فرش صاف کرنے سے نہ صرف ہاتھ، پیر، پیٹ، گھٹنوں کی ورزش ہوتی ہے بلکہ جسم کے ہر حصے کی ورزش ہوتی ہے اور چربی پگھلتی ہے۔ روایتی انداز سے پوچھا لگانے سے تقریباً ۲۶۶؍ کیلوریز ایک گھنٹے میں جلتی ہے۔
گھر کے دیگر کام
آپ کو اپنے گھر کے اندر ایسی بے شمار مثالیں ملیں گی جہاں آپ کو گھر کے کچھ کام کے لئے جھکنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر اپنے کچن، فریج یا واشنگ مشین سے یا الماری کے نیچے کی دراز سے چیزیں نکالتے وقت جھکنا پڑتا ہے تو یہ سکواٹ کا اچھا طریقہ ہے۔ اگر آپ صحیح طریقے سے بیٹھ کر سامان نکالتی ہیں تو پورے دن میں کم از کم ۳۰؍ سے ۴۰؍ اسکواٹ ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے آپ کی کمر، پیٹ، پیروں کی چربی کم ہوتی ہے لیکن خواتین جھکتے وقت ایک بات کا دھیان رکھیں کہ انہیں کچھ جھک کر کام کرنا ہے تو بیٹھ کر کریں، کمر کو موڑنے سے گریز کریں۔ اس انداز میں کام کرنے سے تقریباً ۶۰؍ سے ۱۵۰؍ کیلوریز فی گھنٹے جلتی ہے۔
سیڑھیاں چڑھنا اور اُترنا
جب آپ صاف صفائی کر رہی ہوں اور اشیاء کو سیڑھیوں سے اوپر یا نیچے لاتی ہیں تو اس عمل کو بار بار دہرائیں کیونکہ تیز رفتاری سے سیڑھیاں اترنے چڑھنے سے تقریباً ۵۰۰؍ کیلوریز فی گھنٹہ جلتی ہے اس لئے یہ عمل آپ کے جسم کو سڈول بنانے کے لئے کافی کارآمد ہوسکتا ہے۔
برتن دھونا
آج کل ہندوستانی گھروں میں ڈش واشر کی سہولت آگئی ہے مگر ہاتھ سے برتن دھونے کے بے شمار فوائد ہیں۔ اس سے ایک تو برتن ہماری مرضی کے مطابق صاف ہوتے ہیں اس کے علاوہ برتن دھوتے وقت ہمارے ہاتھوں، انگلیوں، کلائیوں، کہنیوں کی ورزش بھی کافی بہتر انداز میں ہوتی ہے اور تقریباً ایک گھنٹے میں ۸۰؍ سے ۱۰۰؍ کیلوریز جلتی ہے۔
کپڑے دھونا
آج ہر گھر میں واشنگ مشین کی سہولت موجود ہے جو کافی اچھی بات ہے مگر خواتین کپڑا دھونے کی اہمیت جان جائیں گی توشاید خود لانڈری کرنے کی شوقین ہوجائے گی۔ کپڑا دھونے، اسے نتھارنے، اسے پھیلانے اور استری کرنے سے آپ کو بڑی تعداد میں کیلوریز جلانے میں مدد ملتی ہے۔