جسم کا سسٹم ایسا ہے کہ جب بھی جسم کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ پیاس کے ذریعے بتا دیتا ہے۔ پھر بھی کئی افراد کام میں مصروفیت کے سبب پانی پینا بھول جاتے ہیں۔ سردی کے موسم میں پیاس کم لگنے کے سبب بھی اکثر لوگ پانی کم پیتے ہیں۔ جسم میں پانی کی کمی صحت کیلئے نقصاندہ ہے لہٰذا خوب پانی پیجئے۔
خواتین کو چاہئے کہ وہ دن بھر میں تقریباً ۲ء۲؍ لیٹر پانی پئیں۔
سردی کا موسم شروع ہوتے ہی بھوک بڑھ جاتی ہے لیکن پانی پینے کی خواہش کم ہو جاتی ہے۔ سردی میں اسماء اکثر بیمار ہو جاتی ہے۔ اسے قبض، گیس و ایسی ہی دیگر مسائل سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔ اسے تعجب ہے کہ کوئی مسئلہ ایسا نہیں ہے جو خاص طور پر سردی میں ہونے والا ہو۔ یہ سب اسے کیوں ہو رہا ہے؟ ایک کارپوریٹ کمپنی میں کام کرنے والی صبا انجم کہتی ہیں کہ ان کا کھانا پینا، گھومنا اس موسم میں زیادہ ہوتا ہے۔ وہ سردی کو اپنی پسند کے مطابق گزارتی ہیں۔ پتہ نہیں کیا بات ہے کہ سردی میں وہ بخار، انفیکشن وغیرہ کی زد میں آ جاتی ہیں۔ کئی بار طرح طرح کی ڈاکٹری جانچ کروائی، تب جا کر معلوم ہوا کہ پانی کی کمی سے وہ طرح طرح کے مسائل سے دو چار ہو رہی ہیں۔
پانی ہی زندگی
پانی‘ کو زندگی کہا جاتا ہے۔ جسم کی بناوٹ میں ۵۵؍ سے ۷۵؍ فیصد پانی ہے۔ جسم میں جتنی کم چربی ہوگی، پٹھوں میں پانی رکھنے کی صلاحیت اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔ اس لئے موٹے افراد کی بہ نسبت دبلے پتلے لوگوں کے جسم میں پانی زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے۔ جسم اپنی سرگرمیوں کے دوران کافی مقدار میں پانی خرچ کرتا ہے۔ جیسے کہ سانس لینے اور چھوڑنے میں تقریباً سوا گلاس پانی خرچ ہو جاتا ہے۔ پسینے اور پیشاب کے ذریعے جسم سے گندگی کو باہر نکالنے میں پانی کی زیادہ مقدار خرچ ہوتی ہے۔ بار بار پانی پی کر ہم استعمال شدہ پانی کی کمی کو پورا کرتے ہیں۔
جسم سے ۱۰؍ فیصد مائع کم ہو جانے پر کسی بھی موسم میں ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس لئے اچھی صحت، توانائی برقرار رکھنے اور گردے جیسے عضلات کے مسائل سے بچنے کے لئے پانی پیتے رہنا ضروری ہے۔
کتنا پانی پئیں؟
جسم کا سسٹم ایسا ہے کہ جب بھی جسم کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ پیاس کے ذریعے بتا دیتا ہے۔ پھر بھی کئی افراد کام میں مصروفیت کے سبب پانی پینا بھول جاتے ہیں۔ چند کو پانی کا ذائقہ اچھا نہیں لگتا۔ ویسے کتنا پانی پیا جائے، یہ ہماری جسمانی ساخت، کام کرنے کے طور طریقے اور ماحولیات پر منحصر کرتا ہے۔
امریکن انسٹی ٹیوٹ آف میڈیسن نے جسم کو کتنا پانی درکار ہوتا ہے، ریسرچ کیا ہے۔ تحقیق کے مطابق ایک دن میں خواتین کو ۲ء۲؍ لیٹر پانی اور مردوں کو ۳؍ لیٹر پانی پینا چاہئے۔
کیا ہے پانی کا متبادل؟
ماہر غذائیت عشی کھونسلہ کہتی ہیں چائے، کافی اور دیگر مائع اشیاء سے جسم کو کم مقدار میں پانی ملتا ہے لیکن وہ پانی کی کمی کو پورا نہیں کرسکتے۔ کم کیلوری والی مائع اشیاء سے جسم چست رہتا ہے۔
یونیورسٹی آف میری لینڈ میڈیکل سینٹر کی ایک تحقیق کے مطابق، پانی کے بعد چائے دنیا میں سب سے زیادہ پسند کیا جانے والا مشروب ہے لیکن یہ پانی کا متبادل نہیں ہے۔
پانی کب پئیں اور کب نہیں؟
کب پانی پیا جائے کب نہیں، اسے تعلق سے لوگوں میں طرح طرح کی غلط فہمیاں ہیں۔ چند کھانے سے آدھا گھنٹے پہلے یا آدھا گھنٹے بعد تک پانی نہ پینا ہاضمے کے لئے بہتر بتاتے ہیں تو چند اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کھانے سے پہلے یا کھاتے وقت ہی بیچ بیچ میں پانی پیتے رہنا بہتر ہے۔ نئی تحقیق اس معاملے میں کافی مددگار ہیں۔
امریکن کیمیکل سوسائٹی نے اس معاملے میں تحقیق کرنے پر پایا کہ کھانے سے پہلے پانی پی لینے سے ۳؍ مہینے میں تقریباً ۲؍ کلو وزن کم ہوا کیونکہ کھانے سے پہلے پیا گیا پانی کھانے میں تقریباً ۷۵؍ سے ۹۰؍ فیصد کیلوری کو کم جذب کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ کھانے کے بعد چھوٹی آنت میں کھانا پہنچتا ہے۔ وہاں غذا سے وٹامن، منرل، کاربوہائیڈریٹ، پروٹین وغیرہ کے الگ ہونے کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ اس عمل میں پانی غذا ہضم کرنے کا کام کرتا ہے۔ اس طرح تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کھانا کھانے کے درمیان پیا گیا پانی کھانا ہضم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ پھل کھاتے وقت پانی پینے سے گریز کریں کیونکہ پیٹ میں موجود ایسڈ پھلوں کے بیکٹریا کا مقابلہ کرتے ہیں، ایسے میں پانی ایسڈ کی توانائی کو کم کر دیتا ہے۔
عشی کھونسلہ کے مطابق، پانی کیسے پیا جائے؟ آپ موسم کے مطابق یہ طے کر سکتے ہیں۔ کیلوری بَرن کرنے میں گرم یا ٹھنڈا پانی الگ سے کوئی خاص رول ادا نہیں کرتا۔ لیکن جسم سے زہریلا مادّہ خارج کرنے میں نیم گرم پانی مددگار ہوتا ہے۔