الیکٹرک کاروں کےمتعلق کچھ اہم اور بنیادی باتیں اور اس کے فائدے

Updated: March 14, 2020, 12:37 PM IST | Sen Ogridi

الیکٹرک گاڑی کا تعارف:یہ مکمل طور پر بیٹریوں سے ہی چلتی ہے۔ اور جب بیٹری ختم ہوجاتی ہے تو اس کی حرکت بھی رک جاتی ہے۔مطلب یہ کہ یہ واشنگ مشین اور لیپ ٹاپ کے درمیان کی کوئی چیز یا گاڑی ہے ۔ پس یہ گاڑی مکمل طور پر برقی طاقت سے چلتی ہے۔

Electric Car Pictuire INN
الیکٹرک کار۔ تصویر :آئی این این

الیکٹرک گاڑی کا تعارف:یہ مکمل طور پر بیٹریوں سے ہی چلتی ہے۔ اور جب بیٹری ختم ہوجاتی ہے تو اس کی حرکت بھی رک جاتی ہے۔مطلب یہ کہ یہ واشنگ مشین اور لیپ ٹاپ کے درمیان کی کوئی چیز یا گاڑی ہے ۔ پس یہ گاڑی مکمل طور پر برقی طاقت سے چلتی ہے ۔ طاقتور لیتھیم آئن بیٹریوں ( جس طرح لیپ ٹاپ میں ہوتی ہیں) سے بجلی برقی موٹر میں آتی ہے (جس طرح واشنگ مشین میں ہوتا ہے) جو سڑک پر پہیوں کو حرکت میں لاتی ہے۔پلگ کے ذریعے بجلی بیٹریوں میں محفوظ کی جاتی ہے ۔  کچھ بجلی تو گاڑی سے ہی دوبارہ پیدا ہوتی  ہے، کچھ بجلی بچا لی جاتی ہے مثلاً بریک لگاتے وقت جو کہ بصورت دیگر ضائع ہو جاتی۔
  ایک بار چارج کرنے پر مائیلیج:  آپ یوں سمجھ سکتے ہیں کہ ایک جدید برقی گاڑی ایک دفعہ چارج کرنے پر آ پ کو۲۰۰؍ سے۲۵۰؍  میل تک لے جا سکتی ہے۔  جس طرح کِیا ای نیرو یا ہیونڈائی کونا الیکٹرک۔ اگر صحیح ہاتھوں میں گاڑی ہو تو۳۰۰؍ میل بھی ممکن ہے۔ ویسے یہ کچھ سال پہلے تجربے کی نسبت ۳؍ گنا زیادہ فاصلہ ہے۔  زیادہ ایڈوانس ماڈلز جیسا کہ ٹیسلاا تقریباً۴۰۰؍میل تک چلتی جائے گی۔ کچھ چھوٹے ماڈلز جو شہری علاقوں کیلئے بنائے گئے ہیں جیسا کہ جدید الیکٹرک ` اسمارٹ گاڑیاں۱۰۰؍  میل تک چلنے کیلئے بہتر ہیں۔ باقی تمام اس پر منحصر ہیں کہ آپ کس طرح ان کو چلاتے ہیں اور کب چلاتے ہیں۔ اگر آپ سختی سے اور تیز گاڑی چلاتے ہیں تو زیادہ توانائی استعمال ہوگی بالکل اس طرح جس طرح پٹرول اور ڈیزل کی گاڑیوں میں ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ۔ بیٹریوں کی چارج اور بجلی جمع (محفوظ) کرنے کی صلاحیت کم ہوتی جائے گی ( بالکل اسمارٹ فون اور لیپ ٹاپ کی طرح)۔
 الیکٹرک گاڑی کے فوائد: مالی فوائد کے علاوہ، بے شک ماحول کیلئے بھی یہ بہت بہتر ہے۔  ان کی قیمت (ماحولیات کے لحاظ سے) کے حوالے سے بہت دلائل ہیں جیسا کہ  اس کیلئے نایاب معدنیات کی کان کنی کی قیمت یا پھر ان کی لمبے راستے سے فیکٹریوں کو پہنچانا یا وہ توانائی جو اس کے بنانے میں خرچ ہوتی ہے۔ اور یہ بھی کہ بظاہر وہ گاڑی جوشمسی توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی سے چلتی ہے اس گاڑی سے بہتر ہے جو کوئلہ جلانے سے چلتی ہے۔ تاہم ایک معقول مفروضہ یہ بھی ہے کہ الیکٹرک گاڑیاں اپنے مد مقابل انٹرنل کمبسشن انجن کی نسبت زیادہ ماحول دوست ہوتے ہیں اور یہ کہ کوئی بھی پبلک ٹرانسپورٹ   عموماً کسی بھی ذاتی نعم البدل کے مقابلے میں ماحول کیلئے بہتر ہوتے ہیں۔  برقی گاڑیاں بہت بہتر اور ٹھیک ٹھاک ہوتی ہیں۔ کسی بھی رفتار پر یہ تقریباً خاموش ہوتی ہیں اور اس کی رفتار بڑھانے کا نظام حیران کن حد تک تیز ہوتا ہے، اگر چہ ٹاپ اسپیڈ پر اس کی توانائی کم ہوجاتی ہے۔ 
اس کے نقصانات کیا ہیں ؟:  حیران کن بات یہ ہے کہ کم لوگ یہ سو چتے ہیں کہ آپ کے حالات پر ان (گاڑیوں) کے رکھنے کا انحصار ہے۔ اگر آپ فلیٹ میں رہتے ہیں یا ٹیرس ہاؤس میں رہتے ہیں، تو پھر گھر سے ان کو چارج کرنا تقریباً ناممکن یا مشکل ہو جاتا ہے، اور اس طرح پھر برقی گاڑی کے استعمال میں آسانی کم ہونے لگتی ہے۔ اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ آپ کو بے فکری سے۴۰۰؍ میل سے زیادہ سفر کرنا ہے تو پھر انٹرنل کمبسشن انجن یقیناً اس کیلئے بہتر ہے کہ آپ جہاں مرضی چلے جائیں۔  اگر چہ آپ کو پھر بھی سفر کے دوران وقفہ کرنا پڑے گا۔  بہتر ہوگا کہ یہ بھی بتاؤں کہ عوامی مقامات پر چارجنگ کا نظام جس طرح ہونا چاہیئے اس سے بھی بہتر ہے— یہ بہت بڑا بھی ہو سکتا ہے اور قابل اعتبار اور استعمال کیلئے آسان بھی۔  بے شک بطور ماحول دوست ڈرائیور آپ مالی حساب کو عملی ماحول کے حساب کے ساتھ توازن میں رکھیں۔  
 کیا ان کو چارج کرنے میں ذیادہ دیر نہیں لگتی؟:  ہاں اور نہیں بھی۔ ٹیسلا (گاڑی)  کئی لحاظ سےمنفرد ہے کیونکہ اس کیلئے زیادہ تیز چارجرز کا ایک خصوصی نیٹ ورک موجود ہے اور گھر میں بھی چارج ہو سکتی ہے۔  برقی گاڑیوں کے زیادہ تر مالکان ان کو گھر پر چارج کرنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ ان کے پاس گھر میں چارجنگ پوائنٹ ہوتا ہے، اور اس کا مطلب ہے کہ ان کو کسی گلی کے کنارے اس وقت پارکنگ نہیں کرنی ہوتی۔  اگر آپ مین اسٹریم کا  متبادل جیسا کہ ہیونڈائی کونا الیکٹرسٹی ہوم کو لے لیں، تو یہ۷؍ کلو واٹ چارجنگ پوائنٹ سے اپنے کیبل کے ذریعے چارج ہوتا ہے اور صفر سے۸۰؍ فیصد چارج کیلئے۹؍گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔ اس طرح  تیز چارجر تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ یا۷۵؍  منٹ میں چارج کر لیتا ہے۔  ایمرجنسی میں آپ گھریلو تین پن والا چارجر لیڈ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

auto news Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK