Inquilab Logo Happiest Places to Work

اُرجت پٹیل اور آلوک ورما سے حکومت کا کیا بگڑتا؟

Updated: December 13, 2019, 9:12 PM IST | Arkam Noorulhasan | Mumbai

حکومت کے مزاج میں آمریت سرایت کرتی جارہی ہے،اب اس آمریت کا نتیجہ یہ برآمد ہورہا ہے کہ حکومت کو اپنا مطلب اور اپنا مفاد ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے اوراس راہ میں مزاحمت بننے والے وہ کسی افسر کواستعفیٰ دینے پر مجبور بھی کرسکتی ہے اورکسی کو تنازع میں گھیر کر بھی راستے سے ہٹا سکتی ہے

ارجت پٹیل۔ پی ٹی آئی
ارجت پٹیل۔ پی ٹی آئی

ساڑھےچار سال سے زائدمیعاد کے اقتدار میں این ڈی اے حکومت اور اس کے وزیر اعظم کے ساتھ کئی قصے جڑ چکے ہیں۔ ان میں نوٹ بندی بھی ہے ، ان میںجی ایس ٹی بھی ہے ، ان میں وزیر اعظم مودی کے اب تک۴۸؍ غیر ملکی دورے بھی شامل ہیں اور ان میںآر بی آئی اور سی بی آئی جیسے اداروں کی خودمختاری کومتاثر کرنے کی بےضابطہ (جوحکومت کے نزدیک باضابطہ ہیں) کوششیں بھی شامل ہیں۔یہ جو آخری قصہ ہے ، یہ کافی اہم ہے اور اتفاق سے حکومت کے آخری چند اہم دنوں سے اس کاتعلق ہے اور سوئے اتفاق ہےکہ اس قصےسے آلوک ورما جیسے فرض شناس افسر کانام جڑا ہے۔ 
 یہ باتیں تو کہی جارہی ہیںکہ ملک کے موجودہ حالات حق اور انصاف پسندوںکیلئےتشویشناک اور پریشان کن ہیںلیکن اس تعلق سے اب تک جو باتیںسامنے آئی ہیں انہیں عام طورپر ملک کے فرقہ وارانہ ماحول تک محدودسمجھا گیا ہے ۔ حقیقت اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والوں کی زبانوںسے ہم نے بارہا یہ سنا ہےکہ بی جےپی اگر مسلمانوںکی کھلی ہوئی دشمن ہے تو کانگریس چھپی ہوئی دشمن ہے جس سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ کانگریس کی اسی چھپی ہوئی دشمنی کو نرم ہندوتوا سے بھی تعبیر کیاگیاہے اور اب بھی کیاجاتا ہے۔اب موجودہ حالات میں این ڈی اے حکومت کاجورویہ ہے وہ جمہوریت کیلئے سے ایسا ہی ہےجیسا کانگریس کا مسلمانوںکیلئے۔یہ حکومت جمہوریت کےخلاف نہیں ہےلیکن جمہوریت کی آڑ میںآمرانہ اقتدار چاہتی ہے۔اٹلی کے حکمراںمسولینی کے تعلق سے اقبال کا ایک شعر کافی معنی خیز ہے اورموجودہ حکومت کے طرز عمل پراس کی تطبیق کی جاسکتی ہے،مسولینی کی زبانی وہ کہتے ہیں:پردۂ تہذیب میں غارتگری آدم کُشی : :کل روا رکھی تھی تم نے میں روا رکھتا ہوں آج ۔ موجودہ این ڈی اے حکومت کا مزاج بھی اسی طرح کا ہے۔وہ آمرانہ طرز اقتدار میں یقین رکھتی ہے۔ یہ مزاج اٹل بہاری واجپئی کے دورحکومت میںنہیںتھا ۔ اس وقت ’راج دھرم‘ کی کچھ نہ کچھ تو اہمیت تھی۔ موجودہ حکومت ایسی ہےکہ اسے جہاں اورجس میں اپنا مفاد نظر آئے گا ، وہاںتو وہ راج دھرم کی بات کرے گی اوردکھاوےکے طورپراس کا پالن بھی کریگی لیکن جہاں اور جس میں اس کے اپنے مفادپر ضرب پڑتی ہو،وہاں راج دھرم جیسا اصول اس کیلئے بےمعنی اور غیر اہم ہوگا۔ملک کی موجودہ صورتحال دراصل تشویشناک اس لئے ہےکہ حکومت کے مزاج میںآمریت سرایت کرتی جارہی ہے جو جمہوریت کی واضح ضد ہے۔ 
 یہ معاملہ آر بی آئی کے سابق گورنر ارجت پٹیل اور ان سےقبل رگھورام راجن کے ساتھ بھی ہوا اور ہوا نہیںبلکہ کیاگیا ۔ یہ معاملہ پی چدمبرم اور لالو یادو جیسے اپوزیشن کے لیڈروںکےساتھ بھی کیاجارہا ہے ۔ حالیہ دنوں میں یہ معاملہ سی بی آئی کے ڈائریکٹر آلوک ورما کے ساتھ بھی کیاگیاجو اب اپنے عہدے پر نہیں ہیں۔جہاںآمریت غالب آنے لگتی ہےوہاںجمہوری قدریںپامال ہوتی ہیںاور ایک وقت ایسا آتا ہےکہ اہل اقتدار کی نظر میں ان قدروںکی کوئی اہمیت بھی باقی نہیںرہ جاتی ۔ریزروفنڈ کے تعلق سے حکومت کے نمائندوں کے ساتھ آر بی آئی کے سابق گورنر ارجت پٹیل کی کافی طویل میٹنگ ہوئی تھی جس کے کچھ دنوںبعد ہی ارجت پٹیل اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔اس میٹنگ میں کیا ہوا، اس کی تفصیلات میڈیا میں نہیںآئیں، یہی وجہ ہےکہ ارجت پٹیل کا استعفیٰ کچھ میڈیا حلقوںکیلئےحیران کُن تھا ۔ آلوک ورماکے معاملے میںبھی سپریم کورٹ کے فیصلےبعداتنا تو واضح تھاکہ وہ اپنے عہدے پر بحال ہوگئے لیکن اس بحالی کا جائزہ لینے والی وزیر اعظم کی سربراہی میںسہ رکنی کمیٹی کے رکن جسٹس ارجن کمار سیکری نےانہیںعہدےکیلئے نا اہل قراردیتے ہوئےان کی برطرفی کا فیصلہ کیا جس کی اپوزیشن کانگریس کے لیڈر ملک ارجن کھرگےنےمخالفت کی ۔ 
 یہاںایک اہم پہلو یہ ہےکہ اوریہ بھی حکومت کے آمرانہ طرزکا ہی عکاس ہےکہ آلوک ورماکو اپنا موقف رکھنےکا بھی موقع نہیںدیاگیا۔کیا حکومت کی اعلیٰ سطح پر ایسے ہی امور انجام دئیےجاتےہیں؟اپنے مفاد اور اپنے فیصلے کے مقابلے میں کیاایک خودمختار ادارے کے سربراہ کی بات سننا بھی حکومت کو گوارا نہیں ؟ ریزروفنڈ سے حکومت کے خزانے میںرقم کی منتقلی کے معاملے میںارجت پٹیل سے کیا بات کی گئی اور ان کی کتنی بات سنی گئی ، یہ بات بھی صیغۂ راز میں ہے اور آلوک ورما کے معاملے میںسپریم کورٹ کے فیصلےکے بعدانہیںہٹانے کا فیصلہ کیوںکیاگیا،اس پرحکومت کے پاس کوئی واضح موقف نہیںہے جبکہ ملک ارجن کھرگے نے کئی سوالات قائم کئے ہیں اور۲۳؍ اور۲۴؍ اکتوبرکی درمیانی شب میںانہیں جبرا چھٹی بھیجے جانے کے پورے معاملے کی بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اب مجموعی صورتحال کا جو بھی تجزیہ کیاجائے ، نتیجہ اس کے سوااورکچھ برآمد نہیںہوگاحکومت کے مطلب اور مفاد کی راہ میں جو بھی مزاحمت ثابت ہوا اسے حکومت اپنے راستے سے ہٹائے گی۔کسی افسر پر کچھ الزام نہیںہوگاتو اس سے خاموشی سے استعفیٰ لے لیاجائے گا جیسا ارجت پٹیل کے ساتھ کیاگیا اورکسی ا فسر کو تنازع میں گھیر کرراستے سے ہٹایاجائیگا جیسا آلوک ورما کے ساتھ ہوا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK