Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایواکاڈو کی کاشت کسانوں کے لیے آمدنی بڑھانے کا نیا ذریعہ بن رہی ہے: مودی

Updated: August 30, 2026, 7:04 PM IST | New Delhi

وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ کچھ وقت پہلے تک ایواکاڈو پھل کو بہت کم لوگ جانتے تھے اور اس کی مانگ بھی محدود تھی، لیکن آج یہ لوگوں کی ڈائننگ ٹیبل تک پہنچ چکا ہے۔

Avacado.Photo:INN
ایواکاڈو۔ تصویر:آئی این این

وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ کچھ وقت پہلے تک ایواکاڈو پھل کو بہت کم لوگ جانتے تھے اور اس کی مانگ بھی محدود تھی، لیکن آج یہ لوگوں کی ڈائننگ ٹیبل تک پہنچ چکا ہے۔ مودی نے اپنے ماہانہ پروگرام من کی بات  میں اتوار کے روز ملک میں ایواکاڈو کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور اس کی کاشت سے کسانوں کو ہونے والے فائدے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ وقت پہلے تک ایواکاڈو کو بہت کم لوگ جانتے تھے اور اس کی مانگ بھی محدود تھی، لیکن آج یہ لوگوں کی ڈائننگ ٹیبل تک پہنچ چکا ہے۔ صحت کے تئیں بڑھتی ہوئی بیداری کے ساتھ یہ پریمیم مارکیٹ کی پسند بن رہا ہے اور کسانوں کے لیے بھی آمدنی بڑھانے کا ایک نیا موقع پیدا کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:طالبان، کابل میں امریکی سفارت خانہ کھولنے کا خواہاں

انہوں نے آندھرا پردیش کے کڈپہ کے کسان وردراج کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہ کئی سالوں سے اپنے کھیت میں ٹماٹر اور کیلے کی کاشت کر رہے تھے۔ ایک دن انہوں نے اپنے دوستوں کے کھیت میں ایواکاڈو کی فصل دیکھی اور اس کے بعد یوٹیوب کے ذریعے اس کی کاشت کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ وردراج اب تک تقریباً چار ٹن ایواکاڈو کی پیداوار حاصل کر چکے ہیں اور مقامی دکانوں کو براہِ راست اس کی سپلائی کر رہے ہیں۔ نئی فصل، سائنسی مشورے اور براہِ راست مارکیٹنگ نے ان کے چھوٹے سے کھیت کی آمدنی میں بڑی تبدیلی لادی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:ششی کپور کا شمار اُن فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے ہالی ووڈ میں بھی اپنی پہچان بنائی

مودی نے تمل ناڈو کے کوڈائی کنال کے کسان چندرشیکھرن کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ چندرشیکھرن نے نصف ہیکٹر زمین پر ایواکاڈو کی کاشت شروع کی اور انہیں اس کے اچھے دام مل رہے ہیں، جس سے ان کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح کرناٹک کے چکمگلورو میں کچھ کسانوں نے کافی کے باغات کے درمیان ایواکاڈو کے پودے لگائے ہیں۔ اس سے انہیں کافی اور کالی مرچ کے ساتھ اضافی آمدنی کا موقع مل رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ شہروں کے ریستورانوں میں اکثر ایواکاڈو ٹوسٹ کا چرچا ہوتا ہے، لیکن ملک کے کسانوں نے اسی ایواکاڈو کے ذریعے اپنی آمدنی بڑھانے کا نیا راستہ تلاش کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں پیدا ہونے والے ایوکاڈو سے جہاں لوگوں کے کھانے کا ذائقہ بڑھ رہا ہے، وہیں کسانوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK