Inquilab Logo Happiest Places to Work

۲۰۲۷ء اب صرف ۲۰؍ سال دور، اصلاحات کے لیے مزید تعاون ضروری: سیتارمن

Updated: August 30, 2026, 8:05 PM IST | Chicago

مرکزی وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا ہے کہ ۲۰۴۷ء ہندوستان کو ترقی یافتہ ملک بنانے کا ہدف ہے اور اب یہ منزل مشکل سے ۲۰؍ سال دور رہ گئی ہے۔ ایسے میں ملک میں جس رفتار اور پیمانے پر اصلاحات کی جا رہی ہیں، انہیں کامیاب بنانے کے لیے مزید بڑے پیمانے پر تعاون کی ضرورت ہے۔

Nirmala Sitharaman.Photo:X
نرملا سیتارمن۔ تصویر:ایکس

مرکزی وزیرِ خزانہ  نرملا سیتارمن  نے کہا ہے کہ ۲۰۴۷ء  ہندوستان کو ترقی یافتہ ملک بنانے کا ہدف  ہے اور اب یہ منزل مشکل سے ۲۰؍ سال دور رہ گئی ہے۔ ایسے میں ملک میں جس رفتار اور پیمانے پر اصلاحات کی جا رہی ہیں، انہیں کامیاب بنانے کے لیے مزید بڑے پیمانے پر تعاون کی ضرورت ہے۔
امریکہ میں ہندوستانی تارکینِ وطن سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ ملک کو باصلاحیت اور وسیع تجربہ رکھنے والے افراد کی زیادہ حمایت درکار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے لوگوں کے تعاون کی بھی ضرورت ہے جو بھارت کو آگے لے جانے کے لیے نئے خیالات اور نئے طریقے پیش کر سکیں۔ شکاگو میں ہندوستانی قونصل خانے کے دفتر میں منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے نرملا سیتارمن نے کہا کہ سب سے بڑھ کر  سرمایے کی شکل میں تعاون  کی ضرورت ہے، کیونکہ کسی بھی ملک کی تمام ترقیاتی خواہشات اور اہداف کو پورا کرنے کے لیے سرمایہ انتہائی اہم ہوتا ہے۔
 وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ حکومت نے ملک کے لیے ایک اہم مالیاتی ہدف مقرر کیا ہے، جس کے تحت ۲۰۳۰ء تک قرض کو جی ڈی پی کے ۵۰؍ فیصد  کی سطح تک لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اسی سمت میں مسلسل کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق دنیا کی کئی ترقی یافتہ معیشتوں پر اب بھی ایسا قرض ہے جو ان کی جی ڈی پی کے ۲۰۰؍ فیصد سے زیادہ ہے۔
سیتارمن نے کہا کہ حکومت نے مالیاتی خسارے کے حوالے سے بھی مالیاتی نظم و ضبط کا ایک واضح راستہ اختیار کیا ہے اور مقررہ اہداف کے مطابق پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق مالی سال ۲۶۔۲۰۲۵ء تک حاصل کیے جانے والے حتمی ہدف کو حاصل کر لیا گیا ہے۔   وزیرِ خزانہ نے کہا کہ دنیا نے نریندر مودی کی مالیاتی سمجھ بوجھ کو پہلے گجرات کے وزیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے اور اب ملک کے وزیرِ اعظم کی حیثیت سے دیکھا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ششی کپور کا شمار اُن فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے ہالی ووڈ میں بھی اپنی پہچان بنائی

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی  کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری  آ رہی ہے، لیکن یہ بہتری قواعد و ضوابط کو نظر انداز کرکے حاصل نہیں کی جا رہی۔ اسی طرح سماجی بہبود کے لیے ضروری وسائل کو روک کر بھی یہ کامیابی حاصل نہیں کی جا رہی، بلکہ معیشت کے مناسب اور ذمہ دارانہ انتظام کے ذریعے ملک کی مالی پوزیشن بہتر ہو رہی ہے۔
 نرملا سیتارمن نے کہا کہ عالمی سطح پر سپلائی میں مشکلات کے باوجود ہندوستان میں  کھاد کی کمی پیدا نہیں ہونے دی گئی۔  انہوں نے بتایا کہ حکومت نے عالمی منڈیوں کو مسلسل یہ معلومات فراہم کیں کہ ہندوستان کو کتنی مقدار میں کھاد درکار ہے۔ اس منصوبہ بندی کی وجہ سے کسانوں کو درپیش ممکنہ مشکلات کو کم کیا جا سکا۔
وزیرِ خزانہ کے مطابق عالمی سپلائی میں کمی کے باعث خام تیل، ایل پی جی اور کھاد سمیت کئی اہم اشیا کی فراہمی کے حوالے سے بڑے چیلنجز سامنے آئے۔ ان اشیا کو ہندوستان پہنچانے والے بحری جہازوں کو بھی مناسب انشورنس کور حاصل کرنے میں مشکلات پیش آئیں، جس کے نتیجے میں  رسک پریمیم میں نمایاں اضافہ ہو گیا۔
سیتارمن نے کہا کہ حکومت نے بجٹ میں کیے گئے ایک اعلان کے ذریعے ایسا فنڈ فراہم کیا جس سے شپنگ کمپنیوں کو خطرات کی وجہ سے ادا کرنا پڑنے والے اضافی انشورنس پریمیم میں مدد مل سکے۔ ان کے مطابق اس اقدام کا فائدہ براہِ راست ہندوستانی کسانوں، ہندوستانی خاندانوں اور لاجسٹکس کے شعبے  کو پہنچا اور انہیں عالمی سپلائی بحران کے اضافی بوجھ سے بڑی حد تک محفوظ رکھا جا سکا۔

یہ بھی پڑھئے:طالبان، کابل میں امریکی سفارت خانہ کھولنے کا خواہاں

 وزیرِ خزانہ نے کہا کہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے باعث کئی ممالک کی اقتصادی منصوبہ بندی اور مالی حساب کتاب بری طرح متاثر ہوا۔ تاہم ان کے مطابق ہندوستان نے اپنی مختلف حدود اور چیلنجز کے باوجود اس مشکل عالمی ماحول میں اپنی معیشت کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ اپنے شہریوں کے مفادات اور ضروریات کا تحفظ  کیا ہے۔ نرملا سیتارمن نے اس بات پر زور دیا کہ ۲۰۴۷ء کے ترقی یافتہ ہندوستان کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے حکومت، کاروباری شعبے، سرمایہ کاروں، ماہرین اور بیرونِ ملک مقیم ہندوستانیوں سمیت تمام طبقات کی مسلسل حمایت اور شراکت داری ضروری ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK