Inquilab Logo Happiest Places to Work

صارفین کو انڈے اور چکن کیوں مہنگے مل رہے ہیں؟ پولٹری سیکٹر کی تشویش میں اضافہ

Updated: August 30, 2026, 9:02 PM IST | New Delhi

ملک بھر میں اس سال انڈے اور چکن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جس سے عام صارفین کے لیے پروٹین کے یہ اہم ذرائع مہنگے ہو گئے ہیں۔ موسم کی خراب صورتحال اور موسمی سپلائی میں دباؤ کے علاوہ پولٹری سیکٹر میں بڑھتی ہوئی فیڈ کی لاگت بھی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بن گئی ہے۔

Eggs.Photo:INN
انڈے۔ تصویر:آئی این این

ملک بھر میں اس سال  انڈے اور چکن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ  دیکھنے کو ملا ہے، جس سے عام صارفین کے لیے پروٹین کے یہ اہم ذرائع مہنگے ہو گئے ہیں۔ موسم کی خراب صورتحال اور موسمی سپلائی میں دباؤ کے علاوہ پولٹری سیکٹر میں بڑھتی ہوئی  فیڈ کی لاگت  بھی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بن گئی ہے۔ پولٹری فیڈ میں استعمال ہونے والی  مکئی، سویا بین میل اور دیگر خام مال  کی قیمتوں میں اضافے نے مرغیوں کی پرورش اور انڈوں کی پیداوار کی لاگت بڑھا دی ہے، جس کا اثر بالآخر صارفین کی جیب پر پڑ رہا ہے۔
 رپورٹس کے مطابق اس سال پولٹری فیڈ کی قیمت تقریباً  ۱۵؍ فیصد بڑھ کر۴۴۰۰؍ فی کوئنٹل  تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ایک سال پہلے یہ تقریباً۳۶۰۰؍فی کوئنٹل تھی۔ دوسری جانب سویا بین میل کی قیمت تقریباً  ۶۲؍ہزارسے۶۵؍ہزار فی ٹن  کے درمیان برقرار ہے۔ صنعت سے وابستہ افراد کے مطابق نئی فصل آنے سے پہلے تقریباً  ۱۵؍لاکھ ٹن  کی کمی کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:دیویندر فرنویس کے دہلی جانےکی خبر محض افواہ ہے یا اس کے آثار نظر آ رہے ہیں

ملک میں مکئی کی پیداوار اچھی رہنے کے باوجود اس کی طلب کئی شعبوں میں بڑھ گئی ہے۔ خاص طور پر  ایتھنول بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے مکئی کی بڑھتی کھپت  نے اس کی دستیابی کے لیے مقابلہ بڑھا دیا ہے۔ مکئی پولٹری فیڈ میں توانائی کا اہم ذریعہ ہے، جبکہ سویا بین میل پروٹین فراہم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں خام مال کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی پولٹری فارمز کی مجموعی لاگت پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔
جب مکئی اور سویا بین مہنگے ہوتے ہیں تو فیڈ تیار کرنے والی کمپنیوں کی لاگت بڑھ جاتی ہے، جس کے بعد پولٹری فارمرز کے لیے  برائلر مرغیوں کی پرورش اور انڈے دینے والی مرغیوں کو پالنے کا خرچ  بھی بڑھ جاتا ہے۔ اگر کسانوں کو مرغیوں یا انڈوں کی فروخت پر مناسب قیمت نہ ملے تو ان کا منافع کم ہو جاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں پروڈیوسر یا تو پیداوار کم کر سکتے ہیں یا بڑھتی ہوئی لاگت کا کچھ حصہ صارفین تک منتقل کر سکتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں خوردہ قیمتوں پر دباؤ بڑھتا ہے۔
 فیڈ کی بڑھتی قیمتوں کا اثر حالیہ مارکیٹ کی قیمت  میں بھی نظر آیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق جولائی میں حیدرآباد میں فارم لیول پر انڈوں کی قیمتوں میں  ماہانہ بنیاد پر تقریباً ۱۵؍ فیصد  اور سالانہ بنیاد پر تقریباً ۴۰؍ فیصد  اضافہ ہوا۔ کئی بازاروں میں خردہ انڈے کی قیمت ساڑھے ۸؍ سے۹؍ فی انڈا  تک پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔شدید گرمی نے برائلر مرغیوں کی پیداوار کو بھی متاثر کیا، جس کے نتیجے میں چکن کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔پولٹری فیڈ میں مکئی اور سویا بین میل انتہائی اہم اجزا ہیں۔ مکئی مرغیوں کو توانائی فراہم کرتی ہے، جبکہ سویا بین میل پروٹین کا بنیادی ذریعہ ہے۔ صنعتی اندازوں کے مطابق پولٹری فیڈ میں مکئی کا حصہ تقریباً ۵۵؍ سے ۶۰؍ فیصد  تک ہو سکتا ہے، جبکہ پروٹین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بنیادی طور پر سویا بین میل استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے اگر مکئی یا سویا کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر مرغیوں کی پرورش کی لاگت، انڈوں کی پیداوار اور چکن کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:رشی کپور نے اپنی پہلی ہی فلم’میرا نام جوکر‘ کیلئے نیشنل ایوارڈ جیتا تھا

موجودہ صورتحال سے واضح ہے کہ انڈے اور چکن کی قیمت صرف مقامی طلب و رسد سے طے نہیں ہوتی بلکہ  مکئی، سویا بین، فیڈ کی قیمت، موسم، ایتھنول کی طلب اور پولٹری پیداوار  جیسے کئی عوامل اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر فیڈ کی قیمتیں بلند رہتی ہیں اور سپلائی پر دباؤ برقرار رہتا ہے تو آنے والے دنوں میں پولٹری مصنوعات کی قیمتیں بھی دباؤ میں رہ سکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK