• Wed, 04 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پیروں کی نگہداشت: چند باتوں کا خیال رکھئے

Updated: November 04, 2026, 4:31 PM IST | Mumbai

چہرے اور ہاتھوں کی خوبصورتی کا خیال تو تقریباً ہر کوئی رکھتا ہے لیکن اکثر پیروں کی صفائی کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے جس کے باعث پاؤں سیاہ، خشک اور بے رونق نظر آنے لگتے ہیں۔

Along with cleaning your feet, moisturize them as well. Photo: INN
پیروں کی صفائی کے ساتھ موئسچرائز بھی کریں۔ تصویر: آئی این این

چہرے اور ہاتھوں کی خوبصورتی کا خیال تو تقریباً ہر کوئی رکھتا ہے لیکن اکثر پیروں کی صفائی کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے جس کے باعث پاؤں سیاہ، خشک اور بے رونق نظر آنے لگتے ہیں۔ دھول مٹی، دھوپ، جلد کی خشکی اور جوتوں کی رگڑ پیروں کی رنگت متاثر کرسکتی ہے۔ تاہم، چند آسان گھریلو طریقوں سے پیروں کی صفائی اور نرمی برقرار رکھی جاسکتی ہے، ذیل میں ملاحظہ کیجئے:

دہی اور جئی کا پیک:

پیروں کی خشک اور کھردری جلد کو نرم بنانے کے لئے دہی اور جئی کا آمیزہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ۲؍ بڑے چمچے سادہ دہی میں ایک بڑا چمچہ باریک پسا ہوا جئی شامل کرکے پیسٹ بنائیں۔ اس آمیزے کو صاف پیروں پر لگائیں اور ۵؍ سے ۱۰؍ منٹ بعد پانی سے دھو لیں۔ دہی میں موجود لیکٹک ایسڈ جلد کی سطح پر ہلکا اثر ڈال سکتا ہے، جبکہ جئی جلد کو نرم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اپنی ترقی کی جدوجہد کریں، دوسروں کی ترقی کا ذریعہ بنیں

ٹماٹر اور بیکنگ سوڈا کا پیک:

ٹماٹر کے رس اور بیکنگ سوڈا کو پیروں کی صفائی کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لئے ۲؍ چھوٹے چمچے ٹماٹر کا رس، ۲؍ چھوٹے چمچے بیکنگ سوڈا اور چند قطرے ناریل کے تیل ملا کر پیک تیار کریں اور اسے پیروں پر لگائیں۔ ۵؍ سے ۱۰؍ منٹ بعد دھو لیں۔ حساس جلد والی خواتین کو اس پیک سے پرہیز کرنا چاہئے۔

اِن باتوں کا بھی خیال رکھیں:

پیروں کو روزانہ دھونا، آرام دہ جوتے پہننا اور خشک جلد پر موئسچرائزر لگانا فائدہ مند ہے۔

دھوپ میں نکلتے وقت پیروں کے کھلے حصوں پر سن اسکرین بھی استعمال کریں۔

یاد رکھیں کہ پیروں کی ہر قسم کی سیاہی میل کی وجہ سے نہیں ہوتی۔ اگر رنگت مسلسل گہری ہو رہی ہو یا اس کے ساتھ خارش، درد یا جلد میں تبدیلی محسوس ہو تو ماہرِ امراضِ جلد سے مشورہ کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK