• Wed, 04 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سوال: کون راہل؟، جواب: رام لیلا والا، سمجھے؟

Updated: November 04, 2026, 4:39 PM IST | Mumbai

وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار گودی میڈیا کے ایک صحافی کے سوال کے جوا ب میں رعونت سے پوچھا تھا ’’کون راہل؟‘‘ اتوار کو رام لیلا میدان میں منعقد کی گئی انڈیا اتحاد کی ریلی کی کامیابی کے بعد مودی جی کو پتہ چل گیا ہوگا کہ راہل کون ہیں۔

Rahul Gandhi. Picture: INN
راہل گاندھی۔ تصویر:آئی این این

خوش فہمی یا اپنی اہمیت کا مبالغہ آمیز احساس انسان کو اپنی خامیوں اور کمزوریوں سے بے خبرکردیتا ہے۔خوش فہمی اچھی عادت نہیں ہے لیکن اپنے حریف کو اپنے سے کمتر سمجھنا خوش گمانی سے بھی زیادہ نقصان دہ ہے۔ اپنے دشمن کو حقیر سمجھنے والا نرگسیت کا شکار شخص اپنی کمزوریوں سے بھی بے خبر رہتا ہے اور اپنے دشمن کی طاقت سے بھی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار گودی میڈیا کے ایک صحافی کے سوال کے جوا ب میں رعونت سے پوچھا تھا’’کون راہل؟‘‘ اتوار کو رام لیلا میدان میں منعقد کی گئی انڈیا اتحاد کی ریلی کی کامیابی کے بعد مجھے یقین ہے کہ مودی جی کو پتہ چل گیا ہوگا کہ راہل کون ہیں۔راہل اس وقت کروڑوں ہندوستانیوں  کے دلوں کی دھڑکن بن گئے ہیں۔ رام لیلا گراؤنڈ کی رَیلی میں انڈ یا اتحاد کی بیس پارٹیوں کے لیڈروں نے شرکت کی لیکن کسی کو کسی قسم کا شبہ نہیں تھاکہ بارات کا دولہا کون تھا۔
پچھلے پندرہ برسوں سے مرکز اور ریاستوں میں کانگریس مسلسل روبہ زوال ہے۔ کبھی جو پارٹی پورے ملک پر راج کرتی تھی اس وقت صرف تین صوبوں میں سمٹ کررہ گئی ہے۔ اگر راہل گاندھی کی بڑھتی مقبولیت کو پارٹی کی زبوں حالی کے تناظر میں دیکھیں تو ان کا کارنامہ کچھ زیادہ ہی لائق تحسین نظر آئے گا۔ بی جے پی راہل کو موروثی سیاست کی علامت قرار دے کر اور ان کی سادگی کا مذاق اڑا کریہ سمجھتی تھی کہ ان کا حوصلہ توڑ دے گی۔ ان پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے مگر وہ نہیں ٹوٹے۔ مرکزی جانچ ایجنسیوں کو ان کے پیچھے لگایا گیا، ان کو لوک سبھا کی رکنیت اور سرکاری بنگلہ دونوں سے محروم کردیا گیا، ان کے قریبی دوستوں کو جعلی معاملات میں پھنسایا گیا یہاں تک کہ کانگریس کے قد آور لیڈروں پر دباؤ ڈال کربغاوت کیلئے اکسایا گیا۔ جس شخص نے اپنے والد اور دادی دونوں کی شہادت دیکھی ہو اسے ایسے مصائب بھلا کیا پریشان کرتے۔ ایسے وقت میں جب بی جے پی کا   غلبہ قائم ہوچکا تھااور جب کسی اور اپوزیشن لیڈر میں مودی اور امیت شاہ کے خلاف زبان کھولنے کی جرأت نہیں تھی اس وقت بھی راہل مودی سرکار کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرتے رہے۔ ۲۰۱۹ء میں رافیل طیاروں کی خریداری میں ہوئے بڑے گھوٹالے کو ایشو بنانا ان کیلئے گھاٹے کا سودا بن گیا اور لوک سبھا الیکشن میں کانگریس بمشکل ۵۲؍ سیٹیں جیت سکی۔ دراصل بی جے پی کے زرخرید میڈیا نے ہندوستان کے شہریوں کے بڑے طبقے کا برین واش کرکے انہیں ایسا مودی بھکت بنا دیا جو’’ چوکیدار ہی چور ہے‘‘ کانعرہ ہضم نہیں کرسکے۔

یہ بھی پڑھئے:یوپی انتخابات: لیڈروں کی اگلی نسل میدان میں

بی جے پی اور گودی میڈیاراہل کو ایک غیر سنجیدہ اور لاابالی سیاستداں بناکرایک عرصے تک عوام کو ان کے خلاف ورغلاتا رہا۔ لیکن وہ ہندوستان کی سیاست میں اپنی زمین مضبوط کرنے اور اپنی پارٹی کی کھوئی ہوئی زمین واپس حاصل کرنے کے لئے انتھک محنت کرتے رہے۔چار سال قبل انہوں نے ایک ایسا قدم اٹھایا جو ان کے سیاسی کریئر کاسنگ میل بن گیا۔ بی جے پی کی نفرت اور مذہبی تقسیم کی سیاست کا جواب دینے کی نیت سے راہل نے کنیاکماری سے کشمیر تک ’’ بھارت جوڑو یاترا‘‘کی۔ نازونعم میں پلے راہل نے جنہیں مودی جی اور امیت شاہ طنزاً شہزادہ کہتے ہیں ۴؍ہزار کلو میٹر کا طویل اور کٹھن سفر پیدل طے کیا۔ 
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمارکو اس بات کا کریڈٹ ملنا چاہئے کہ انہوں نے انڈیا الائنس کو، جو انتشار کے دہانے پر تھا ، متحد کردیا   ہے۔ تمام سیکولر پارٹیوں کو یہ ادراک ہوگیا ہے کہ یہ ان کی بقا کی جنگ ہے جس میں انہیں پہلے اپنے مشترکہ دشمن متعصب اور بے ایمان الیکشن کمیشن کو ہرانا ہوگا۔ رام لیلا گراؤنڈ کی کامیاب ریلی اور کھرگے کے لان پر ہوئے گیانیش کمار کے عوامی مواخذہ کی کامیابی کے بعد امید کی جانی چاہئے کہ اگلے سال سات اہم صوبوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں اپوزیشن پارٹیاں راہل گاندھی کی قیادت میں متحد ہوکر بی جے پی کے سامنے سخت چیلنج پیش کریں گی۔  
راہل ایک اچھے اور موثر مقرر نہ سہی لیکن ان کی باتیں دلوں کو چھوتی ہیں کیونکہ وہ عام لوگوں کے دلوں کی بات کرتے ہیں۔ راہل اپنے آنجہانی والد کی طرح  شریف النفس، وضعدار اور منکسرالمزاج انسان ہیں۔ جولائی میں ،  امتحانات میں کرپشن کے خلاف آندولن کررہے نوجوان طلبہ کا مطالبہ تسلیم کرکے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو مارچنگ آرڈردینے کے پیچھے بی جے پی کاگیم پلان کاکروچ جنتا پارٹی کو حکومت مخالف طاقت بناکر پیش کرنا اور راہل گاندھی کی سیاست کو غیر اہم اور  Irrelevant بناناتھا۔ پردھان کے استعفے کے بعد ابھیجیت دپکے اور ان کی پارٹی کے لیڈران اور بائیں بازو کی طلبہ یونین آئیسا کی سربراہ نیہا بورا راتوں رات مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچ گئے لیکن بی جے پی کے گیم پلان کا دوسرا حصہ ناکام ہوگیا۔ جب ستمبر کے اواخر میں انڈین ایکسپریس نے یہ سنسنی خیز انکشاف کیا کہ گیانیش کمارنے اپنے دو ساتھی الیکشن کمشنروں کی مخالفت کے باوجود ایس آئی آر کے متعلق متعددایسے  فیصلے کئے جن کا مقصد بڑی تعداد میں حقیقی ووٹروں کو ان کے جائز حق رائے دہی سے محروم کرنا تھا تو لوگوں کو احساس ہوا کہ راہل گاندھی واحد شخص تھے جو پچھلے دوسال سے انتخابی عمل میں بے ظابطگیوں اورووٹرز لسٹ میں دھاندلیوں پر مسلسل آواز اٹھارہے تھے۔ ووٹ چوری کے راہل گاندھی کے الزام کو اخبار کی رپورٹ سے بہت بڑی طاقت اور قبولیت مل گئی۔ جب یہ خبر منظر عام پر آئی کہ گیانیش کمار نے بی جے پی کی مدد کی خاطرتیرہ کروڑ سے زیادہ ووٹروں کے ناموں کٹوادیئے تو وہ لوگ بھی راہل کی بات دھیان سے سننے لگے جو ماضی میں بی جے پی کے ووٹر ہوا کرتے تھے۔ ممتا بنرجی نے تو یہ دعویٰ کردیا ہے کہ وہ ہاری نہیں ہیں انہیں چوری سے ہرایا گیا ہے اسی لئے بنگال کے حالیہ اسمبلی الیکشن کو کینسل کیا جائے۔ راہل کی کامیابی کا ثبوت یہ بھی ہے کہ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بھی یہ رونا رورہے ہیں کہ ان کے صوبے میں سوا کروڑ ہندو ووٹروں کے نام کاٹ دیئے گئے ہیں۔  
راہل نے بی جے پی کے خیمے میں کھلبلی یقیناً مچادی ہے۔ مودی اور امیت شاہ دونوں تھوڑے نروس نظر آرہے ہیں۔ پیر کے دن امیت شاہ کو اپنے محل سے باہر نکل کر حیدرآباد میں ’’جمہوریت بچاؤ‘‘ پدیاترا کرتے دیکھا گیا۔ دلی میں ڈبل نہیں ٹرپل انجن سرکارہے۔ اب کوئی بی جے پی سے پوچھے کہ تمام اختیارات جب اس کے ہاتھوں میں ہیں تو جمہوریت کو خطرہ بھلا کس سے ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے پچھلے ہفتے ایک اور نئی مہم ’’مودی کہیں نہیں جارہے ہیں‘‘ شروع کی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ جب مودی بھکت یہ نعرہ لگاتے ہیں تو اس سے مودی کی خوداعتمادی نہیں بلکہ ان کا خوف جھلکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK