• Wed, 04 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اپنی ترقی کی جدوجہد کریں، دوسروں کی ترقی کا ذریعہ بنیں

Updated: November 04, 2026, 4:28 PM IST | Ansari Ayesha Abshar Ahmed | Mumbai

جو خواتین گھریلو ذمہ داریاں نبھاتی ہیں ان کی محنت بھی قابل ِ قدر ہے اس کے ساتھ انہیں اپنی دلچسپیوں اور صلاحیتوں کو آگے بڑھانے کے مواقع بھی ملنے چاہئیں۔ ایک باشعور عورت اپنے حقوق پہچانتی ہے، اپنے فرائض ادا کرتی ہے اور دوسروں کے حقوق کا احترام بھی کرتی ہے تو سماج بہتری کی طرف گامزن ہوتا ہے۔

When a woman creates ease for another woman, new avenues for cooperation, trust, and progress open up in society. Photo: INN
جب عورت دوسری عورت کیلئے آسانیاں پیدا کرتی ہے تو معاشرے میں تعاون، اعتماد اور ترقی کے نئے راستے کھلتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

عورت کسی بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ وہ بیٹی، بہن، بیوی، ماں، استاد اور ایک باشعور شہری کی حیثیت سے معاشرہ کو سنوارنے میں اپنا رول ادا کرتی ہے لیکن ان تمام رشتوں کے ساتھ عورت کی اپنی ایک الگ شخصیت، اپنی سوچ، اپنے خواب اور اپنی صلاحیتیں بھی ہوتی ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ عورت اپنی ذات کو پہچانے، اپنی قدر و منزلت کو سمجھے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کی کوشش کرے۔

اپنے آپ کو پہچانیں اور اپنی قدر کریں

عورت کو اپنی پہچان بنانے کے لئے صرف دوسروں کی تعریف یا حوصلہ افزائی کا انتظار نہیں کرنا چاہئے بلکہ اپنے علم، کردار، محنت اور قابلیت سے اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرنا چاہئے۔ دوسروں کی عزت کرنا ضروری ہے۔ لیکن اپنی عزت کرنا اور اپنے وجود کی قدر پہچاننا بھی اتنا ہی اہم ہے۔

بلند حوصلے اور بڑے خواب

اس میں کوئی شک نہیں کہ زندگی میں کامیابی کی کوئی آخری حد نہیں ہے۔ انسان کو ہر کامیابی کے بعد مزید سیکھنے، آگے بڑھنے اور اپنے مقاصد کرنے کی کوشش کرنا چاہئے۔ خواتین کو چاہئے کہ وہ اپنی تعلیم، اپنے خوابوں اور اپنی صلاحیتوں کو اہمیت دیں۔ اگر کوئی لڑکی تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے محنت اور مستقل مزاجی سے آگے بڑھنا چاہئے۔ اگر کوئی خاتون اپنی مہارتوں میں اضافہ کرنا چاہتی ہیں تو اسے نئے مواقع تلاش کرنے چاہئیں۔ مشکلات اور ناکامیاں زندگی کا حصہ ہیں لیکن انہیں اپنی منزل کی راہ میں مستقل رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہئے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان ناکامی سے سبق سیکھے، دوبارہ کوشش کرے اور اپنے حوصلے کو برقرار رکھے۔

یہ بھی پڑھئے: عورت کے اندر ایک پوری دُنیا، پوری کائنات ہوتی ہے

عمل اور مسلسل جدوجہد

یہ بات بھی جان لینی چاہئے کہ صرف خواب دیکھنا کافی نہیں ہوتا بلکہ انہیں حقیقت میں بدلنے کیلئے محنت بھی کرنی بھی ضروری ہے۔ زندگی میں تبدیلی خواہشات سے نہیں بلکہ مسلسل کوشش، درست فیصلوں اور عملی اقدامات سے آتی ہے۔ خواتین کو چاہئے کہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے، نئی مہارتیں سیکھنے، اپنے علم میں اضافہ کرنے اور ضرورت کے مطابق مالی خود مختاری حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ جو خواتین گھریلو ذمہ داریاں نبھاتی ہیں ان کی محنت بھی قابل ِ قدر ہے اس کے ساتھ انہیں اپنی دلچسپیوں اور صلاحیتوں کو آگے بڑھانے کے مواقع بھی ملنے چاہئیں۔ ایک باشعور عورت اپنے حقوق پہچانتی ہے، اپنے فرائض ادا کرتی ہے اور دوسروں کے حقوق کا احترام بھی کرتی ہے تو سماج بہتری کی طرف گامزن ہوتا ہے اور آنے والی نسلوں کا مستقبل بہتر ہونے کی امید ہوتی ہے۔

بلند پرواز

خواتین کو چاہئے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو پہچان کر بلند اہداف اختیار کریں۔ معاشرے کی منفی سوچ کو اپنے خوابوں کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دیں۔ اس بات کا یقین رکھیں کہ منزل تک پہنچنا مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ تعلیم، سائنس، تدریس، تحقیق، کاروبار، سماجی خدمات اور دیگر شعبوں میں خواتین اپنی قابلیت کے ذریعے اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ ایک طالبہ اپنی محنت سے کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔ ایک ماں بچوں میں اچھے اخلاق اور خود اعتمادی پیدا کرسکتی ہے۔ جب عورت دوسری عورت کے لئے آسانیاں پیدا کرتی ہے تو معاشرے میں تعاون، اعتماد اور ترقی کے نئے راستے کھلتے ہیں۔

دوسروں کی راہیں روشن کرنا

تعلیم اور آنے والی نسلوں کی تعمیر میں خواتین کا رول سب سے اہم ہے۔ تعلیم یافتہ اور باشعور عورت نہ صرف اپنی زندگی بہتر بناتی ہے بلکہ اپنے معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ عورت کی حقیقی کامیابی اس وقت مزید بامعنی ہوجاتی ہے جب وہ اپنی ترقی کے ساتھ دوسروں کی ترقی کا بھی ذریعہ بنتی ہے اور اس بات انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مل جل کر ترقی کرنے ہی سے ایک بہتر اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل پاسکتا ہے۔

ایک نئے عزم کی ضرورت

خواتین عہد کریں کہ ہم اپنے علم میں اضافہ کریں گی۔ اپنی عزتِ نفس کی حفاظت کریں گی۔ ہر روز اپنی بہتری کے لئے کم از کم ایک عملی قدم اٹھائیںگی۔ اپنی بیٹیوں کو تعلیم اور خود اعتمادی کی اہمیت سمجھائیں گی اور دوسری خواتین کی کامیابی میں ان کا ساتھ دیں گی۔ عہد کریں کہ حالات جیسے بھی ہوں ہم امید، محنت اور حوصلے کا دامن نہیں چھوڑیں گے۔ ہم اپنے علم، کردار اور صلاحیتوں کو اپنے خاندان، معاشرے اور ملک و قوم کی بہتری کے لئے استعمال کریں گے۔ یاد رکھیں جب ایک عورت اپنی قدر پہچان لیتی ہے، اپنے علم کو طاقت بناتی ہے اور اپنے خوابوں کے لئے عملی کوشش کرتی ہے تو آنے والی نسلوں کے لئے بھی نئی راہیں کھولتی ہے۔

(مضمون نگار انجمن اسلام سیف طیب جی گرلز ہائی اسکول کی معلمہ ہیں)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK